حکومت کے دو سال اور شہباز شریف کی گفتگو
04 ستمبر 2020 (22:24) 2020-09-04

تحریک انصاف حکومت کے دو سال مکمل ہو گئے ۔ دو سال کے دوران حکومت کی کارکردگی کا اندازہ ہوتا ہے ۔وزیر اعظم عمران خان نے پہلے عوام سے کہا تھا کہ چھ ماہ انتظار کریں۔حالات بہتر ہونگے پھر ایک سال اور ایک سال گزرنے کے بعد دو سال عوام صبر کریں معیشت کو ٹھیک کر لینگے۔ حکومت کے دو سال مکمل ہونے کے بعد حکومت کے وزراء نے پریس کانفرنس میں مہنگائی اور بے روزگاری بڑھنے کا اعتراف کیا اور مہنگائی کی ذمہ داری سابقہ حکومتوں پر ڈال دی۔حکومتی وزراء اپنی ناکامیوں کو پچھلی حکومت پر ڈال رہے ہیں۔پچھلی حکومت میں مہنگائی کم تھی بے روزگاری میں کمی آچکی تھی ملکی معیشت بہتر تھی۔میگا پراجیکٹس مکمل ہوئے تھے۔ملک میں موٹرویز کا جال بچھا یا تھا ہزاروں میگا واٹ بجلی پیدا کی گئی ۔پچھلی حکومت کی معاشی پالیسیوں پر نظر ڈالی جائے تو اُس وقت ملک کا ہر طبقہ خوشحال تھا ۔ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن تھا۔پانچ سالوں میں 1700کلومیٹر موٹرویز بنائی گئیں۔ڈالر 98روپے کا تھا ،زرمبادلہ کے ذخائر 20ارب ڈالر سے تجاوز کر چکے تھے پاکستان کی سٹاک ایکسچینج کا شمار جنوبی ایشیا کے نمبر ون ایکسچینج میں ہوتا تھا۔چینی 45روپے اور آٹا 35روپے فی کلو تھا گیس کی قیمتیں پانچ سالوں میں نہیں بڑھائی گئی تھیں۔ بجلی کی قیمتیں کم تھی۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں معیشت کی شرح نمو 5.5فیصد تھی جو موجودہ حکومت میں کم ہو کر 1.9فیصد ہو گئی۔معاشی ماہرین کے مطابق ملک سے مہنگائی اور بے روزگاری کا خاتمہ اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے معاشی شرح نمو 4فیصد سے زائد ہونی چاہیے۔موجودہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے آئندہ مالی سال بھی شرح نمو 1.5فیصد تک رہنے کا امکان ہے ۔یعنی آئندہ سال بھی ملک میں مہنگائی کی شرح اور بے روزگاری برقرار رہے گی۔ حکومت نے دو سالوں میں کوئی میگا پراجیکٹ شروع نہیں کیا۔پچھلی حکومت کے منصوبوں کے افتتاح کئے جا رہے ہیں پشاور بی آرٹی کا منصوبہ تحریک انصاف نے چھ ماہ کی بجائے تین سال میں مکمل کیا جسے 49ارب سے شروع کیا تھا اور اخراجات ایک کھرب تک پہنچ گئے۔مسلم لیگ (ن) کی حکومت میں اُس وقت کے وزیر اعلیٰ محمد شہباز شریف نے لاہور،اسلام آباداور ملتان میٹرو منصوبوں کو 90 ارب روپے میں مکمل کیا تھا۔لاہور میٹرو کا معیار پشاور بی آر ٹی سے بہت بہتر ہے، حالیہ بارش کے دوران پشاور بی آر ٹی کے مختلف سٹیشنز کی چھتوں سے پانی ٹپکنے لگا تھا جبکہ لاہور میٹروں کی چھتیں واٹر پروف ہیں۔میٹروکو جنگلہ بس کہنے والے آج اس کی تعریفیں کررہے ہیں۔وزیر اعظم عمران خان الیکشن سے پہلے جلسوں میں کہتے تھے کہ میرے پاس 200بہترین لوگوں کی ٹیم ہے۔جو ملک کی معیشت کو ٹھیک کر سکتی ہے لیکن اب دو افراد کی بھی بہترین ٹیم نظر نہیں آرہی ہے پرویز مشرف دورکے ٹیکنوکریٹس سے ملک کا نظام چلا یا جا رہا ہے۔مسلم لیگ (ن) کے ساتھ بہترین معاشی ماہرین کی ٹیم ہے جو ملک کو بحرانوں سے نکال سکتے ہیں۔

تحریک انصاف حکومت کے دو سال پورے ہونے کے بعد پاکستان مسلم لیگ(ن) کے صدر و اپوزیشن لیڈر محمد شہباز شریف نے پارٹی کے سینئر راہنمائوں راجہ ظفر الحق ، شاہد خاقان عباسی، خواجہ آصف ، احسن اقبال ، خواجہ سعد رفیق ، مفتاح اسماعیل اور خرم دستگیر کے ہمراہ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ دو سالوں میں مہنگائی میں اس قدر اضافہ ہوا کہ عام آدمی کی زندگی تنگ ہوگئی ۔روپے کی قیمت میں 40فیصد کمی ہوئی۔700ارب کے نئے ٹیکسز لگائے گئے۔ حکومت نے دو سالوں میں 12ہزار قرض لیا ہم نے پانچ سالوں میں دس ہزار قرض لیا تھا گردشی قرضوں میں یومیہ 120کروڑ کا اضافہ ہو رہاہے۔ گیس کی قیمتوں میں 200فیصد اضافہ کیا گیا بجلی صارفین کے لیے قیمتوںمیں 30فیصد اضافہ کیا انھوں نے کہا کہ مسلم لیگ(ن) کی حکومت میں تاریخ ساز ترقی ہوئی تھی جس کی ملک کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔محمد نواز شریف صحت یا ب ہو کر وطن واپس آئیں گے اور ہم نے محمد نواز شریف کی قیادت میں تاریخی اقدامات اُٹھائیں تھے ملک سے لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ کیا آج بجلی لوڈ شیڈنگ کی انتہاء ہے مہنگی بجلی لوگوں کو فراہم کی جا رہی ہے تیل کی قیمتیں دنیا میں کم ہو چکی ہے پی ٹی آئی حکومت نے قیمتیں بڑھا دی ہیں ادویات کی قیمتوں میں اضافہ کیا ۔ دو سالوں میں مہنگائی اور بے روزگاری کے ریکارڈ توڑ دیئے گئے۔ شہباز شریف نے کہا کہ عمران خان کہتے تھے کہ مر جائیں گے لیکن آئی ایم ایف کے پاس نہیں جائیں گے وہ باتیں کہا ںگئی ؟این آر او نہیں دونگا، کے نعروں سے لوگوں کے پیٹ بھر جائیں گے۔


ای پیپر