حسین شیرازی کی ’’دعوت شیراز‘‘
04 ستمبر 2020 (14:01) 2020-09-04

شدید گھٹن کے موجودہ ماحول میں انسان لطیف باتوں اور خوشگوار محفلوں کے لیے ترس گئے ہیں، ایسے میں اعلیٰ معیار کا مزاح پڑھنا کسی نعمت سے کم نہیں، ’’بابونگر‘‘ جیسی شاہکار تصنیف کے بعد طنز و مزاح کے حوالے سے مداحوں کو جناب حسین احمد شیرازی کی جانب سے کسی نئی کتاب کا انتظار تھا، مصنف نے قارئین کو مایوس نہیں کیا اور ’’ دعوت شیراز‘‘ کے عنوان سے ادب میں ایک اور خوبصورت اضافہ کر ڈالا۔ حسین احمد شیرازی جس طرح خود نفیس شخصیت کے مالک ہیں، ان کی تحریروں میں بھی وہی نفاست جھلکتی ہے، یہی شائستگی ان کو اپنے کئی ہم عصروں کے مقابلے میں منفرد مقام عطا کرتی ہے۔ مقام افسوس کہ ہر گزرتے دن کے ساتھ نہ صرف معاشرے اور اقدار بلکہ زبان و بیان کے حوالے سے بھی تنزلی کا سفر جاری ہے۔ پھکڑ پن کو مزاح کا نام دے کر نہ جانے کیا کیا ’’نمونے‘‘ پیش کیے جارہے ہیں، گھٹیا جگتیں، اشکال بگاڑنا اور غیر اخلاقی جملے لکھنا اور کسنا مزاح بنا دیا گیا ہے۔ ایسے میں اس بات کی اہمیت و ضرورت اور بھی بڑھ جاتی ہے کہ پڑھے لکھے اور صاحب دانش مصنف آگے آئیں، جن کا مطالعہ وسیع ہواور وہ عملی زندگی کے معاملات سے بھی زمینی حقائق کے مطابق آگاہی رکھتے ہوں، حسین احمد شیرازی اس میرٹ پر خوب پورا اترتے ہیں، ایک باوقار سول افسر کے طور پر ملک بھر میں بھانت بھانت کی بولیاں بولنے والے لوگوں کو کامیابی سے ڈیل کرتے رہے، شعبہ وکالت سے وابستہ ہوئے تو نیک نامی کمائی، ادبی دنیا میں قدم رکھا تو آگے بڑھتے ہی چلے گئے، آئیے ’’ دعوت شیراز سے محظوظ ہوں۔مصنف ایک باب میں کیا خوب لکھتے ہیں کہ‘‘خاندان کے اجتماع میں ایک گروپ میں بیٹھے ہوئے افراد’’انجمن زن مریدان‘‘ کے قیام اور اس کے منشور پر گفتگو کررہے تھے۔اسی دوران میزبان کی والدہ دور سے بات چیت سنتی ہوئی وہاں آئی اور اپنے صاحبزادے کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی ’’یہ انجمن ضرور بنائو لیکن میرٹ کا خیال رکھتے ہوئے میرے بیٹے کو اس کا چیئر مین بنانا‘‘۔اس پر کافی فاصلے پر تشریف فرما صاحب خانہ کی دادی کی آواز آئی ’’اور بھولنا مت! 

انصاف کے تقاضوں کے مطابق میرے بیٹے کو اس مجلس کا سرپرست اعلیٰ بنانا۔‘‘ حسین شیرازی نے کتنی عمدگی کے ساتھ کس قدر مزاح سے بھر پور بات کہہ ڈالی، مصنف ایک اور جگہ کیا خوب لکھتے ہیں کہ ’’طنز و مزاح کیا ہے؟‘‘

طنز و مزاح کا تعلق دلچسپ افعال و واقعات اور ہنسنے مسکرانے سے ہے۔ زندگی کا یہ شعبہ اتنا ہی قدیم ہے جتنا اس عالم رنگ و بو کا آغاز۔عدم نے تخلیق کائنات کے ’’دلچسپ‘‘ فعل پر یزداں کے کبھی کبھی ہنسنے کا تذکرہ کیا ہے تو جون ایلیا نے اس جہان خراب کی تمام کوتاہیوں کو تخلیق کی عجلت سے منسلک کردیا ہے بلکہ مٹی کو پھر سے گوندھ کر دوبارہ بنانے کی ’’سند عدم اعتراض‘‘ بھی دے دی ہے۔فیض نے صرف چار دن ’’فرصت گناہ‘‘ ملنے پر کسی کے حوصلے کا شکوہ کیا ہے تو غالب نے اس دنیا کو باز یچہ اطفال قراردے کر انسانی زندگی کو تماشے سے مماثلت دی ہے۔ پھر حکیم الامت علااہ اقبالؒ کو تو دیکھیے کہ 

محشر میں اپنے جنون کے ہاتھوں

یا اپنا گریبان چاک یا دمان یزداں چاک

کا منظر پیش کر رہے ہیں!

انسان بھی طرفہ تماشا ہے.... کوئی دنیاوی مال و متاع لوٹ کر شاد ہے تو کوئی اپنا سب کچھ قربان کر کے خوشی سے پھولا نہیں سماتا۔کوئی جنت کی طلب میں سرکٹوانے کو تیار ہے تو کوئی سیر کے لیے ’’تھوڑی سی فضا اور‘‘ کی خاطر فردوس کو دوزخ میں ملانے کی اجازت طلب کر رہا ہے۔بہادر شاہ ظفر کو تدفین کے لیے کوئے یار میں صرف دو گز زمین نہ ملنے کا شکو ہ رہا جبکہ آئن سٹائن نے ایٹم بم سے اس دنیا کے تباہ ہونے کے خدشے کے اظہار پرکہا کہ اتنی بڑی کائنات میں اس سے کچھ فرق نہیں پڑے گا۔

مصنف نے ایک اور مضمون میں کئی سال پہلے سرکاری ہسپتال میں اپنے علاج کی داستان جس دلچسپ پیرائے میں بیان کی ہے، اس کا لطف صرف پڑھ کر ہی اٹھایا جا سکتا ہے، وہ لکھتے ہیں کہ‘‘اس وارڈ میں گھڑی کی کوئی ضرورت نہیں تھی۔صبح ساڑھے پانچ بجے صفائی والے خاکر وب آتے تھے۔اس کی پہچان یہ تھی کہ دھڑا دھڑ تمام کھڑکیاں،دروازے ٹھا ٹھا کر کے کھول دئیے جاتے تھے۔تمام بلب اور ٹیوب لائٹس جلا دی جاتی تھیں،خنکی کے باوجود فرش خشک کرنے کیلئے پنکھے چلا دئیے جاتے تھے اور جھاڑو کے ساتھ ساتھ تیز فنائل میں بھیگے ہوئے کپڑے سے فرش کی صفائی شروع ہو جاتی تھی۔فنائل کی بو اور اس سے منسلک الرجی کے مریضوں کی چھینکوں سے نیم بے ہوش مریض بھی جاگ اٹھتے تھے۔ پھر سات بجے گر گر گرگر کی آواز وں کے ساتھ کھانے کی ٹرالیوں کی آمد اور تڑاخ تڑاخ سٹیل کے برتنوں کی تقسیم کے ساتھ ’’اٹھو اٹھو! ناشتہ کرلو‘‘کے نعرے گونجنے لگتے تھے۔ اب مریض خواہ کتنا ہی تکلیف میں کیوں نہ ہو،ناشتہ بہت ضروری تھا۔ناشتے کی کراکری صر ف ڈونگوں پر مشتمل تھی جن میں صبح کے وقت دلیہ،دوپہر کو سالن اور رات کوچاول کھائے جاتے تھے،مقدار کے تعین کے لیے ان میں مناسب سطح پر چار سوراخ کیے گئے تھے۔مبادا کوئی مریض زیادہ دودھ یا سالن نہ ڈال لے۔آٹھ بجے پھر ایک اور ہنگامہ شروع ہو جاتا تھا۔’’اٹھیں بستر بنانا ہے،چادریں تبدیل کرنی ہیں۔‘‘ چادریں مہینے میں دو دفعہ تبدیل کی جاتی تھیں۔پہلی دفعہ جب میڈیکل سپرنٹنڈنٹ آتا تھا اور دوسری دفعہ جب سٹاف کو مریضوں پر رحم آتا تھا!!

’’ دعوت شیراز‘‘ سے تین حصے آپ کو پیش کردئیے، پوری دعوت کا لطف اٹھانے کے لیے کتاب خرید کر پڑھیں، اگر مصنف آپکو خود عنایت کردیں تو آپکی قسمت۔ قسمت سے یاد آیا کہ کتاب کی تقریب رونمائی کے لیے تمام تیاریاں مکمل کرلی گئی تھی، ہال بک تھا، تاریخ طے تھے، کارڈز بجھوائے جاچکے تھے، اچانک کورونا بے قابو ہوگیا، تقریب سے عین دو دن پہلے ضروری  احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم آیا یوں محفل انعقاد سے قبل ہی منسوخ کرنا پڑی۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم سے اب وبا دم توڑ رہی ہے،موسم کھل رہا ہے،‘‘ دعوت شیراز‘‘ کی تقریب رونمائی کا مرحلہ بھی آنے ہی والا ہے، جس کا ہم سب کو شدت سے انتظار ہے۔ حسین احمد شیرازی کو شعر وادب کی دنیا کے بڑے نام جناب عطا الحق قاسمی کی معطر محفل کے دوستوں میں گلاب کا مقام حاصل ہے، اور یہ تو سب جانتے ہی ہیں کہ قاسمی صاحب کے دوستوں اور شاگردوں کا جہاں اکٹھ ہو جائے اس تقریب کو چار چاند لگ جاتے ہیں، دعا ہے کہ یہ سلسلہ یونہی چلتا رے اور 

’’ محفل یاراں آباد رہے‘‘۔


ای پیپر