سرکاری افسران پھنس گئے ،چیف جسٹس نے وارننگ دیدی
05 اپریل 2018 (18:17)

اسلام آباد:چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس ثاقب نثار نے کہا ہے کہ دنیا نے ایمانداری سے ترقی کی، دوسری قومیں ہمارے دینی اصول اپنا کر آگے نکل گئیں، تحقیقات کا مقصد کسی کو تکلیف دینا نہیں، ہم نے کسی کی تضحیک کےلئے کارروائی شروع نہیں کی، سچ نہ بولنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔ جمعرات کو سپریم کورٹ میں سرکاری افسران کی دہری شہریت سے متعلق کیس کی سماعت ہوئی، جسے غیر معینہ مدت تک کےلئے ملتوی کر دیا گیا۔

ڈی جی ایف آئی اے نے عدالت میں موقف اختیار کیا کہ 78افسران کا موقف ہے کہ انہوں نے اپنی شہریت ظاہر کی تھی جبکہ 24افسران کا کہنا ہے کہ ان سے نہیں پوچھا گیا، بعض ڈاکٹرز کہتے ہیں کہ وہ دوسرے ممالک میں پیدا ہوئے جبکہ کچھ افسران کا موقف ہے کہ وہ کنٹریکٹ ملازمین ہیں۔ چیف جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ ہم نے کسی کی تضحیک کےلئے کارروائی شروع نہیں کی، یہ جاننا ضروری تھا کہ دوہری شہریت والے کہاں کہاں تعینات ہیں۔

انہوں نے کہا کہ دنیا نے ایمانداری سے ترقی کی، دوسری قومیں ہمارے دینی اصول اپنا کر آگے نکل گئیں، کچھ ججز دہری شہریت رکھتے ہیں انہیں نکالا تو نہیں گیا، ہماری تحقیقات کا مقصد کسی کو تکلیف دینا نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہری شہریت کے معاملے پر کم لوگوں نے عدالت پر اعتماد کیا، سچ نہ بولنے والوں کے خلاف کارروائی ہو گی۔


ای پیپر