خاموش مزاحمت
04 ستمبر 2019 2019-09-04

خبر گرم ہے کہ سابق اور جیل میں بند وزیراعظم میاں نواز شریف سے اعلیٰ سطحی رابطہ کیا گیا ہے جس میں پیشکش کی گئی ہے وہ کچھ عرصے کے لیے ملک سے باہر چلے جانے پر آمادہ ہوجائیں تو انہیں موجودہ قید سے رہائی مل سکتی ہے… کیونکہ ملک انتہائی نازک صورت حال سے گزر رہا ہے… آپ کے تعاون کی صورت میں حالات کو نارمل کرنے میں مدد مل سکتی ہے… ملاقات میں سب سے زیادہ کوشش مولانا فضل الرحمن کے آزادی مارچ کو ملتوی کرانے پر کی گئی… جواب میں تین مرتبہ منتخب ہونے والے برطرف شدہ وزیراعظم نے واضح طور پر کہا میں نے جو کھونا تھا کھو دیا، اب میرے پاس کھونے کو کچھ نہیں لیکن اگر آپ سمجھتے ہیں کہ میں کچھ دیر کے لیے ملک سے چلا جاؤں تو مجھ سے بڑا منافق کوئی نہیں ہو گا اور نہ ہی میں مولانا فضل الرحمن کو آزادی مارچ ملتوی کرنے کا مشورہ دوں گا… ملاقات کرنے والوں نے بہت سارے راستے اور تجاویز میاں نواز شریف کے سامنے رکھے مگر انہوں نے واضح جواب دیا کہ ایسے وقت میں علاج سے زیادہ ملک کی مجموعی صورت حال ہے جس کے پیش نظر میں کسی طور پر بھی ملک نہیں چھوڑ سکتا… اس خبر میں کتنی حقیقت ہے اور کتنی نہیں، اس کے بارے میں تو آنے والے حالات میں پتہ چل سکے گا لیکن اگلے روز سینئر صحافی حامد میر نے ایک ٹی وی پروگرام میں انکشاف کیا کہ وہ کشمیر مارچ کے سلسلے میں برطانیہ گئے ہوئے تھے… جہاں اُن کی ملاقات میاں نواز شریف کے صاحبزادوں سے بھی ہوئی، جس کے دوران انہوںنے بتایا کہ مقتدر طبقوں کی جانب سے سابق وزیراعظم کے ساتھ جیل میں جو رابطہ قائم کیا گیا، اس میں یہاں تک کہا گیا ہے کہ آپ کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے جس کا ہمیں افسوس ہے، آپ تعاون کریں کچھ عرصے کے اندر حالات ٹھیک ہو جائیں گے… اسی دوران سوشل میڈیا پر ایک اور خبر سامنے آئی مسلم لیگ (ن) کی جماعت کے اندر جو عناصر مقتدر قوتوں کے ساتھ کوئی ڈیل یا مفاہمت کر کے اپنی جماعت اور اس کے قائدین کی سیاست کے لیے راستہ نکالنے کی خواہش رکھتے ہیں… انہوں نے بھی اپنے رہنما کو مشورہ دیا ہے کہ وہ کسی قسم کی مفاہمت پر آمادہ ہو جائیں… اس سلسلے میں ایک خط کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے جو نواز شریف صاحب کی معطلی کے بعد انہی کی جانب سے نامزد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے جو خود بھی حوالات میں بند ہیں اپنے لیڈر کو لکھا ہے اور ان سے اپنے رویے میں لچک پیدا کرنے کی درخواست کی ہے… ان تمام خبروں کو ملا کر پڑھیے تو ایک حقیقت واضح ہو جاتی ہے نواز شریف صاحب تمام ترغیبات کے باوجود سمجھوتے کے لیے تیار نہیں… مگر یہ سوال ضرور پیدا ہوتا ہے کہ جب قیدی اس طرح باہر آنے پر تیار نہیں تو اسے جیل میں ڈالنے والے اپنے مجرم کی رہائی کے کیوں خواہشمند ہیں… نواز شریف کو اس طرح کی پیشکش اس وقت بھی کی گئی، جب وہ لندن میں اپنی کینسر زدہ اور آخری سانسیں لیتی ہوئی اہلیہ کو ہسپتال کے بستر پر چھوڑ کر جیل جانے اور سزا قبول کرنے کے لیے بیٹی کے ہمراہ سیدھے پاکستان آئے اور خود کو مقامی حکام کے حوالے کر دیا جنہوں نے انہیں فوراً اڈیالہ جیل پہنچا دیا… اس کے بعد سے اب تک موصوف نے اپنے آپ کو بیگناہ ثابت کرنے اور رہائی کی خاطر قانونی چارہ جوئی تو کی ہے جس کے لیے اب بھی کوشاں ہیں…مگر سمجھوتہ کرنے کے لیے ایک لمحہ کے لیے بھی تیار نہیں… اسی دوران وزیراعظم عمران خان ان کی جانب اشارہ کر کے اٹھتے بیٹھتے کہتے رہے ہیں مجھ سے این آر او مانگا جا رہا ہے جو میں ہرگز نہیں دوں گا… نوازشر یف کے ترجمانوں اور ان کی جماعت کے دوسرے قائدین نے ہر موقع پر کہا کہ وزیراعظم کم از کم اتنا بتا دیں کہ ان سے این آر او کون مانگ رہا ہے اور کیا وہ اسے دینے کی اپوزیشن میں بھی ہیں … اس سوال کو ہمیشہ ٹال دیا گیا تاہم اب یہ بات تیزی سے پھیلنے والی افواہوں، قیاس آرائیوں اور کافی حد تک مصدقہ خبروں کا موضوع بن گئی ہے کہ اصل حکمران اپنے خاص قیدی کے ساتھ سمجھوتے کے خواہش مند ہیں… مگر کیوں ؟ ظاہر ہے اس کا جواب نہیں دیں گے… مگر قوم کے ذہنوں میں ابہام بڑھتا چلا جا رہا ہے جو اصل حقیقت جاننا چاہتی ہے…

کیا جیل میں بند نواز شریف جبکہ اس کی سیاسی لحاظ سے متحرک بیٹی مریم کو بھی پابند سلاسل کر دیا گیا ہے اور اس کے ساتھ سوائے کنبے کے قریب ترین افراد کے ملاقاتوں پر بھی پابندی ہے ، اس حالت میں بھی حکمران طبقوں کے لیے پریشانی کا باعث بنا ہوا ہے اب وہ اسے کسی قسم کے صلح نامے پر راضی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں…مجبوری کیا ہے؟ اور بالفرض نواز شریف سمجھوتہ کر کے ملک سے باہر چلے جاتے ہیں تو اس کے نتیجے میں حالات کو نارمل کرنے میں کیا مدد ملے گی؟… ملک کو در پیش صورت حال کی نزاکت کا ایک پہلو یہ ہے بھارت نے گزشتہ 5 اگست کو اچانک مقبوضہ ریاست جموں و کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کر کے آئینی لحاظ سے اپنے ملک کا حصہ بنا لیا ہے… یوں اس کی متنازع حیثیت ختم کرنے کی کوشش کی ہے… جس پر فطری طور پر کشمیری عوام سیخ پا اور سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں… یہاں تک کہ بھارتی حکومت نے گزشتہ ایک ماہ سے پورے علاقے کا لاک ڈاؤن کر رکھا ہے… دن رات کرفیو کی حالت ہے اور پوری کی پوری وادیٔ کشمیر جیل خانے میں تبدیل ہو گئی ہے… اس کے نتیجے میں پاکستان کے لیے بھی بہت بڑے چیلنج نے جنم لے لیا ہے… ہمارے لیے عالمی سطح پر احتجاج کے علاوہ کوئی صورت بن نہیں رہی… بھارتی وزیراعظم نریندر مودی ہمارے حکمرانوں سے بات تک کرنے کے لیے تیار نہیں جبکہ جنگ ہمارے نزدیک کوئی آپشن نہیں… تو کیا نواز شریف جیل سے باہر آ کر یا بیرون ملک بیٹھ کر اس صورت حال کو ختم کر دیں گے… ظاہر ہے اس کا امکان نہیں… بھارت اپنی ہٹ دھرمی، طاقت کے گھمنڈ اور رعونت میں بہت آگے نکل گیا ہے… نواز شریف کے دور میں اتنا ضرور تھا کہ نریندر مودی سے بات چیت ہو سکتی تھی… اس نے 2014ء میں پہلی مرتبہ وزیراعظم بننے کے بعد اپنی تقریب حلف برداری میں شرکت کے لیے پاکستانی ہم منصب کو نئی دہلی آنے کی دعوت دی… نواز شریف وہاں پہنچے بھی… اس کے بعد 25 دسمبر 2015ء کو مودی صاحب وزیراعظم پاکستان کی نواسی کی شادی پر مبارک باد دینے کے لیے لاہور آن وارد ہوئے لیکن ہمارے وزیراعظم کو اپنی اسٹیبلشمنٹ اور اس کے حامی عناصر کی جانب سے اتنے طعنے سننا پڑے اور ان کی سیاسی ساکھ کو بری طرح متاثر کرنے کی ہر طرح سے کوشش کی گئی… کہا گیا کہ نواز شریف نے بھارت کے اندر کاروباری شراکت کر رکھی ہے،وہاں اس کے تجارتی مفاد ہیں، اس لیے مودی کے ساتھ میل جول رکھتا ہے… نتیجے کے طور پر اگر کسی قسم کے مذاکرات ہو سکتے تھے تو ان کا دروازہ بند کر دیا گیا… عمران خان نے حکومت سنبھالتے ہی اسے کھولنے کی ہر ممکن کوشش کی… بار بار پیغام بھیجے… دوسری جانب سے کوئی جواب نہ ملا… یہاں تک کہ نئی دہلی والوں نے کشمیر کو ہڑپ کرنے کا تازہ ترین اور ناجائز ترین اقدام کر ڈالا… ہماری جانب سے مذاکرات کی پیشکش اب تک موجود ہے مگر اس طرف سے کورا جواب ہے… نریندر مودی نے صدر امریکہ ٹرمپ کی ثالثی کی خواہش یا پیشکش کو بھی لائق اعتنا نہیں سمجھا… معاملات کے اس حد تک آگے چلے جانے کے بعد ظاہر ہے نواز شریف کے جیل کے اندر یا باہر نکل آنے سے کوئی فرق نہیں پڑے گا…

تاہم خارجہ اور کشمیر کے ساتھ جڑے ہوئے دفاعی امور سے قطع نظر اندرون ملک حالات بھی کسی پہلو سے ایسے نہیں کہ انہیں پیدا کرنے والے حکمرانوں یا ستم زدہ قوم کو اطمینان کا سانس لینے دیں… مشکلات تو ہر دور میں اور ہر حکومت کو در پیش رہتی ہیں… مگر حقیقت یہ ہے اس وقت ملک صحیح معنوں میں چل نہیں پا رہا… آپ نے تین دفعہ منتخب ہونے والے وزیراعظم نواز شریف کو تو نکال پھینکا… جیل بھی بھیج دیا… ماقبل بھی کسی وزیراعظم کو اس کی آئینی مدت پوری کرنے کی مہلت نہ دی… مگر اس کی جگہ بڑے چاؤ کے ساتھ جو نئی حکومت لائے ہیں اور جن کے سپرد اس کی زمام کار دی گئی ہے، ان کا ایک سالہ ریکارڈ اس حد تک مایوس کن ہے کہ ان کے اندر سے بھی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئی ہیں کہ معاملات کس سمت جا رہے ہیں اور جا بھی رہے ہیں یا نہیں…کوئی معاشی ہدف نہیں پورا ہو پا رہا… قرضوں کا بوجھ اتنا چڑھا لیا گیا ہے کہ حکومتی ڈھانچے کے اندر اسے کندھوں پر اٹھانے کی سکت نہیں… ٹیکسوں کی وصولی طے شدہ اہداف سے بہت کم ہے… بیرون ملک سے سرمایہ کاری آ نہیں رہی… اندرون ملک کا صنعتکار روپیہ لگانے کی ہمت کھو چکا ہے… اس کے اندر پیش قدمی(Initiative) کے جذبے پر مردنی چھائی ہوئی ہے اور بیورو کریسی جس کے بغیر حکومتی و انتظامی مشینری حرکت میں نہیں آ سکتی… قلم چھوڑ کر بیٹھی ہوئی ہے… مہنگائی عام آدمی کا کچومر نکالے جا رہی ہے… بے روزگاری پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے… وزیراعظم سے لے کر نچلے درجے تک کارپردازان حکومت میں فیصلہ سازی کی صلاحیت کا فقدان ہے… عمران خان بہادر ایک کے بعد دوسرا یوٹرن لیتے ہیں اور طرفہ تماشا ملاحظہ کیجیے انہی قلابازیوں کو اپنا کارنامہ قرار دیتے ہیں… وزراء کی جانب سے ایک کے بعد دوسری پریس کانفرنس منعقد ہوتی ہے… بیانات کی بھرمار ہے مگر ان کے اندر بھی متضاد قسم کی وضاحتیں پیش کرنے کے علاوہ قوم کو بتانے کے لیے کچھ نہیں ہوتا… اس وقت بھی جبکہ یہ سطور قلمبند کی جا رہی ہیں، ٹیلی ویژن کی سکرین پر کم از کم چھ وفاقی وزیر اور مشیران گرامی نیوز کانفرنس کے ذریعے پھیپھڑوں کا زور لگا کر کارکردگی کا ڈھنڈورا پیٹ رہے ہیں مگر وزیراعظم سمیت ان سب کی عالی دماغی کا اندازہ اس سے لگا لیجیے کہ منظور نظر صنعتکاروں کو گیس کے حوالے سے عائد کردہ ٹیکس کی بھاری رقم 416 ارب روپے کے قرضے میں سے 208ارب روپے کی رعایت دینے کا آرڈیننس نافذ کیا گیا تو سخت تنقید کا سامنا کرنا پڑا… ہر جانب سے اسے برے طرز حکومت کی مثال اور کرپشن کے نمونے کے طور پر پیش کیا گیا… اس کی تاب نہ لاتے ہوئے کل وزیراعظم آرڈیننس کو واپس لینے پر تو مجبور ہو گئے اور اب سپریم کورٹ کا دروازہ کھٹکھٹانے کا سوچ رہے ہیں کہ وہاں سے مشکل کا کوئی حل نکل آئے…کوئی امید بر نہیں آ رہی… ایسی صورت میں جیل کے اندر بیٹھا نواز شریف اپنی خاموش مزاحمت کے ذریعے حاکمانِ وقت کو ان کی کارکردگی کا آئینہ دکھا رہا ہے اور وہ اس سے امید باندھ بیٹھے ہیں کہ رہائی کے عوض کوئی تعاون تو اس کی جانب سے مل جائے جو کم از کم مولانا فضل الرحمن کو حکومت کے قدم اکھاڑ دینے کے امکانات رکھنے والا بڑا عوامی مارچ کرنے سے روک دے گا… اور شائد پارلیمنٹ کے اندر جو قانون سازی نہیں ہو پا رہی اس میں قدرے مددگار ثابت ہو تاکہ ان کی قائم کردہ حکومت کا کچھ تو بھرم رہ سکے … نواز شریف جس نے اب تک اقتدار کے دوران یا باہر رہ کر اسٹیبلشمنٹ کے غیر آئینی اقدامات کے ساتھ ٹکر لینے کی تاریخ رقم کی ہے… اس کی جانب سے صاف انکار کی صورت میں مایوسی کے سائے بڑھ سکتے ہیں۔


ای پیپر