کچھ سوالوں کے جواب
04 ستمبر 2020 (22:26) 2020-09-04

دوبرس کی شاندار کارکردگی پر حکمران پھولے نہیں سما رہے وفاقی وزرا نے اِس حوالے سے پریس کانفرنس میں ایسے حکومتی فیصلوں کا خاص طور پر تذکرہ کیاجن کی بنا پر عوام کو سہولتیں ملیں اور عام آدمی کے مسائل حل ہوئے مگر پنجاب کابینہ نے مزید ایک قدم آگے بڑھتے ہوئے خصوصی اجلاس کے دوران صوبائی حکومت کی دوسالہ شاندار کارکردگی پر اظہارِ تشکر کی قرارداد منظور کی ہے اِتنی ذہانت کا مظاہرہ وفاقی حکومت کیوں نہ کر سکی غور کرنے کی ضرورت ہے حالانکہ کافی ذہین لوگ وفاقی کابینہ کا حصہ ہیں محترمہ زرتاج گل صاحبہ جیسی معاملا فہم خاتون جو موسم میں بہتری کو بھی عمران خان کی خوبی سمجھتی ہیں لیکن شدید بارشوں سے ہونے والے نقصان کا ذمہ دار کون ہے؟ کا جواب دینا شایدکسی کو یاد نہیں دوسالہ کارکردگی پر بات کرنے کے بعد حکومت کے اچھے فیصلوں کا سلسلہ جاری ہے جن پرفوری لب کشائی کرنا اشد ضروری ہے وفاقی وزیرسائنس و ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے بھنگ کے متعلق بڑی خوشخبری سنا کر سب کو حیران کردیا ہے اور یہ نوید سنا کر کہ حکومت خودبھنگ کاشت کرے گی یوں اگلے تین برسوں میں عالمی مارکیٹ سے ایک ارب ڈالر شیئر حاصل ہو سکے گا اگر کسی وزیر یا مشیر کے پاس وقت ہو تو اِس فیصلے سے ملنے والی کامیابیوں پر گھنٹوں پریس کانفرنس ہوسکتی ہے عوام کو بھنگ کی کاشت کے فوائد اور استعمال سے ملنے والے کامیابیوںسے آگاہ کرنا وقت کی ضرورت ہے کیونکہ عوام نام کی مخلوق میں ذہانت کی کمی ہے آگاہی مُہم سے پورے ملک سے حکومتی کامیاں تسلیم کرانے کے نادر موقع سے فائدہ اُٹھائیں ۔

دو سالہ شاندار کارکردگی پر تحسین کی قرارداد سے صوبے میںحکومت کامثبت تاثر اُجاگر ہوا ہے اور سچی بات تو یہ ہے کہ لوگوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ہے حکومتی کامیابیوں کا پتہ چلنے پر لوگ ایک دوسرے کو مبارکبادیں دے رہے ہیںاگر اسی طرح کامیابیوں کا تسلسل برقراررکھا گیا توامیدِ واثق ہے کہ اگلا انتخابی معرکہ بغیر مُہم چلائے جیتا جا سکتا ہے جن لوگوں کو پنجاب حکومت کی کامیابیاں نظر نہیں آتیںجس کے لیے انھیں آگاہ کرنے کے لیے دوسال بڑی طویل مدت ہے بہتر ہے دوبرس کی بجائے ہر ماہ حکومتی کامیابیوں کے متعلق ایک عدد اظہارِ تشکر کی قرارداد پاس کی جائے تاکہ لوگوں کو بروقت اصل حقیقت کا پتہ چل سکے گااِس طریقہ کارسے اپوزیشن کی چالوں کا توڑ بھی ہوجائے گا اپنے فیاض الحسن چوہان کو ذمہ داری سونپی جائے تو مزید بہتر نتائج بر آمدہوسکتے ہیں ۔

کارکردگی کے متعلق قراردادمیں کئی ایسے نکات شامل کیے گئے ہیں جن پرلوگ کچھ سوالوں کے جواب چاہتے ہیں اُٹھنے والے سوالات کے 

جواب دینے پر کسی کو مامور کیا جا سکتا ہے اِس طرح ایک وزیر یا مشیر کی آسامی بھی بن جائے گی کیونکہ اپوزیشن کو حکومتی کامیابیاں ہضم نہیں ہو رہیں اور وہ حیلے بہانوں سے ناکام ثابت کرنے میں مصروف ہے اِس لیے حالات کا تقاضہ ہے کہ تمام کام چھوڑ کر صرف حکومتی کارکردگی ثابت کرنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر توجہ دی جائے جیسا کہ شفافیت کو نصب العین قراردیتے ہوئے کوئی کرپشن سکینڈل سامنے نہ آنے کا فخریہ تذکرہ کیا گیا ہے جس پر اپوزیشن کے لوگ شراب لائسنس کیس کا حوالہ دیتے ہیں ڈی جی نیب سلیم شہزاد نے دوبار نوٹس بھیجنے اور وزیرِ اعلٰی عثمان بزدار کی طرف سے جواب جمع نہ کرانے کی تصدیق کی ہے جس کا جواب دینا اشد ضروری ہے اور باآسانی کہا جاسکتا ہے کہ نہ تو لائسنس کی بابت حکومت کوکچھ معلوم ہے اور نہ ہی کسی قسم کا نوٹس ملا ہے قبل ازیں پیشی کے دوران لاعلمی کے اظہار سے فائدہ مل چکا مزید اسی ڈگر پر چل کر معاملات کو معرضِ التوا میں ڈالا جا سکتا ہے نیب کی طرف سے معصوم وزیرِ اعلیٰ کے خلاف کاروائی سے عمران خاں کی خفگی سامنے آچکی اِس لیے کوشش کریں کہ اپوزیشن کو باتیں بنانے اور اُنگلیاں اُٹھانے کے مواقع نہ دیے جائیں اگر کوئی کرپشن اسکینڈل کہے تو اِسے بھی عوامی بھلائی کے کھاتے میںشمار کیا جا سکتا ہے عوام کا کیا ہے بس اپنی بات پر مصر رہیں۔

پنجاب حکومت کے تیسرے پارلیمانی سال کا آغاز ہو گیا ہے یہ بھی ایک بہت بڑی کامیابی ہے جس پر پنجاب حکومت  بلاشبہ مبارکبادکی مستحق ہے لیکن اِس اہم ترین کامیابی کو اظہارِ تشکر کی قراردادمیں شامل کیوں نہیں کیا گیا اور اِس کا کون ذمہ دار ہے ؟حکومت کو چاہیے کہ وہ  انکوائری کمیشن بناکر نہ صرف ذمہ دارکاتعین کرے بلکہ اُسے قرارِ واقعی سزادلائے جو لوگ کہتے ہیں کہ پنجاب حکومت کچھ نہیں کر رہی اُنھیں وقت گزار پالیسی کے ثمرات بتائے جائیں کیونکہ کام کیا جائے تو نقائص بھی نکل سکتے ہیں جب کہ کچھ نہ کرنے سے لوگوں کو باتیں بنانے کے مواقع نہیں ملتے اچھے فیصلوں اور اقدامات کے  نتائج سامنے آنے میں دیر لگتی ہے مگر ستم ظریفی یہ ہے کہ اسِ اہم نُکتے پر عوام اور اپوزیشن یقین نہیں رکھتی اگر کوئی دوسالہ کارگزاری پر سوال کرے توبلا جھجک بتائیںکہ اگلے تین سال بعدصوبے کے لوگ اچھے فیصلوں اور اقدامات کے ثمرات سے مستفید ہو ں گے اِتنا کہنے کی دیر ہے لوگ خاموشی سے انتظار کرنے لگیں گے اور اپوزیشن سے متنفر ہو جائیں گے۔

کچھ عاقبت نااندیش لوگ پہلے سو دنوں کے بارے میں دریافت کرتے ہیں یہ نہ ہنجار بے بصیرت ہیں جنھیں اپوزیشن نے ورغلا رکھا ہے ایسے لوگوں سے حکومت محتاط رہے یہ کیا کم ہے کہ حکومت نے خوشحالی کی بنیاد رکھ دی ہے اور اللہ کے حضور اور عوام کی عدالت میں سرخرو ہے کوئی اگر چینی اسکینڈل میں پنجاب حکومت کو ملوث کرنے کی کوشش کرے تو ضرورت اِس امر کی ہے کہ ایسے لوگوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے کئی اِدارے پہلے ہی حکومتی ہدایات پر عمل پیراہوکر اپوزیشن کا ناطقہ بندکیے ہوئے ہیں مگر مزید سختی لاناوقت کا تقاضا ہے کیا جنوبی پنجاب سیکرٹریٹ کسی کو نظر نہیں آرہا اب یہ توبہاولپوراور ملتان کے لوگوں پر منحصر ہے کہ وہ کِس طرح کام لیتے ہیںحکومت نے اپنی ذمہ داری پوری کردی اورنج لائن ٹرین بھی اکتوبر میں چلانے کا فیصلہ کر دیا 92پناہ گاہیں بن چکیں راوی ریور منصوبہ سے تعمیراتی صنعت کو فروغ ملے گا ہر ضلع میں یونیورسٹی بنانے،تمام شہریوں کو صحت کارڈ دینے اور اگلے تین برس کے دوران پنجاب کو ماڈل صوبہ بنانے کا عزم کر ہوچکا ہے یہ کیا کم ہے عوام کو مزید کیا چاہیے بہتر ہے کہ تھوڑا عرصہ انتظار کریں تاکہ اُنھیں حکومتی فیصلوں کے ثمرات مل سکیں اگر ثمرات نہ مل سکے تو بھی حکومت کو تو اپنی مدتِ اقتدار پوری کرنے کا موقع مل جائے اور یہی بہت بڑی کامیابی ہے جس کا حکمرانوں کے نزدیک کوئی نعم البدل نہیں۔


ای پیپر