آٹے ، چینی کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں گے!
04 ستمبر 2020 (22:28) 2020-09-04

وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ارشاد فرمایا ہے کہ وہ آٹے، چینی کی قیمتیں نہیں بڑھنے دیں گے۔ درآمد کی جانے والی گندم کی بڑی کھیپ پہنچ گئی ہے، جبکہ چینی بھی درآمد کی جا رہی ہے۔ وہ (وزیرِ اعظم) عوام کو ان (گندم اور چینی) کی فراہمی اور قیمتوں کو خود مانیٹر کریں گے۔ جنابِ وزیرِاعظم کے اس فرمان سے جو مژدہ جانفزا کی حیثیت رکھتا ہے پوری قوم کو، عوام کو، خواص کو، سبھی کو خوشی ہوئی ہو گی۔ تاہم میری طرح کے دقیانوسی سوچ کے مالک کچھ ایسے بھی ہیں جو اس فکر میں پڑ گئے ہیں کہ جنابِ وزیراعظم کے اس مژدہ جانفزا سے کہیں ہمارے ساتھ وہ ہاتھ ہی نہ ہو جائے جو ابھی دو تین ماہ قبل ہوا ہے کہ حکومت نے جناب وزیرِ اعظم کی منظوری سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی کی اور پیٹرول کی قیمت 75روپے فی لیٹر اور ہائی سپیڈ ڈیزل کی قیمت اس سے کچھ ڈیڑھ دو روپے فی لیٹر زیادہ مقرر کی گئی۔ ایک آدھ ہی دن ایسا گزرا تھا کہ پیٹرولیم کمپنیوں نے پیٹرول پمپوں پر پیٹرول اور ڈیزل کی سپلائی بالکل ہی روک لی یا نہ ہونے کے برابر کر دی۔ عوام الناس پیٹرول کی ایک ایک بوند کو ترسنے لگے اور پیٹرول پمپوں کے باہر موٹر سائیکل سواروں اور کاروں کی لمبی قطاریں لگنا شروع ہو گئیں۔ ہر طرف آہ و بکاہ مچ گئی تو جنابِ وزیرِ اعظم روز اجلاس منعقد کرتے ہوئے زور زور سے اعلان فرمانے لگے کہ عوام کو تکلیف نہ ہونے دی جائے اور پیٹرول کی سپلائی بحال کی جائے ورنہ میں ذمہ داروں کو اُلٹا لٹکا دوں گا۔ ہفتہ بھر بیان بازی جاری رہی لیکن پیٹرول پمپوں پر پیٹرول کی سپلائی بحال نہ ہو سکی۔ اور پھر کیا ہوا کہ ایک رات اچانک حکومت نے پیٹرول کی قیمت میں 25روپے فی لیٹر اضافہ کر دیا۔ اگلے دن پیٹرول پمپوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی سپلائی بھی وافر مقدار میں نہ آنا شروع ہوگئی بلکہ موٹر سا  ئیکلوں اور گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی لگنا بند ہو گئیں۔ 

کہتے ہیں کہ دودھ کا جلا چھاچھ بھی پھونک پھونک کر پیتا ہے۔ اس کہاوت کا تحریک انصاف کے دوسالہ دورِ حکومت کے کئی معاملات پر اطلاق ہوتا ہے۔ جناب عمران خان نے اقتدار سنبھالنے سے کچھ عرصہ قبل اور اس کے فوراً بعد کئی اعلانات کئے۔ اقتدار کے پہلے سو دنوں میں ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں نوکریاں دینے اور مکانات بنانے کے جانفزاء مژدے سنائے۔ آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ نہ پھیلانے، کشکول توڑنے اور کسی سے قرض نہ لینے کے خواب دکھائے۔ مہنگائی کو کم کرنے ، اس پر 

قابو پانے اور عوام کو سہولیات مہیا کرنے کے وعدے کیے۔ بدعنوان عناصر اور لوٹ مار کرنے والوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے دعوے کئے لیکن ان سب اعلانات ، وعدوں ، دعوؤں اور نعروں  کا کیا نتیجہ سامنے آیا کہ معاملات پہلے سے بھی بدتر ہوئے، حالات پہلے سے بھی خراب ہوئے۔ آئی ایم ایف کے سامنے ہاتھ بھی پھیلائے، دوسروں کے سامنے جھولیاں پھیلا کر قرض بھی لیے، مہنگائی میں کمر توڑ اضافہ بھی ہوا اور روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قیمت بھی آسمان پر جا پہنچی۔ بدعنوانی اور لوٹ مار میں اس طرح اضافہ ہوا کہ جناب وزیرِ اعظم کے انتہائی قریبی اور معتمد ترین ساتھی یا ساتھیوں اور حکومتی ارکان نے خوب ہاتھ رنگے۔ آٹے اور چینی جیسی سب سے زیادہ استعمال ہونے والی روزمرہ اشیاء  کی ملک میں ضرورت کے مطابق بلکہ اس سے زائد مقدار میں پیداوار ہونے کے باوجود قیمتوں میں ہوشروبا اضافہ ہی نہ ہوا بلکہ آٹا مافیا اور شوگر مافیا اور خاص طور پر شوگر ملز مالکان نے جہاں حکومت کی ناقص پالیسیوں کی وجہ سے چینی کی قیمتوں میں 90 فی صد تک ہوشربا اضافہ کرکے عوام کی جیبوں سے اربوں (سو ارب سے بھی زائد) روپے بٹورے وہاں ملکی خزانے سے اربوں روپے کی سبسڈی بھی لی۔  اب اس صورتِ حال میں جناب وزیرِ اعظم آٹے اور چینی کی قیمتیں نہ بڑھنے دینے اور ان کو مانیٹر کرنے کا مژدہ جانفزا سناتے ہیں تو اس پر مرزا غالب کے الفاظ میں یہی کہا جا سکتا ہے۔ 

تیرے وعدے پر جیئے ہم، تو یہ جان ، جھوٹ جانا

کہ خوشی سے مر نہ جاتے ، اگر اعتبار ہوتا

بات اگر چینی اور آٹا مافیاز اور چینی اور آٹے کی قیمتوں بالخصوص چینی کے نرخوں میں 90 فیصد اضافے کی چلی ہے تو اس کو کچھ آگے لے کر چلتے ہیں۔ وزیر اعظم جناب عمران خان نے اقتدار سنبھالا تو چینی کا نرخ 50روپے کلو سے بھی کچھ کم تھا۔ اس وقت چینی کا نرخ 100روپے کلو سے اُوپر ہوچکا ہے۔ منگل کو کابینہ کے اجلاس میں وزیز اعظم کے مشیرِ تجارت جناب عبدالرزاق داوؤد نے خوشخبری سنائی کہ ان کی کوششوں سے چینی کی قیمت 3روپے فی کلو کم ہو گئی ہے۔ یعنی چینی کے نرخ103یا 104روپے فی کلو سے کم ہو کر 100روپے فی کلو تک آ گئے ہیں۔ اس پر جہاں وزیر اعظم نے اپنے مشیر کی اہلیت اور دانائی کی تعریف کی وہاں کابینہ کے ارکان نے بھی ان کو اس کارکردگی پر مبارکباد پیش کی۔ لیکن ارباب اقتدار میں سے کسی کو یہ خیال نہ آیا کہ آخر تحریک انصاف کے حکومت کے دو سالہ اقتدار کے عرصے میں شوگر ملز نے کسانوں کی طرف سے مہیا کیے جانے والے گنے کے نرخوں میں اضافہ نہ ہونے اور چینی کی وافر مقدار میں پیداوار ہونے کے باوجود چینی کے نرخوں میں 90یا 100فیصد تک اتنا بڑا  اضافہ کیسے کیا۔ اس کی تفصیل سینئر صحافی ، اینکر اور معروف کالم نگار جناب رؤف کلاسرا نے ایک قومی معاصر میں چھپنے والے ایک کالم میں بیان کی ہے۔ جس کا لبِ لباب یہ ہے کہ حکومت میں شامل مقتدر افراد نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے شوگر کے حوالے سے ایسی پالیسیاں بنوائیں جن سے چینی کے نرخوں میں بتدریج اضافہ کرکے انہیں عوام کی جیبوں پر ڈاکہ ڈالنے اور اپنی تجوریاں بھرنے کا موقع ہی نہ ملا بلکہ پنجاب اور سندھ کی حکومتوں سے اربوں روپے سبسڈی لینے کی سہولت بھی حاصل ہوئی۔ وزیر اعظم عمران خان کے قریبی ساتھی جناب جہانگیر ترین نے پنجاب حکومت سے ایک ارب (سو کروڑ)  روپے کی سبسڈی لی تو ان کے ماموں ہاشم خان نے 50کروڑ حاصل کیے جبکہ وفاقی وزیر خسرو بختیار اور پنجاب  کے وزیرِ خزانہ ہاشم بخت کے تیسرے بھائی شہریار بھی شوگر ملز مالک کے طور پر 50کروڑ کی سبسڈی لینے میں کامیاب رہے۔ کالم میں گنجائش نہیں ہے ، اگلے کسی کالم میں گندم مافیا کا بھی کچھ ذکر کیا جائے گا۔


ای پیپر