این آراواورسیاسی چور
04 ستمبر 2020 (14:01) 2020-09-04

ملک کے سب سے بڑے سرٹیفائیڈ چور اور ڈاکو آج بھی امریکہ،برطانیہ،دبئی اوردیگرممالک میں بیٹھ کراین آراوکے مزے لے رہے ہیں لیکن پھربھی یہ نادان کہتا ہے کہ ’’میںکسی کرپٹ ، چور اور ڈاکو کواین آراونہیں دوں گا‘‘ جنہوں نے سترسال سے اس ملک کوجی بھرکرلوٹا۔ان میں کچھ غیروں کے پیارے بنے اورکچھ ہماری آنکھوں کے تارے۔ملک لوٹنے والے آج بھی دیدہ دلیری اورپوری ایمانداری کے ساتھ ملک وقوم کودونوں ہاتھوں سے لوٹ رہے ہیں اورانہیں روکنے وٹوکنے والا کوئی نہیں۔جنہوں نے اس ملک وقوم کوکبھی لوٹایاجواب لوٹ رہے ہیں ۔ان چوروں،ڈاکوئوں ،لوٹوں اورلٹیروں کونہ پہلے کبھی کسی این آراوکی کوئی ضرورت تھی اورنہ ہی اب انہیں ملک لوٹنے کے لئے کسی این آراوکی کوئی طلب ہے۔تین بارملک کے وزیراعظم رہنے والے جس میاں کواس نادان نے خودملک کے سب سے بڑے چوراورڈاکوکے ،،اعزاز،،و،،ایوارڈ،،سے نوازاتھاوہ میاں جی کب سے لندن کی کھلی فضائوں میں دونوں ہاتھ لہراکر،، این آراو،،کے پرخچے اڑا اور اس نادان کا منہ چڑا رہے ہیں۔ نوازشریف کوتوہم نے چوروڈاکونہیں کہاتھا۔تاریخ کاسبق اورسچ یہی ہے کہ جنہوں نے سابق وزیراعظم کوچوروں اورڈاکوئوں کاباپ کہاتھاانہوں نے ہی پھر،، این آراو،،دے کرچوروں اورڈاکوئوں کے اس باپ کواپنے ہاتھوں سے باہربھیجا۔پیچھے اسی نوازشریف اورآصف علی زرداری کے جوسیاسی بچے اوربقول سونامیوں کے چھوٹے چوراورڈاکوتھے انہیں اسی وزیراعظم عمران خان نے این آراودے کرسینے سے لگایا۔ نواز شریف اورزرداری اگرواقعی چوروں اورڈاکوئوں کے باپ تھے توپھران کے سیاسی چوربچوں کوتحریک انصاف میں کیوں شامل کیاگیا۔۔؟پھرنوازشریف اگرچوروں اورڈاکوئوں کے سرغنہ تھے توانہیں پھر باہرکیوں جانے دیاگیا۔؟کہتے ہیں ان کی طبیعت خراب تھی۔کال کوٹھریوں میں رہنے والوں کی بھی بھلاطبیعت کبھی ٹھیک ہوتی ہے۔۔؟اس ملک کی جیلوں اورکال کوٹھریوں میں توایسے ایسے لوگ بھی قیدوبندکی سزائیں کاٹ رہے ہیں جونہ صرف عمرمیں نوازشریف سے زیادہ بڑے اوربزرگ ہیں بلکہ خرابی صحت اورطبعیت ناسازی میں بھی سابق وزیراعظم سے کئی درجے آگے اورابتر ہیں ۔ این 

آراوکے نام پرآسمان سرپراٹھانے والے وزیراعظم عمران خان ایک طرف یہ کہتے ہوئے نہیں تھکتے کہ سابق ادوارمیں طبقاتی نظام اورغریب وامیرکیلئے الگ الگ قانون نے ملک وقوم کوتباہ کیالیکن دوسری طرف اسی عمران خان کی حکمرانی میں جس طرح طبقاتی نظام اورامیروغریب کے لئے الگ الگ قانون کوپروان چڑھایاجارہاہے تاریخ میں اس کی مثال ملنی مشکل ہے۔تحریک انصاف کی حکومت میں اگر امیروغریب کے لئے الگ الگ قانون نہیں توپھرشوگر رپورٹ پبلک ہونے کے بعد چہیتے جہانگیرترین ملک سے نودوگیارہ کیسے ہو گئے۔۔؟ قانون اگرایک ہی ہے تو پھر ہزاروں اورلاکھوں بیمار،ضعیف اور کمزور قیدیوں ومجرموں کو نظرانداز کر کے ایک نوازشریف کو کیسے علاج کیلئے باہر بھیجا گیا۔۔؟ قانون اگرامیروغریب اوراپنے وبیگانے کے لئے واقعی برابرہی ہے توپھراپنے دامن کے نیچے اورآستین میں چھپے بے شمارلوٹوں ولٹیروں کے ہوتے ہوئے فقط ایک مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کواحتساب کے نام پرباربارکیوں ٹارگٹ کیا گیا یا کیوں ٹارگٹ کیا جا رہا ہے۔۔؟ملک بھرکے چوروں، ڈاکوئوں، لوٹوں اورلٹیروں میں قربانی کے گوشت کی طرح ’’ این آراو‘‘تقسیم کرنے کے بعداب سینہ تان کرکہاجارہاہے کہ ،،میں کسی چوراورڈاکوکواین آراونہیں دوں گا،،کیااین آراولینے کے لئے اب کوئی بچاہے۔۔؟جن پرلوٹ ماراورکرپشن کے الزامات تھے وہ توپی ٹی آئی اور حکومتی صفوں میں گھس چکے ہیں ۔رہے نوازشریف اور آصف علی زرداری انہیں تواب غالباً کسی این آراوکی کوئی ضرورت نہیں۔ ایسے میںعمران خان این آر او دیناچاہیں بھی توسوال یہ پیداہوتا ہے کہ وہ این آراولے گا کون۔۔؟تاریخ کادوسراسبق ہمارے لئے یہی ہے کہ این آراوکے تلوں میں بھی اب تیل نہیں۔ویسے سائیں توسائیں ،سائیں کے غلام بھی سائیں سے کچھ کم نہیں۔ہم کپتان کی کرامات کاذکرکریں یاان کے کھلاڑیوں کے کمالات کانظارہ۔۔؟وزیراعظم عمران خان جس طرح انصاف عام اوراحتساب سرعام میں اپناکوئی ثانی نہیں رکھتے اسی طرح انہیں این آراومیں ملنے والے وزیر،مشیراور عجوبے بھی انصاف میں کوئی مثال نہیں رکھتے۔ملک کی سترسالہ لوٹ مارمیں جس صاحب نے خودبھی اپناحصہ ڈالا۔جوصاحب پیپلزپارٹی اوردیگرسیاسی جماعتوں کے ذریعے ملک کے سیاسی سفرمیں کبھی پیچھے نہیں رہے۔آج بھی جن کی طرف حساب کتاب کرنے والوں کی بہت سی انگلیاں اٹھ رہی ہیں ۔ اپنے کپتان کی طرح جوش خطابت میں وہ نادان ایسی بات کہہ گئے کہ آج بھی اس بات اورفقرے پرسوچتے ہوئے وہ ضروردن میں سوبار شرم سے پانی پانی ہوتے ہوں گے۔ صاحب فرماگئے کہ سترسال سے ملک لوٹنے والے واجب القتل ہیں۔دینی اورمذہبی اعتبارولحاظ سے فتوے دینے والے مفتی تواس ملک کے اندرہم نے بہت دیکھے تھے لیکن یہ غالباًنہیں بلکہ یقینناًپی ٹی آئی کا پہلا واحد وزیر ہے جس نے سیاسی مفتی کا اعزاز اپنے نام کرلیاہے۔اس سیاسی مفتی نے سترسال سے ملک لوٹنے والوں کوتوواجب القتل قرار دیدیا مگر یہ نہیں بتایاکہ ان چوروں اورلٹیروں کے حاشیہ بردار رہنے والوں کوقتل کرناواجب ہو گا یا فرض۔۔؟ اسی لئے توکہتے ہیں کہ دوسروں پرفتوے لگانے سے پہلے ایک منٹ اورلمحے کے لئے اپنے گریبان میں بھی ضرور جھانکنا چاہئے۔ ماناکہ سترسال سے ملک لوٹنے والے چور اور ڈاکوواجب القتل ہوں گے لیکن ان سترسالوں میں اس وزیراورصاحب کی طرح جوان چوروں اورڈاکوئوں کے ساتھی اورسہولت کاررہے انہیں بھی تو سزادے کرانجام تک پہنچاناواجب ہوگا۔یہ توانصاف نہیں کہ چور اور ڈاکوئوںکوتوتوت پر چڑھایاجائے اور سہولت کار اقتدار اورحکومت کے مزے لیتے رہیں۔ وزیراعظم عمران خان اوران کے شاطروزیروں ومشیروں کے ہاں شائدکہ انصاف سیاسی مخالفین کوٹارگٹ کرنا،نیب کے ذریعے نشان عبرت بنانااورواجب القتل قراردیناہو مگرانتہائی معذرت کے ساتھ یہ انصاف نہیں بلکہ یہ وہ کھلا انتقام ہے جس کی بدبو دوسال سے اس ملک میں ہرطرف محسوس کی جا رہی ہے۔انصاف یہ ہے کہ مسلم لیگ ن،پیپلزپارٹی اوردیگرسیاسی مخالفین کواحتساب کے نام پر بطور انتقام گھسیٹنے کی بجائے پی ٹی آئی اورحکومتی صفوں میں شامل ہونے والے چوروں اور ڈاکوئوں کے پرانے ساتھیوں اوران کے سہولت کاروں سے این آراوواپس لیکرانہیں پہلی فرصت میں دنیاکے لئے عبرت کانشان بناناواجب نہیں بلکہ فرض قرار دیاجائے۔کپتان سابق وزیراعظم نوازشریف اورآصف علی زرداری سے ایک ایک نہیں دودوہاتھ کرلیں ہمیں اس پرکوئی اعتراض نہیں لیکن ان سے پہلے اپنے دامن میں چھپنے والے ان کے سیاسی بچوں جواب کپتان کے سیاسی بچوں کادرجہ اورمقام حاصل کر چکے ہیں کوانجام تک ضرور پہنچائیں۔ کیونکہ جب تک یہ چیلے اورسہولت کارانجام کونہیں پہنچتے تب تک لو ٹ ماراوراین آراووالایہ کھیل کبھی ختم نہیں ہوگا۔


ای پیپر