صحافت بنی عبادت!
05 اپریل 2018 2018-04-05

لاہور پریس کلب کے گزشتہ انتخابات میں کمال کی قیادت کو اہل صحافت نے منتخب کیا جو اس بات کا جیتا جاگتا ثبوت ہے کہ لاہور کے صحافیوں میں ”کالی بھیڑوں“ کی تعداد اب کم ہوتی جارہی ہے ، ورنہ ایسے لوگوں کو ہرگز منتخب نہ کیا جاتا جو ہر قسم کے ذاتی مفادات کوکوسوں پرے کرکے صرف اور صرف اجتماعی مفادات پر یقین رکھتے ہیں اوراس کے لیے ایسی دلیرانہ جدوجہد کرتے ہیں جس کی اس سے قبل کوئی مثال نہیں ملتی۔ لاہور پریس کلب کے صدر اعظم چوہدری کو کتنے برسوں سے میں جانتا ہوں، کوئی ایک شخص آج تک صحافت کے علاوہ بھی کسی شعبے کا مجھے نہیں ملا جس نے اُن کے بارے میں کسی منفی رائے کا اظہار کیا ہو، ایسے لوگوں پر اللہ کا بڑا خاص کرم ہوتا ہے۔ وہ بہت خوش قسمت ہوتے ہیں ورنہ جس معاشرے کا ہم حصہ ہیں وہاں کسی کی ذات میں کوئی کیڑا نہ بھی ملے ہم اُس میں بہت سے کیڑے اپنی طرف سے ڈال دیتے ہیں۔ جناب اعظم چوہدری نے اپنی ٹیم کو بھی اپنے رنگ ڈھنگ میں ڈال لیا ہے۔ اِس سے پہلے کہ پریس کلب کے ”حکمرانوں“ کے بارے میں ، میں کچھ نہیں کہنا چاہتا، بس اتنا کہنا ہی کافی ہے اُن کی حکمرانی ہمارے سیاسی حکمرانوں کی حکمرانی سے مِلتی جلتی تھی۔ میں حیران ہوں ہمارے کچھ صحافی بھائیوں کے نام پانامہ لیکس میں کیوں نہیں آئے۔ ممکن ہے ایک فہرست اُن کی بھی بن رہی ہو جو مستقبل میں جاری کردی جائے۔ مگر کوئی فہرست جاری ہوئی بھی تو صحافتی بدعنوانوں کو کوئی خطرہ نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان میں کوئی مائی کا لعل ابھی پیدا نہیں ہوا جو اہل صحافت کی بدعنوانیوں کو بے نقاب کرسکے۔ لہٰذا ہمارے لیے ”ستے ای خیریں“ ہیں۔ اب تو دوسرے شعبوں کے لوگ بھی اپنی بدعنوانیوں کو چھپانے یا بچانے کے لیے سب سے محفوظ اور عزت مندانہ راستہ یہ ڈھونڈتے ہیں کہ وہ کوئی چینل یا اخبار کھول لیں۔ ہمارے کچھ اہل صحافت بلاتفریق سب کے احتساب کی بات کرتے ہیں۔ یہ عمل جس روز شروع ہوگیا سب سے زیادہ نقصان اُن کا اپنا ہی ہوگا ،.... جہاں تک لاہور پریس کلب کی موجودہ قیادت یا عہدیداران کا تعلق ہے منتخب ہوتے ہی اپنی ”بے بس برادری“ کے اجتماعی مفاد کے لیے ایسا کام شروع کیا اور اب اُسے پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے جس انداز میں وہ کوشاں ہیں، سچی بات ہے قلم کے مزدوروں کو نہ صرف یہ کہ اس کی ذرا اُمیدنہیں تھی بلکہ اپنے مسائل کے حوالے سے وہ مکمل طورپر مایوس ہوچکے تھے۔ میں کسی اور کی کیا بات کروں ؟ میرا اپنا قصہ سن لیں۔ بہت سال قبل اُس وقت کے وزیراعلیٰ پنجاب چودھری پرویز الٰہی نے اہل صحافت کے لیے ہربنس پورہ میں صحافی کالونی بنائی۔ جس میں لاہور پریس کلب کے ممبران کو بذریعہ قرعہ اندازی پلاٹ دیئے گئے۔ پلاٹ الاٹ ہونے کے بعد ایک رقم کا تعین کیا گیا جو قسط وار جمع کروانی تھی۔ فیصلہ یہ ہوا تھا یہ پلاٹ صرف پریس کلب کے ممبران کو ہی دیئے جائیں گے۔ بے شمار معروف قلم کار پریس کلب کے ممبران نہیں تھے، میں بھی اُن میں شامل تھا، پرویز الٰہی نے اُس وقت کی پریس کلب کی قیادت سے کہا ”میں کچھ ایسے قلم کاروں کو بھی پلاٹ دینا چاہتا ہوں جو کسی وجہ سے ابھی تک پریس کلب کے رُکن نہیں بن سکے مگر اُن کی تحریریں کسی نہ کسی حوالے سے معاشرے میں سدھار پیدا کررہی ہیں۔ پریس کلب کی قیادت نے اُن سے اختلاف کیا تو اُنہوں نے فرمایا ” میں نے آپ کے لیے اتنی بڑی کالونی بنادی ہے، میرا اتنا حق بھی نہیں بنتا چند پلاٹ جینوئن قلم کاروں کو میں اپنی مرضی سے الاٹ کرسکوں؟“....پریس کلب کی قیادت نے اُن کا یہ مو¿قف تسلیم کرلیا۔ مجھے یاد ہے میں اور لالہ اجمل نیازی آواری ہوٹل کسی تقریب میں شریک تھے ۔ سی ایم پرویز الٰہی کے میڈیا ایڈوائزرچودھری محمداقبال کی مجھے کال آئی، فرمانے لگے ” چودھری پرویز الٰہی صاحب نے کچھ ایسے قلم کاروں کو بھی پلاٹ الاٹ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو پریس کلب کے ممبران نہیں ہیں۔ اُنہوں نے بے شمار نام لیے۔ میرا نام بھی لیا۔ اور فرمایا جلد ہی آپ کو الاٹمنٹ لیٹر جاری ہوجائے گا “۔....مجھے اِس اطلاع پر بہت حیرت ہوئی ، کیونکہ اُس سے چند روز قبل میرے ایک کالم سے ناراض ہوکر چودھری پرویز الٰہی نے میرے سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کینسل کردی تھی، جو بعد میں چیف جسٹس کے ازخود نوٹس لینے پر بحال کی گئی۔ اِس مشکل وقت میں جناب عارف نظامی، جناب رحمت علی رازی، جناب مجیب الرحمان شامی ، جناب سعید آسی، جناب اجمل نیازی، جناب عطاءالرحمان ، جناب حسن نثار نے جس انداز میں میرا بھرپور ساتھ دیا، میں اُن کی اِس محبت کا قرض ساری عمر ادا نہیں کرسکتا ۔ .... میں حیران تھا مجھے کیسے پلاٹ الاٹ کیا جاسکتا ہے؟ ۔ میں نے چودھری اقبال سے کہا ”آپ کو یقیناً غلط فہمی ہوئی ہے“۔ وہ بولے ” کوئی غلط فہمی نہیں ہوئی۔ سی ایم صاحب نے خاص طورپر مجھے حکم دیا ہے میں اُن کے اس فیصلے سے آپ کو آگاہ کروں“۔ میں نے سوچا یہ یقیناً اُن کی اعلیٰ ظرفی ہے۔ یا پھر وہ اُس ”زیادتی“
کا ازالہ کرنا چاہتے ہیں جو میرے سرکاری گھر کی الاٹمنٹ کینسل کرکے اُنہوں نے کی تھی ،.... خیر کچھ روز بعد بے شمار معروف کالم نویسوں کے ساتھ مجھے بھی پلاٹ الاٹ کردیا گیا ۔ ساتھ ہی اِس پلاٹ کی رقم کا تعین کردیا گیا جو میں نے قسط وار جمع کروانی شروع کردی۔ مجھے پلاٹ نمبر 24-Aالاٹ ہوا، اِس کی لوکیشن بڑی زبردست تھی۔ مگر کچھ عرصے بعد محکمہ اطلاعات نے اُس وقت کی پریس کلب کی ملی بھگت سے میرا یہ پلاٹ کینسل کردیا۔ دوستوں نے کہا آپ اِس پر احتجاج کریں ، عدالت میں جائیں ، میں نے سوچا جو پلاٹ مجھے میرے حق کے طورپر نہیں ملا میں اُس پر احتجاج کیوں کروں؟ میں نے خاموشی اختیار کرلی۔ کچھ عرصے بعد سیکرٹری انفارمیشن حکومت پنجاب کی طرف مجھے پلاٹ نمبر 125۔ اے الاٹ کردیا گیا۔ بعد میں پتہ چلا یہ پلاٹ بھی متنازع ہے اور اس کا ہائی کورٹ میں کیس چل رہا ہے۔ اب مجھے یقین ہوگیا میرے ساتھ یہ کھیل جان بوجھ کر اِس لیے کھیلا جارہا ہے کہ میں حکمرانوں کی خوشامد کے فن سے مکمل طورپر آشنا نہیں ہوں۔ میں وقتاً فوقتاً لاہور پریس کلب کی انتظامیہ سے گزارش کرتا تھا میرے ساتھ بار بار ہونے والی اس زیادتی کا مستقل طورپر ازالہ کیا جائے۔ وہ آگے سے مجھے اور ہی کوئی راستہ دکھا دیتے تھے جس سے یہ تاثر ملتا تھا بے شمار صحافیوں کے پلاٹوں پر قبضوں میں خود پریس کلب کے کچھ عہدیداران بھی ملوث ہیں۔ میں نے اُن کے دکھائے ہوئے راستے پر چلنے سے انکار کردیا۔ اور اپنا معاملہ خدا پر چھوڑ دیا، ....اب کئی برسوں بعد لاہور پریس کلب کی مخلص قیادت نے خود مجھ سے رابطہ کیا اور فرمایا آکر اپنے پلاٹ کا قبضہ لے لیں اور چاردیواری کرلیں، بے شمار بے یارومددگار صحافیوں کے پلاٹوں پر ناجائز قبضہ ختم کروانے میں اُنہیں بے پناہ رکاوٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔ وہ کسی دباﺅ، حتیٰ کہ کسی لالچ میں نہیں آئے۔ سب سے بڑادباﺅ ”لالچ اور ہوس “ کا ہوتا ہے۔ اُنہوں نے صرف ضمیر کا دباﺅ قبول کیا۔ قبضہ گروپ کے ساتھ ساتھ قبضہ گروپ سے ملے ہوئے افسروں نے اُن کے راستے میں کئی روڑے اٹکائے، مگر اِس مافیا کی تمام تر کوششوں کو صرف اِس لیے ناکامی کا سامنا کرنا پڑا کہ دوسری طرف نیت صاف اور مفاد اجتماعی تھا۔ جناب اعظم چوہدری اِس حوالے سے وزیراعلیٰ پنجاب جناب شہباز شریف کے بھی بہت شکر گزار ہیں جن کے حکم اور ذاتی دلچسپی سے قبضہ گروپ سے ملے ہوئے کسی افسر کی کوئی سازش یا رکاوٹ کارگر ثابت نہیں ہوسکی۔ لاہور پریس کلب کے موجودہ عہدیداران خصوصاً اعظم چوہدری صدر، سیکرٹری جنرل عبدالمجید ساجد ،معین اظہر، شہباز میاں ، رانا محمدعظیم،آصف بٹ نے اپنے دیگرساتھیوں اور دیگر صحافتی تنظیموں کی معاونت میں ثابت کردیا ہے نیت صاف، کردار اُجلا ہو صحافت بھی عبادت ہوسکتی ہے !


ای پیپر