1977ء کی تحریک، سازش یا عوامی تحریک
04 ستمبر 2020 (22:22) 2020-09-04

گزشتہ دنوں روزنامہ نئی بات میں تحریک نظام مصطفی اور ہم کے موضوع پر لکھا گیا کالم سوشل میڈیا پرخا صازیر بحث رہا۔ اندازہ نہیں تھا کہ 43 سال گزر جانے کے باوجود یہ موضوع اور تحریک اب بھی دلوں میں زندہ ہے۔ اور اس تحریک میں جانی و مالی قربانیاں دینے والوں کی اس سے جذباتی وابستگی آج بھی قائم ہے البتہ جن کے سیاسی اقتدار کو تحریک سے نقصان پہنچا تھا‘ وہ آج بھی یہ زخم بھلا نہیں سکے ہیں۔ اس تحریک کو صحیح طور پر سمجھنے اور تاریخ سے انصاف کے لیے اس پورے دور کا عمیق جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔

1970ء کے انتخابات سے 5 جولائی 1977ء کو لگنے والے مارشل لاء تک کے عرصہ کو تین حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 1970 کی انتخابی مہم کے دوران مرحوم مشرقی پاکستان میں عوامی لیگ اور مغربی پاکستان میں پیپلزپارٹی گالی گلوچ‘ الزام تراشیوں‘ مخالفین کی کردار کشی اور تضحیک پر مبنی انتخابی مہم چلا رہی تھیں۔ مشرقی پاکستان میں مغربی بازو سے جانے والے شاید کسی لیڈر کو بھی جلسہ کرنے نہیں دیا جارہا تھا اور لاہور کے نیلا گنبد میں پیپلزپارٹی کی جانب سے جماعت اسلامی کے دفتر کوآگ لگانے کا واقعہ یہاں کی انتخابی سیاست کی ایک واضح مثال تھی۔بدقسمتی سے مارشل لاء کے باوجود انہیں روکا نہیں جارہا تھا ۔ ملک کے دونوں حصوں میں ایسے لوگوں کی کثیر تعداد موجود تھی جو اس طرز سیاست اور حکمرانوںکی خاموشی پر افسردہ تھے اور بعد میں مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن اور پھر مشرقی بازو کی علیحدگی کو بھٹو اور فوجی ٹولہ کا گٹھ جوڑ سمجھتے تھے۔ ان حالات میں 20 دسمبر 1971ء کوجناب ذوالفقار علی بھٹو نے بطور صدرِ پاکستان اور عوامی مارشل لا ایڈمنسٹریٹر اقتدار سنبھالا تو نئے پاکستان کے نعرے کے ساتھ فسطائیت کے دور کا آغاز ہوگیا۔ 1970ء کی انتخابی مہم مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بچے کچھے پاکستان میں پیپلزپارٹی کا اقتدار اس تاریخ کا پہلاحصہ تھے۔ بدقسمتی سے یہ کوئی سعیددور نہیں تھا اس میں ہونے والے مظالم‘ انسانی حقوق کی پامالی‘ خواجہ رفیق‘ مولوی شمس الدین اور ڈاکٹر نذیر کا قتل‘ سیاسی رہنمائوں پر جھوٹے مقدمات‘ دفاتر میں حکومتی پارٹی کی کھلی غنڈہ گردی‘ مہنگائی اور بے روزگاری کا طوفان‘ ضمنی انتخابات میں دھونس اور دھاندلی اور پورے ملک میں سیاسی افراتفری اور گھٹن وہ معاملات تھے جو بعد کی تحریک کے محرکات بنے۔یہ دوسرا دور 1977ء کے انتخابات اور تحریک نظام مصطفی تک کا تھا۔ پوری قومِ پاکستان قومی اتحاد کے پلیٹ فارم پر اکٹھی ہوگئی تھی۔ اتحاد میں شامل 9 

جماعتوں کے سربراہوں کو عوام نے آنکھوں پر بٹھایا‘ انہیں ’’نو ستاروں‘‘ کا نام دیا اور جب 7 مارچ 1977ء کو قومی اسمبلی کے انتخابات میں کھلی دھاندلی کی گئی تو اس پلیٹ فارم سے قوم احتجاج کے لیے نکل آئی۔

10 مارچ کو صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان ہوا تو پولنگ اسٹیشنوں پر ہو کا عالم تھا۔ دنیا کی تاریخ میں پہلی بار یہ ہوا کہ پی این اے کے ٹکٹ پر کامیاب ہونے والے 37 ارکانِ قومی اسمبلی نے ان انتخابات کو تسلیم نہ کرنے کا اعلان کرتے ہوئے حلف اٹھانے سے انکار کر دیا۔ عوامی لہر اتنی شدید تھی کہ پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر منتخب ہونے والے چار ارکان قومی اسمبلی نے عوامی جذبات کی حمایت کرتے ہوئے اپنی نشستوں سے استعفیٰ دے دیا۔ ان میں بلخ شیر مزاری‘ میاں صلاح الدین اور دو دوسرے ارکان شامل تھے۔ لاہور میں مسلم مسجد ، نوا پریل اور پیلی بلڈنگ کے واقعہ میں جبکہ دوسرے شہروں کے احتجاجی مظاہروںمیں لوگوں نے جس جرأت کا مظاہرہ کیا اور جس طرح پولیس تشدد کا مقابلہ کیا، وہ ایک نئی تاریخ تھی۔ مسلم مسجد اور نوا پریل کے زخمیوں کے لیے خون کی اپیل کی گئی تو اسپتالوں میں خون دینے والوں کی قطاریں لگ گئیں۔ اس تاریخ کا تیسرا مرحلہ مارشل لاء کا نفاذ تھا جو پیپلزپارٹی ہی نہیں پی این اے کے لیے بھی نئی صورت حال تھی۔

گزشتہ کالم پر تبصرہ کرتے ہوئے بعض لوگوں نے اس رائے کا اظہا رکیا کہ اس تحریک کو سی آئی اے کی درپردہ حمایت حاصل تھی۔ اس الزام میں رتی بھر صداقت نہیں ہے‘ یہ خالصتاً ایک عوامی تحریک تھی جو ظلم اور دھاندلی کے خلاف چلی تھی۔ پیپلزپارٹی اس زمانے میں بھی یہ الزام لگاتی تھی لیکن 1977ء کے بعد تین بار اقتدار میں آنے کے باوجود وہ اپنے اس الزام کے حق میں کوئی ثبوت نہیں لاسکی۔ امریکی دستاویزات تیس سال بعد اوپن کر دی جاتی ہیں۔ سی آئی اے نے بھی اپنی کسی دستاویز میں اس کا ذکر نہیں کیا۔ مگر کچھ دانشور اب تک یہ لکیر پیٹنے میں مصروف ہیں۔

اس تحریک پر دوسرا الزام یہ تھا کہ یہ فوج کے اشاروں پر چلی اور اس کا مقصد ملک میں مارشل لاء لگانا تھا۔ پہلے الزام کی طرح اس کا بھی حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ ضیا الحق ،بھٹو اصاحب کا انتخاب تھے‘ جنھیںکئی سینئر جرنیلوں کو بائی پاس کرکے آرمی چیف بنایا گیاتھا ۔ تحریک کے دوران تینوں مسلح افواج کے سربراہوں نے وزیراعظم کے ساتھ ملاقاتوں کی تصاویر کے ساتھ یہ بیان جاری کیے کہ وہ منتخب حکومت کے ساتھ ہیں۔ تحریک کے کسی مرحلے پر نہ تو بھٹو صاحب کو فوج پر کوئی شک ہوا اور نہ پی این اے کی قیادت کو اس معاملے میں کوئی امید نظر آئی۔ چنانچہ تحریک کے دوران بعض ایسے نعرے لگتے رہے جن کا یہاں تذکرہ مناسب نہیں۔ تحریک کا یہ نعرہ تو خاصا مقبول ہوا کہ ’’پاکستان کے تین شیطان بھٹو‘ ضیا اور ٹکا خان۔‘‘ لاہور میں فوج ہی کے ایک دستے نے مظاہرین پر گولی چلا کر تین نوجوانوں کو شہید کیا ۔کیا پی این پی سے ملی فوج اس کے مظاہرن پر گولیاں چلاتی۔اس معاملے پر اگرچہ تین بریگیڈئرز نے استعفیٰ دیے تھے۔جوٰ فوج کے مضبوط اندرونی نظام کے لیے ایک وارننگ تھالیکن فوج کا مجموعی طرز عمل حکومت کے حق میں تھا اور فوج پر بھٹو صاحب کے اعتماد کا یہ عالم تھا کہ انہوں نے فوج کے تعاون سے کراچی‘ حیدرآباد اور لاہور میں مارشل لا نافذ کر دیا تھا۔ بھٹو صاحب کے اسی اقدام نے فوج کو مداخلت کا راستہ دکھایا۔۔پی این اے کے بعض حلقوں میں یہ تاثر موجود تھا کہ کہیں بھٹو ضیا الحق میں گٹھ جوڑ نہ ہو جائے۔ اگر پی این اے کی جماعتیں مارشل لاء کے لیے تحریک چلا رہی تھیں تو وہ ضیا الحق کی دعوت پر تمام کی تمام ان کی کابینہ میں شامل ہو جاتیں۔ لیکن نو میں سے صرف چار جماعتیںعبوری کابینہ میں شامل ہوئیں ان میں سے بھی دو جماعتیں پی ڈی پی اور جے یو آئی (ف) کچھ عرصہ بعد ایم آر ڈی کا حصہ بن کر ضیا مارشل لاء کے خلاف جدوجہد کر رہی تھیں جب کہ جماعت اسلامی اور مسلم لیگ نے1985 کے انتخابات کے بعد مارشل لا اٹھوانے میں اہم کردار ادا کیا. یہاں یہ بات بھی نوٹ کرنے کی ہے کہ ایم آر ڈی کے قیام کے وقت بیگم نصرت بھٹو نے شریک پارٹیوں کے سامنے یہ شرط رکھی تھی کہ وہ 1977ء کے انتخابات کو منصفانہ تسلیم کریں اور اعلان کریں کہ ایک منتخب حکومت کو مارشل کے ذریعے ختم کیا گیا لیکن ایم آر ڈی میں شامل کسی جماعت نے اس شرط کو تسلیم نہیں کیا۔ اگر اس تاریخ کا دیانت داری سے جائزہ لیا جائے تو نتیجہ یہی نکلے گا کہ 1971ء سے 1977ء تک کے تمام فسطائی اور غیر جمہوری اقدامات کے ذمہ دار مسٹر بھٹو تھے اور نظامِ مصطفی کی تحریک خالصتاً عوامی مزاحمتی تحریک تھی جب کہ 1977ء کے مارشل لا اور اس مارشل لا کے اقدامات کی ذمہ دار برسر اقتدار فوج تھی۔ ان اقدامات کی ذمہ داری نہ تو تحریک پر ڈالی جاسکتی ہے اور نہ ہی پی این اے کی جماعتوں پر۔ بدقسمتی سے پیپلزپارٹی نے اپنی سیاسی ضرورت اور لبرل دانشوروں نے اپنی افتاد طبع کے تحت اس تحریک کو دھندلانے کی کوششیں کیں جو اب تک جاری ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ ملک کی اس شاندار تحریک اور تاریخ کے درست بیانہ کو ریکارڈ پر لایا جائے ۔


ای پیپر