یو ٹرن سے پرہیز
04 ستمبر 2019 2019-09-04

پاکستان تحریک انصاف ایک سال میں کیا کارکردگی دکھا سکی ؟ کتنے وعدے وفا ہوئے؟ اور کتنے یو ٹرن لینے پڑے؟سوشل میڈیا اور عوامی حلقوں میں باقائدہ بحث شروع ہو گئی ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے اپنے ہی کارکن سوال کر رہے ہیں کہ کہاں ہے تعلیمی انقلاب ؟ کہاں ہیں پولیس ریفارمز ؟ کہاں ہے شعبہ صحت کی بہتری اور کہاں ہے عوام کا پیسہ ؟ 208 ارب ڈالر کے قرضے معاف کرنے کی خبر پر سوشل میڈیا پر ایک طوفان بھرپا ہو گیا ۔دو روز قبل وزیر اعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کے خلاف ٹویٹر ٹرینڈ چلتا رہا ۔ پولیس حراست میں ملزمان کی ہلاکتیں اور ایک سال میں پولیس کے رویے میں تبدیلی نہ لانے پر بھی تنقید ہوتی رہی۔وزیر اعظم پاکستان پیر کے روز لاہور آئے تو ایوان وزیر اعلیٰ میں اہم اجلاس کی صدارت کی ۔ذرائع نے اجلاس کی اندرونی کہانی یہ بتائی کے عوامی حلقوں میں پولیس حراست میں ہلاکتیں وزیر اعظم کو شدید ناگوار گزری ہیںاور انھوں نے لاہور اجلاس کے دوران کابینہ کارکردگی کے بجائے پولیس ریفارمز پر زور دیتے ہوئے آئی جی پنجاب کی سرزنش کی ہے ۔وزیر اعظم جاتے ہوئے 40وزراء کی کارکردگی رپورٹس بھی ساتھ لے گئے ہیں اور بعض سیاسی حلقوں کا دعویٰ کہ اس دورے میں وزیر اعلیٰ نے عمران خان کو اپنے خلاف سازشوں کے ثبوت بھی مہیا کیے ہیں ۔ کپتان کے لاہور دورے کے بعد ایک مرتبہ پھرپنجاب کابینہ میں وزارتیں بچانے کے لئے تگ ودود شروع ہوگئی ہے ۔اس سے قبل بھی ایک سال کے دوران اطلاعات کی وزارت 3مرتبہ تبدیل کی جا چکی ہے جبکہ ایک بار پھر یوٹرن کی خبریں گردش میں ہیں ۔ بلدیات کی بات کریں تو بلدیات کے قانون کی منظوری کے بعد دو مرتبہ وزارت کے قلمبدان تبدیل ہونے کے بعد ایک مرتبہ پھر نئے کھلاڑی کی انٹری متوقع ہے جبکہ دوسری جانب بلدیاتی الیکشنز کی تیاری کے لئے وہ جوش و خروش نظر نہیں آ رہا جو پہلے چند ماہ تک دیکھا گیا۔صرف وزارتیں ہیں نہیں پاکستان تحریک انصاف کی تنظیم سازی کے حوالے سے بھی بنیادی ڈھانچہ ایک مرتبہ پھر تبدیل کرنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ تنظیم سازی کے لئے پنجاب کو 4زونز میں تقسیم کیا جائے گااورناراض کارکنوں کو نوازنے کے لئے زیادہ سے زیادہ عہدے تخلیق کرنے پر زور دیا جا رہا ہے ۔پنجاب کے ٹیچنگ اسپتالوں کی نجکاری ہو ۔ سرکاری سکولوں کو بلدیاتی اداروں کے حوالے کرنے کا معاملہ ہوسیاسی عہدوں پر تعیناتی ہو یا کوئی اور فیصلہ ۔پاکستان تحریک انصاف کے ہر فیصلے کو پہلے دن سے تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا ہے اور اس کے خلاف عوامی سطح پر احتجاج بھی سامنے آتا رہا ہے ۔بدقسمتی یہ ہے کہ معمولی پریشر کے سامنے آتے ہیںیا تو اپنے فیصلے پر یوٹرن لے لیا جاتا ہے یا وزیر اعظم یہ کہتے نظر آتے ہیں مجھے تو خاتون اول بتاتی ہیں کہ آپ وزیر اعظم ہیں ۔مجھے ہر گز وزیر اعظم یا وزیر اعلیٰ پنجاب کی نیک نیتی پر شک نہیں ۔نہ ہی میرا یہ دعویٰ ہے کہ عمران خان اور عثمان بزدار کام کرتے نظر نہیں آ رہے ۔میرا مشاہدہ ہے کہ عمران خان دن رات کام کر رہے ہیں ۔شام کو وہ لاہور میں اجلاس کی صدارت کر رہے ہوتے ہیں تو صبح اسلام آباد میں وفاقی کابینہ کا اجلا س طلب ہوتا ہے ۔اسی طرح عثمان بزدار ایک دن حافظ آباد تو دسرے دن راجن پور میں نظر آتے ہیں ۔دن رات محنت تک تو درست ہے لیکن سوال یہ ہے کہ کیا سمت بھی درست ہے ؟اتنی محنت کے بعدایک سال میں بھی پنجاب حکومت خاطرخوا کارکردگی کیوں نہ دکھا سکی ؟اور اگر دکھا سکی ہے تو اسے منوا کیوں نہیں سکی ؟ ایک سال گزرنے کے بعد بھی غیر یقینی کی صورتحال کیوں قائم ہے ؟حکومت کے پہلے دن کی طرح ایک سال بعد بھی عثمان بزدار کی تبدیلی کی باتیں ہو رہی ہیں ۔ وزارت اطلاعات ، بلدیات اور جنگلات سمیت اہم وزارتیں ایک سال گزرنے کے بعد بھی مستحکم کیوں نہیں ہو سکیں ؟حکومت کے آتے ہی احتساب مہم کے باعث بیورو کریسی اور سیاست دانوں پر احتساب کا پریشر ہے تو ہے مگروزارت یا عہدے کے مستحکم نہ ہونے کا خوف بھی موجود ہے ۔پہلے سو دن میں جو پلان دیا گیا تھا اسکے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے جن وعدوں پر عمل درآمدنہ کیا ان میں سب سے اہم بیرونی قرضے نہ لینے کا وعدہ تھا ۔چند ماہ ہاتھ پاؤں مارنے کے بعد جب حکومت کو آئی ایم ایف کے پاس جانا پڑا تو سخت عوامی تنقید کا سامنا کرنا پڑا ۔دوسرا اہم وعدہ یہ تھا کہ کراچی اور گوادر کے ساحل پر سیاحت کا آغاز کیا جائے گا ۔گوادر دنیا کی سب سے بڑی بحری تجارتی بندرگاہ ہے جس کے گرم پانیوں تک رسائی کے لئے دنیا کے بڑے ممالک پاکستان کی طرف دیکھتے آئے ہیں ۔مگر اس کی اہمیت جانتے ہوئے بھی نئی حکومت اس وعدے کو اپنی ترجیحات میں شامل نہ کر سکی۔ تیسرا اہم وعدہ لائیو سٹاک سیکٹر کو طاقتور بنانا تھا ۔ پاکستان ایک زرعی ملک ہے ۔ جب وزیر اعظم نے غریب لوگوں کو مرغیاں انڈے اور جانور دینے کا اعلان کیا تو مخالفین نے خوب تنقید کی جسکے بعد وزیر اعظم نے یوٹرن تو نہیں لیا تاہم دوبارہ لائیوسٹاک کا نام بھی نہیں لیا۔ملک میں ٹیکس نیٹ بڑھانے ، وزیر اعظم ہاؤس کی گاڑیاں اور بھینسیں بیچنے اور بدعنوانی کے خلاف مہم کے کے علاوہ شاید ہی کوئی ایسا وعدہ ہو جسے تحریک انصاف پورا کر سکی ہو۔پاکستان تحریک انصاف نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کفایت شعاری مہم ،وزیر اعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس کودرسگاہوں میں تبدیل کرنا ، نئے سیاحتی مقامات بنانا ایک کروڑ نوکریاں دینااور50لاکھ گھر دینے کے وعدے سمیت ایسے بہت سے وعدے کئے تھے جو پورے کرنا آسان نہیں تھے ۔ایک سال بعد حکومتی کارکردگی پر جو تنقید ہو رہی ہے اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ سب وعدوں پرکام کیوں شرو ع نہیں اور یہ بھی نہیں ہے کہ ملک میں مہنگائی ،بے روزگاری اور غیریقینی کی صورتحال ابھی بھی قائم ہے۔ تنقید اور ناکامی کی سب سے بڑی وجہ یو ٹرن ، خود اعتمادی کی کمی اور غیر مستحکم فیصلے ہیں ۔کسی وزیر کو یقین نہیں کہ وہ کل تک وزیر رہیں گے بھی یا نہیں ۔ جب وزیر کو یقین نہیں تو انکے ماتحت کیسے یقین رکھیں گے ۔ بیوروکریسی پر تبادلے اور احتساب کا خوف ہے ۔وزراء اور ارکین پارلیمنٹ ایسی صورتحال میں صرف اتنا کر رہے ہیں کہ جتنے دن عہدہ ہے اپنے ضروری کام نکلوا لیں یا اپنے ووٹرز پکے کر لیں ۔


ای پیپر