پنجاب گورنمنٹ کی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی میڈیا انڈسٹری کی بقاء کی ضامن
04 ستمبر 2020 (22:23) 2020-09-04

پنجاب حکومت کی نئی ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کے نفاذ سے ڈمی پبلیکیشنز اور زرد صحافت کی حوصلہ شکنی ہوگی اور صحافت کو مجموعی طور پر فروغ ملے گا۔ اس کے علاوہ پنجاب حکومت اب صرف سی پی این ای اور اے پی این ایس کے ممبر اخباروں کو ہی اشتہار جاری کرے گی۔یوں ریجنل اخباروں کو میرٹ پر 25 فیصد کوٹے کے حساب سے اشتہارات کی تقسیم بھی بہتر بنائی جاسکے گی۔ ایڈورٹائزنگ ایجنسیوں کی پری کوالیفیکیشن کا عمل نہایت شفاف بنایا جائے گا۔ محکمے کی کمیٹی ایجنسیوں کے پروپوزلز کی سکروٹنی کرے گی اور expertise کی بنا پر ان کو محکمے الاٹ کئے جائیں گے تاکہ متعلقہ محکمے کی آگاہی مہم بہتر انداز میں چلائی جاسکے۔

  پنجاب حکومت کی نئی اشتہاری پالیسی اصل میں ریگولیٹری اصلاحات کا ایسا مجموعہ ہے جو میڈیا انڈسٹری کے استحکام کیلئے ایک اہم سنگ میل ثابت ہوگا ۔ اس پالیسی کے تحت وزیر اعظم عمران خان اور وزیر اعلی عثمان بزدار کے ویژن کے مطابق نظام میں شفافیت اور میرٹ کو فروغ ملے گا۔ نیز اس ترمیم کے ذریعے حکومتی میسج اب عوام تک بہتر انداز میں پہنچایا جا سکے گا۔ مستند پرچوں کے ذریعے اشتہاری مہم بہتر انداز میں کارگر ثابت ہوگی ۔

 اس ضمن میں احسن کام جو انجام دیا جائے گا وہ یہ ہے کہ کیمپین ایڈورٹیزمنٹ کی واجب الادا رقوم براہ راست محکمے اب ایجنسیوں اور میڈیا گروپس کو دیں گے۔ اس کی صورت کچھ یوں ہوگی کہ 15 فیصد ایجنسی کمیشن ایجنسیوں کو اور 85 فیصد ادائیگی میڈیا کو ڈائریکٹ کی جائے گی۔ یہ ایک نہایت اہم اقدام ہے جس سے میڈیا کی ادائیگیوں میں کم سے کم وقت درکار ہوگا اور کوئی ایجنسی کسی میڈیا ہاؤس کے پیسے نہیں دبا سکے گی۔ ماضی میں ایسا ہی تھا کہ اشتہاری ایجنسیز تمام پیسے لے کر میڈیا یا اخبارات کو نہیں دیتی تھیں ۔ میڈیا انڈسٹری کیلئے Ease of Doing Business کے لیے یہ ایک قابل قدر فیصلہ ہے، جو ریڈ ٹیپزم کا جڑ سے خاتمہ کردے گا۔ میڈیا مالکان کو بروقت پیمنٹ کے ذریعے صحافی برادری کی تنخواہوں میں تاخیر کے مسائل کا بھی حل ہوسکے گا۔

70 سال میں پہلی مرتبہ سوشل اور ڈیجیٹل ایڈورٹیزمینٹ کے حوالے سے تمام پراسیس کو پالیسی کا حصہ بنایا گیا ہے جس سے اخباروں کے ای پورٹلز اور دیگر نیوز اور انٹرٹینمنٹ سائٹس اور سوشل میڈیا پر اشتہار چلائے جاسکیں گے۔ اس اقدام سے نہ صرف ڈیجیٹل میڈیا کو فروغ ملے گا بلکہ ٹارگٹ آڈئینس تک پہنچنا بھی ممکن کو سکے گا۔


ای پیپر