کورونا نے بھارتی معیشت کی کمر توڑ دی
04 ستمبر 2020 (14:00) 2020-09-04

چین سے شروع ہونے والا کورونا وائرس بھارت میں بے قابو ہوچکا ہے جہاں ایک روز کے دوران دنیا میں سب سے زیادہ مریض سامنے آ ئے۔ بھارت میں 30 اگست بروز اتوار 78 ہزار 761 افراد کورونا کے مریض بنے جب کہ بھارت میں 31 اگست پیر کے روز کورونا سے 971 ہلاکتیں بھی رپورٹ ہوئی ہیں۔یوں کورونا سے ہلاکتوں میں بھارت دنیا بھر میں تیسرے نمبر پر آگیا۔ ماہرین نے بھارت میں کورونا کے بڑھتے ہوئے اثرات کو دیکھتے ہوئے امکان ظاہر کیا ہے کہ بھارت جلد ہی کورونا کیسز میں برازیل اور امریکا کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا۔ بھارت میں کورونا کے مریضوں کی مجموعی تعداد 36 لاکھ 21 ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور ہلاکتیں 64 ہزار سے زیادہ ہیں۔

بھارتیوں کا کہنا ہے کہ ملک میں کورونا سے کہیں بھی راحت نہیں مل رہی۔ اس مہلک بیماری کے بڑھنے اور بچاؤ کے لئے ضروری اقدامات نہ ہونے کی وجہ سے لوگ بیزار ہو چکے ہیں۔ کاروبار وغیرہ بند ہیں۔ ٹرانسپورٹ بند ہے۔ ہر جگہ کورونا کی دہشت ہے اور مریضوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے ساتھ ہی اموات بھی بڑھ رہی ہیں۔ مودی سرکار کوئی تسلی بخش اقدام نہیں کر رہی صرف اتنا کہا جا رہا ہے کہ لوگ صبر کریں اور احتیاط کریں۔ اناج اور کھانے پینے کی اشیاء کی شدید قلت ہوگئی ہے۔ مودی سرکار نے عوام سے وعدہ کیا تھا کہ نومبر تک راشن ، گیہوں اور چاول مفت ملتے رہیں گے۔  لیکن  دیئے جانے والے راشن  میں کنکر پتھر اس قدر ہیں کہ ان کو کھانا ناممکن ہے۔ 

دہلی میں کورونا وائرس کی وبا کے خطرناک صورت اختیار کرنے کے خدشے کے مدنظر حکومت جہاں ہسپتالوں میں ہزاروں اضافی بیڈ کا انتظام کررہی ہے وہیں حالات کو کنٹرول میں رکھنے کے لیے فوج کی مدد لینے پر بھی غور کررہی ہے۔حکومت کے اعداد و شمار کے مطابق دو کروڑ سے زیادہ آبادی والی دہلی میں مریضوں کے لیے کوئی 13400 بستر الاٹ کیے گئے ہیں ۔ مریضوں کے لیے کئی مذہبی مقامات میں عارضی مراکز بنائے گئے ہیں جبکہ ٹرینوں 

کے ڈبوں کو بھی عارضی میڈیکل وارڈ میں تبدیل کیا گیا ہے۔وفاقی وزیر داخلہ امیت شا ہ نے بتایا کہ دہلی میں ریلوے کوچز میں رکھے گئے کے مریضوں کو طبی امداد اور دیکھ بھال فراہم کرنے کے لیے مسلح افواج کے جوانوں کو ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے۔دہلی کے نائب وزیر اعلی منیش سسودیا نے اعتراف کیا کہ مارا ایمبولنس سسٹم اور ہمارا میڈیکل سسٹم زبردست دباو میں ہے۔ ہمیں مریضوں کو بسوں میں لے جانا پڑ رہا ہے ۔ دہلی میں صرف 163ایمبولنس کو کورونا ڈیوٹی پر لگایا گیا ہے جبکہ پچھلے 24 گھنٹوں میں تقریباً چار ہزار پازیٹیو کیس سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں اگر تمام 163ایمبولنس کو بھی صرف ان افراد کو ہسپتالوں میں منتقل کرنے کے لیے لگایا جائے تب بھی اس کے لیے تین سے پانچ دن چاہئیں۔ دراصل دہلی میں حکمراں عام آدمی پارٹی اور اپوزیشن بھارتیہ جنتا پارٹی اور کانگریس سبھی اپنا اپنا سیاسی قد بڑھانے میں مصروف ہیں۔ تینوں جماعتیں اس ابتر صورت حال کے لیے ایک دوسرے کو مورد الزام ٹھہرارہی ہیں اور ان سب میں سب سے زیادہ نقصان عوام کا ہورہا ہے۔  

کورونا کی وجہ سے جانی ہی نہیں بلکہ مالی و معاشی نقصان بھی بے انتہا ہو رہا ہے۔ عالمی معیشت نے تیزی سے تنزلی کا سفر طے کیا۔ کاروبار، روزگار غرض ہر چیز ختم ہو کر رہ گئی۔ کورونا نے بھارتی معیشت کی کمر توڑ کر رکھ دی۔ بھارت کے معاشی و اقتصادی اعشاریے معاشی تباہی کی جانب اشارہ کر رہے ہیں ۔گذشتہ 4ماہ ٹیکس کی وصولی 2.3ٹریلین ڈالر جبکہ مجموعی اخراجات 10.5 ٹریلین ڈالر رہے۔ بھارت کا مالیاتی خسارہ 111.7 بلین ڈالر (8.21کھرب) ریکارڈ کیا گیا۔   کورونا کے علاوہ بھارتی معیشت کا بیڑا غرق کرنے میں مودی کی معاشی اور انتہا پسندانہ پالیسیاں بھی برابر کی ذمہ دار ہیں۔ 

بھارت میں رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں اقتصادی ترقی کی شرح یعنی جی ڈی پی منفی تقریباً 24فیصد تک گر گئی ہے جو گزشتہ 40برسوں میں بھارت میں سب سے بڑی اقتصادی گراوٹ ہے۔ پہلی سہ ماہی میں تو ابھی کورونا شروع ہی ہوا تھا ۔ اس کے اثرات تو دوسری سہ ماہی میں دیکھے جا سکتے ہیں توپھر پہلی سہ ماہی میں لازماً مودی سرکار کی انتہا پسندی کام کر گئی۔ رہی سہی کسر کورونا نے پوری کر دی۔   کورونا وبا کی وجہ سے ملک بھر میں جاری لاک ڈاون کے سبب پوری طرح ٹھپ اقتصادی سرگرمیوں نے معیشت کو زبردست دھچکا پہنچا یا ہے اور دیگر ترقی یافتہ اور ابھرتی ہوئی معیشتوں کے مقابلے میں بھارت کی کارکردگی کہیں زیادہ خراب رہی۔

ماہرین اقتصادیات کا کہنا ہے کہ بھارت میں اقتصادی حالت بہتر ہونے میں ابھی ایک طویل وقت لگے گا۔  اقتصادی تجزیہ نگا ر انشومن تیواری کا کہنا ہے کہ حکومت ابھی تک ایک من گھڑت اور امید افزا ماحول کی تصویر پیش کررہی تھی لیکن معیشت کی حقیقی تصویر اب سامنے آگئی ہے اور حکومت کی طرف سے کھڑی کی گئی نقلی عمارت ٹوٹ رہی ہے۔بھارت اس وقت انتہائی شدید اقتصادی کساد بازاری کی گرفت میں ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ چونکہ معیشت پہلے سے ہی سست رفتار تھی اور چونکہ بھارت کی معیشت کھپت پر مبنی ہے اس لیے کھپت کو بری طرح دھچکا لگنے سے پوری معیشت ہی لڑکھڑا گئی ہے۔

معروف ماہراقتصادیات پروفیسر ارون کمار کا کہنا تھا کہ معیشت کی جو حالت ہے اس میں تقریباً تمام شعبوں میں سرمایہ کاری میں کمی ہوگی، کھپت کم ہوگی، حکومت کی آمدنی میں زبردست کمی آئے گی۔ ملازمتیں ختم ہونے کی وجہ سے انکم ٹیکس سے ہونے والی آمدنی بھی کم ہوجائے گی اور کارپوریٹ سیکٹر خسارہ دکھائے گا جس کی وجہ سے کارپوریٹ ٹیکس سے ہونے والی آمدنی بھی بری طرح متاثر ہوگی۔سابق وزیر خزانہ اور کانگریس کے رہنما پی چدمبرم نے مودی حکومت پر کورونا وبا سے نمٹنے میں ناکام رہنے اور جی ڈی پی کو بری طرح گرنے دینے کا الزام لگایا ہے۔ چدمبرم کا کہنا تھا’’وزیر اعظم اور وزیر خزانہ کوچھوڑ کر ہر ایک کو معلوم تھا کہ بھارت کی معیشت کا بحران سنگین ہونے والا ہے۔ پورا ملک اس کی قیمت ادا کررہا ہے۔  غریب مایوس ہیں لیکن مودی حکومت کو اس کی کوئی فکر نہیں ہے۔  حکومت نے ایک جھوٹی کہانی تیار کی تھی جس کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔"چدمبرم نے وزیر خزانہ نرملا سیتا رمن پر بھی نکتہ چینی کی جنہو ں نے گزشتہ دنوں بھارت کی خراب اقتصادی صورت حال کے لیے 'بھگوان کو ذمہ دار‘ ٹھہرایا تھا۔


ای پیپر