خبردار کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے!
04 ستمبر 2020 (22:25) 2020-09-04

یہ تحریر ہم اکثر مقامات پردیکھتے ہیں خبردار کیمرے کی آنکھ دیکھ رہی ہے، ہم نا چاہتے ہوئے بھی اس کو پڑھ کرالرٹ ہوجاتے ہیں۔ جوں جوں سائنس نے ترقی کی اب سراغ لگانا بہت آسان ہوگیا ہے مگر با اثر لوگ اپنے جرائم کے ثبوت یا تو خرید لیتے ہیں یا پھر ان کے نشانات مٹوا دیتے ہیں مگر شائد ان کا علم کمزور ہے کیونکہ جو کیمرے رب نے پیدا ہوتے ہی ہم پر نصب کیے ہیں ان کے ہوتے ہوئے ثبوتوں یا نشانات کو مٹانا یا جھٹلانا ناممکن ہے۔ بلکہ ہم یہ بھول ہی جاتے ہیں سب سے بڑی منصف تو اللہ کی ذات ہے جس سے کوئی بات ڈھکی چھپی نہیں رہ سکتی۔ جو باریک بینی سے ہر معاملے کا جائزہ لیتا ہے۔ 

دو دن پہلے گھر پر ایک ای چالان موصول ہوا جس میں ایک تصویر لگی تھی کہ کب کہاں کس موقع اور لمحے میں ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہوئی۔ بچے تھوڑا حیران ہوئے مگر میرا ذہن کسی اور سمت چلا گیا ابھی دو دن پہلے ہی کراماً کاتبین کے حوالے سے ایک مضمون اور کچھ آیات کا مطالعہ کیا تو اندازہ ہوا کہ یہ ای چالان سکیورٹی کیمرے دنیا کے لیے نئی ایجادات ہوں گی مگر میرے رب نے تو پیدا ہوتے ہی کراماً کاتبین کی صورت میں مستقل سکیورٹی کیمرے انسانوں پر تعینات کیے ہیں جوہر ایک لمحہ میں کیے جانے والا ایک ایک عمل ریکارڈ کر رہے ہیں۔ قیامت کے دن یہی فلم چلا دی جائے گی ہمارے سامنے اوررب عظیم کا ارشاد ہوگا، یہ دیکھ لو جو تم جو کچھ کرتے رہے ہو اس وقت ہمارے جسمانی اعضا بھی ہمارے ہراچھے برے عمل کی گواہی دیں گے سارے کھاتے کھل جائیں گے۔ 

ہمیں آج دفتر جاتے قت اپنی دنیاوی باس کا اتنا خوف ہوتا ہے کہ وہ کیمرے سے سب دیکھ رہا ہے مگر اس خدا کا خوف نہیں جس نے تمہارے باس کو ہی نہیں پورے نظام کائنات کو کنٹرول کر رکھا ہے لیکن ہمیں ایک معمولی بھی خوف نہیں آتا۔ میں تو حیران ہوتی ہوں کہ اتنے گھنائونے فعل کرنے والوں کو یہ سوچ کر ذرا بھی جھرجھری نہیں آتی کہ ہم کیا کر رہے ہیں؟کبھی معصوم لوگوں کا قتل، نوخیز کلیوں کو مسلنا، لوگوں کو زندہ جلا دینا،یہاں حیات بلوچ سے لے کر ساہیوال واقعہ اور سانحہ ماڈل ٹائون سے لے کر اے پی ایس تک سیکڑوں ایسے واقعا ت ہیں جن کے بعد فوراً نشانات مٹا دئیے جاتے ہیں کیا یہ اتنے لاعلم ہیں کہ نشان تو تم نے دنیا کے لیے مٹائے لیکن جو سکیورٹی کیمرے رب نے تمہارے ساتھ بھیجے ہیں ان سے تو تمہاری سوچ بھی پوشیدہ نہیں۔ 

انسانوں کے اعمال لکھنے والے فرشتے کراماً کاتبین کے حوالے سے ایک سورۃ میں ارشاد باری تعالیٰ ہیـ ’ـاور بے شک تم پر محافظ ہیں،عزت والے اعمال لکھنے والے وہ جانتے ہیں جو تم کرتے ہو‘۔

اسی طرح ایک سورہ الزخرف کی آیات میں لکھا ہے کہ 

کیا انہوں نے اپنے خیال میں کوئی کام پکا کر لیا ہے تو ہم اپنا کام کرنے والے ہیں۔ کیا اس گھمنڈ میں ہیں کہ ہم ان کی آہستہ بات اور انکی مشاورت نہیں سنتے ہاں! کیوں نہیں اور ہمارے فرشتے ان کے پاس لکھ رہے ہیں۔‘‘

حضرت ابن جریج رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: ’’کراماً کاتبین دو فرشتے ہیں ان میں سے ایک اس (انسان) کی دائیں طرف ہوتا ہے جو نیکیاں تحریر کرتا ہے اور ایک اس کے بائیں طرف ہوتا ہے جو برائیاں لکھتا ہے۔‘‘

دائیں طرف والا فرشتہ اپنے ساتھی (فرشتہ) کی گواہی کے بغیر نیکی لکھ دیتا ہے مگر جو اس کے بائیں ہوتاہے۔ وہ اپنے ساتھی (فرشتہ) کی گواہی کے بغیر کوئی برائی نہیں لکھتا۔ اگر وہ آدمی بیٹھتا ہے تو ایک اس کے دائیں اور دوسرا اس کے بائیں ہوتا ہے اور اگر وہ چلتا ہے تو ایک ان میں سے ا س کے آگے ہوتا ہے اور دوسرا اس کے پیچھے، اور اگر وہ سوتا ہے تو ایک ان میں سے اس کے سر کے پاس ہوتا ہے اور دوسرا اس کے پاؤں کی جانب ہوتا ہے۔

سورہ ق، آیت ۱۶ تا ۱۸میں تو اللہ نے بات ہی مکمل فرما دی ہے کہ 

اور بے شک ہم نے انسان کو پیدا کیا اور ہم جانتے ہیں جو وسوسہ اس کے دل میں گزرتا ہے، اور ہم اس سے اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ قریب ہیں۔جب کہ ضبط کرنے والے دائیں اور بائیں بیٹھے ہوئے ضبط کرتے جاتے ہیں۔وہ منہ سے کوئی بات نہیں نکالتا مگر اس کے پاس ایک ہوشیار محافظ ہوتا ہے۔

 محتاط ہوجائیں ، خبردار ہوجائیں، جب حشر کی گھڑی آنی ہے ،اس وقت کراماً کاتبین نے پوری رپورٹ پیش کر دینی ہے۔ کوئی پردہ حائل نہ ہوگا منہ ڈھانپنے کو کوئی رومال ہوگا نہ سوا نیزے پر کھڑے سورج کی حدت سے بچنے کے لیے کوئی ہوا دارجگہ ہو گی۔ سامنے حوض کوثر ہو گا مگر پانی تو وہی پئیں گے نا جنہوں نے خاتم النبیبن صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی ہونے کا حق ادا کیا۔ رب کے عرش کا سایہ تو ہوگا مگر صرف ان کے لیے جنہوں نے اس کی بندگی کا حق ادا کیا۔ 

مجھے تو یہ سوچ کر ہی جھرجھری آتی ہے کہ بڑے بڑے شہدا اور علما کے اعمال بھی صرف ان کی ریاکاری کے باعث ضائع ہوجائیں گے تو ہم کس کھاتے میں ہیں؟

جب ہماری باری آئے گی تو نامہ اعمال کھول کر رکھ دیا جائے گا پھر اللہ کے سوا کون سنے گا؟

وہاں تمہارے دنیاوی پیر کام آئیں گے نہ وسیلے؟ 

گڑگڑائو گے مگر کسی کو نہ پائوگے! 

شیطان جو دنیا میں تمہیں اکساتا تھا دُورکھڑا تماشا دیکھ رہا ہوگا اور کہے گا بھئی یہ تواس کی اپنی مرضی تھی! 

اس دن کوئی مشکل کشا ہوگا نہ غم خوار، اس دن عرش الٰہی کے سوا کوئی سایہ نہ ہوگا۔ اب خود سوچ لیں کہ ہمارے کیمرے دن رات جو ریکارڈ کر رہے ہیں کیا اس کے بعد ہم روز محشراپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت کے حقدار ہوں گے؟ 


ای پیپر