عرب ممالک میں مودی کی پذیرائی اور ”مسلم اُمہ“۔۔۔حقیقت کیا ہے ؟
04 ستمبر 2019 (16:44) 2019-09-04

کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی کا اہم ترین محرک اپنے آپ کو عالمی برادری کے سامنے اس انداز سے پیش کرنا ہوتا ہے کہ آپ دوسروں کے لئے ناگزیر بن جائیں۔ عہد حاضر میں چونکہ معیشت دیگر تمام امور پر بالادست حیثیت کی حامل ہے ، اس لئے خارخہ پالیسی کے محرکات میں بھی اسے اہم مقام حاصل ہے۔ اسی لئے تو کہا جاتا ہے کہ عالمی سطح پر کسی بھی ملک کی خارجہ پالیسی، دوسرے ملکوں سے تعلقات استوار کرنے، بگڑے تعلقات سنوارنے اور باہمی تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ خارجہ پالیسی بہتر اور دور رس ہو تو اس کے بہترین نتائج برآمد ہوتے ہیں۔ ناقص خارجہ پالیسی کا حامل ملک دنیا بھر سے کٹ جاتا ہے۔ دنیا سے کٹ جانے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ نے دنیا سے اپنے تعلقات ہی نہیں گنوائے، تجارت بھی گنوا دی۔ امپورٹ، ایکسپورٹ کسی بھی ملک کا وہ واحد شعبہ ہے جس کے ذریعے خوشحالی لائی جا سکتی ہے اور لوگوں کی زندگیوں میں بہتری پیدا کی جا سکتی ہے۔ لہٰذا کہا جا سکتا ہے کہ کسی بھی ملک کی ترقی، خوشحالی اور مضبوطی کا انحصار اُس کی خارجہ پالیسی پر ہے، اور آج کی خارجہ پالیسی میں معیشت اور تجارت کا پہلو دیگر تمام پہلوو¿ں کی نسبت زیادہ اہمیت کا حامل بن چکا ہے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو ایسے ملک کو ان ممالک میں زیادہ پذیرائی ملتی ہے، جہاں اس نے سرمایہ کاری کی ہوتی ہے، یا دیگر ممالک کو اپنے ہاں سرمایہ لگانے کے مواقع فراہم کئے ہوتے ہیں۔ اس کی واضح مثال بھارت اور عرب ممالک کی ہے جو ایک دوسرے کے ساتھ تجارتی اور معاشی سرگرمیوں میں ماضی کی نسبت زیادہ متحرک ہیں، اور یہ سرگرمیاں ان کی قربت میں گہرائی اور گیرائی کا سبب بن رہی ہیں۔ فریقین کے درمیان یہ تعلقات حقیقت پر مبنی سوچ کی عکاسی کرتے ہیں.... وہی سوچ جس کی ہمارے ہاں کمی چلی آ رہی ہے، اس حقیقی اپروچ کو بروئے کار لانے کے بجائے ہم جذبات کے گھوڑے پر سوار ہو کر منزل تک پہچنے کی کوشش کرتے ہیں، جو کم از کم اس دور میں ممکن نہیں۔

آج کل بھی ہم اسی طرح کی جذباتیت کا شکار ہیں، جس کا مرکز وہ واقعات ہیں جن میں بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی کو بحرین اور متحدہ عرب امارات کی جانب سے ایوارڈ دیئے گئے ہیں، ہم دو ممالک کی خارجہ پالیسی کو مسلم امہ کے ساتھ نتھی کر کے ہلکان ہوتے جا رہے ہیں کہ ایسا کیوں ہوا؟ ہمارے اس غصے کی وجہ کشمیر میں بھارتی مظالم ہیں، اس حوالے سے ہمارا غصہ اور عرب حکام کے بارے میں خیالات کا اظہار درست، مگر کیا ایسا کر کے ہم کشمریوں کی کوئی مدد کر سکتے ہیں۔ خالی بڑھکیں مارنے کے بجائے ہمیں ہوش کے ناخن لے کر یہ سوچنا ہو گا کہ آخر وہ کون سے عوامل ہیں جنہوں نے مودی جیسے سفاک اور مسلم کش نظریات و اعمال کے حامل انسان کو بحرین، سعودی عرب اور یو اے ای کا چہیتا بنا دیا ہے۔

ہمیں یہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ آج کی دنیا میں دو ممالک کے درمیان تعلقات مذہب یا جذبات کی بنیاد پر نہیں بلکہ برابری اور اقتصادیات کی بنیاد پر قائم ہوتے ہیں۔ یہی کچھ ہمیں گزشتہ کچھ دنوں کے دوران میڈیا میں دیکھنے اور سننے کو ملا۔ متحدہ عرب امارات کے ولی عہد محمد بن زید النہیان اور شاہ بحرین حمد بن عیسیٰ الخلیفہ پاکستان کے احتجاج کو نظر انداز کر کے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کو ایوارڈ دے کر پُرجوش مصافحہ کرتے دکھا ئے گئے۔ ان واقعات نے پاکستان میں کہرام مچا رکھا ہے لیکن معذرت کے ساتھ ایک سوال تو بنتا ہے کہ کیوں؟ ایسا کیوں ہے؟ یہ کوئی اچنبھے کی بات نہیں کیوں کہ ہمیں سمجھ جانا چاہیے کہ جن عرب ممالک کے ساتھ بھارت کے 100ارب ڈالر سالانہ کے مفادات جڑے ہیں وہ پاکستان کی خاطر اس بڑے نقصان کا رسک کیوں لے گا؟ آپ مانیں یا نہ مانیں کہ جب مودی کو اعلی سول اعزاز دیا گیا تو عین اسی وقت ہمارے چیئرمین سینیٹ نے دورہ یو اے ای منسوخ کردیا اور اپنا احتجاج ”مسلم امہ “ کو ریکارڈ کروایا تو یقینا اُن کے ذہن میں یہی آیا ہوگا کہ کوئی بات نہیں دو چار ارب روپے دیں گے پاکستان ”ٹھیک“ ہو جائے گا؟ یہی آج اگر پاکستان کے اربوں ڈالر کے مفادات عرب ممالک کے ساتھ جڑے ہوتے تو ہم دیکھتے پھر کیسے یہ ممالک گھٹنوں کے بل پر پاکستان کے سامنے کھڑے ہوتے۔ اگر نہیں یقین تو بھٹو کا وہ دور یاد کر لیں جب پاکستان معاشی طور پر نسبتاََ مضبوط ملک تھا اور لاہور میں تمام عرب ممالک کے سربراہان جمع تھے۔ یہ وہ دور تھا جب بھٹو نے 1974ءمیں لاہور میں اسلامی ممالک کی سربراہ کانفرنس منعقد کی جو 24 فروری سے 27 فروری تک جاری رہی اس کانفرنس میں 38 اسلامی ممالک کے سربراہوں اور عمائدین نے شرکت کی۔ اس کانفرنس کے مثبت نتائج برآمد ہوئے اور پوری اسلامی دنیا میں سراہا گیا ۔ اس دور میں اگر کبھی بھٹو کسی اسلامی ملک سے ناراض ہو جاتے تو یہ ممالک بھٹو کی منتیں سماجتیں کرتے نہیں تھکتے تھے۔ مگر آج ایسا نہیں ہے۔

بہرکیف بہت سے پاکستانی تو اس بات پر حیران ہیں کہ آخر کیوں مسلم امہ پاکستان سے اسی وقت اظہار یکجہتی کرتی ہے جب ہم اندرونی طور پر متحد اور اقتصادی طور پر مضبوط پوزیشن میں ہوتے ہیں۔ اس سے یہ بھی ثابت ہو جاتا ہے کہ اقوام کے مابین باہمی تعلقات میں مذہب اور نظریات کبھی بھی مضبوط خارجہ تعلقات کی بنیاد نہیں ہوتے۔ حقیقت میں قومیں اور ممالک کے تعلقات میں ان کی حیثیت ثانوی ہوتی ہے اور مجموعی طور پر معاشی مفادات اور سٹریٹجک اہمیت اقوام کو باہم جوڑے رکھتی ہے۔ لہٰذااس حوالے سے سوچنا یا کڑھنا کہ مسلم امہ ”غدار“ ہے وغیرہ وغیرہ یہ محض جذبات کے سوا کچھ نہیں۔ اسی مسئلے کو ہم معروف امریکی ماہر سیاسیات فرانسس فوکویاما کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مصنف لکھتا ہے کہ ”یہ ایک فطری عمل ہے کہ ہمارے ہارمونز سے پیدا ہونے والا احساس ہی ہمیں لے بیٹھتا ہے، ہم فضول اُمید لگا بیٹھتے ہیں کہ فلاں ملک نے اُس کے ساتھ زیادتی کی ہے حالانکہ یہ ”زیادتی “دوسرے ملک کے بہترین مفاد میں ہوتی ہے جسے وہ زیادتی نہیں بلکہ اپنی قوم کے لیے Best Possibilites مانتا ہے۔“ اس لیے عرب ممالک کو جو اچھا لگا انہوں نے کر دیا۔ ہمیں اس سے بھی غرض یا غصہ نہیں ہونا چاہیے کہ جس وقت کشمیری عوام بھارتی فوج کے محاصرے میں پانچواں دن گزار رہے تھے، عین اسی روز سعودی عرب کی سرکاری کمپنی آرامکو نے بھارت کے سب سے بڑے تجارتی گروپ ریلائنس کے ساتھ بھارتی تاریخ کی سب سے بڑی سرمایہ کاری کا اعلان کیا تھا۔ جب کشمیری عید کی نماز سے محروم کیے جا رہے تھے، تب سعودی عرب بھارت کے ساتھ تجارتی پینگیں بڑھا رہا تھا اور جب کشمیری مسلمان عیدِ قربان پر قربانی کے حق سے بزور طاقت روکے جا رہے تھے، ریلائنس گروپ اہلِ بھارت کو اس عظیم سرمایہ کاری کی خوش خبری سنا رہا تھا۔ جب کشمیر میں بھارتی افواج محاصرے اور کرفیو کی کیفیت میں نہتے کشمیریوں پر گولیاں چلا رہی تھیں، نوجوانوں کو شہید اور زخمی کیا جا رہا تھا، بے گناہوں کو گرفتار کیا جا رہا تھا، حریت قیادت نظربند تھی، کشمیری بہن، مائیں اور بیٹیوں کی پاک عزتوں پر ہاتھ ڈالے جا رہے تھے، تو ایسے میں عرب ممالک میں وہ ہار تیار ہو رہا تھا جو مودی کے اعزاز میں اسے پہنایا گیا۔

لہٰذااب پاکستان کو چاہیے کہ اُسے اپنے بہترین مفاد میں جو بہتر لگتا ہے وہ کرے۔ اگر دوستوں دشمنوں کا از سرنو جائزہ لینا ہے تو اپنے معیار کے مطابق انہیں بھی پرکھ لے۔ کیوں کہ کسی کو کشمیری مظلوم مسلمانوں سے کوئی دلچسپی نہیں اور نہ ہی وہ اسلام یا مظلومیت کی بنا پر اپنی کوئی پالیسی بناتے ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو سعودی عرب ، امارات، کویت ، بحرین وغیرہ مصر کی ظالم اور سفاک حکومت کی اندھا دھند حمایت نہ کرتے۔ ان عرب ممالک کی حمایت اور پشت پناہی سے ہی مصری فوجی حکومت نے بیس پچیس ہزار اخوانی جیلوں میں ڈال دئیے اور کئی ہزار قتل کر ڈالے۔ جو ملک عربی بولنے والے اخوانیوں کی مدد کو کھڑے نہیں ہوئے، ان سے کشمیر پر کیا امید یا توقع رکھی جا سکتی ہے؟غزہ کے مظلوموں کے لئے ان عرب بادشاہوں نے کبھی ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کشمیریوں سے تو ان کا کوئی لسانی رشتہ بھی نہیں۔ ترکی کے طیب اردوان البتہ پین اسلام ازم کے کسی حد تک موید ہیں، وہ غزہ کے فلسطینیوں کے لئے دبنگ لہجے میں آواز اٹھاتے ہیں۔ مقبوضہ کشمیر کے مظلوم کشمیریوں کے لئے طیب اردوان نے کھل کر بات کی ہے۔ ترکی بھی مگر بہت زیادہ کرنے کی پوزیشن میں نہیں۔ ملائشیا جیسے ممالک اگر بھارت کی کھلی حمایت نہیں کر رہے اور وزیراعظم مودی کووہاں بلا کر ایوارڈ نہیں دیتے تو اسے بھی پاکستان کی حمایت سمجھنا چاہیے۔

لہٰذااس تمام صورتحال میں اگر ہم ڈھلمل پالیسی بنائیں گے توہم سراسر غلط تصور ہوں گے میں پھر یہی کہوں گا کہ دوسرے بے وقوف نہیں کہ ہماری خاطر بھارت سے بگاڑپیدا کر لیں۔ سب سے اہم یہ کہ ہمیں اپنے آپ کو طاقتور بنانا ہے۔ جب تک بھارت کے ساتھ جنگ ٹال سکتے ہیں، ٹالنا چاہیے اور اس دوران اتنی قوت حاصل کریں کہ اس جنگ میں ہماری یقینی فتح ہو۔ اپنی عسکری صلاحیت بڑھانے کے ساتھ اصل کام معاشی استحکام ہے۔ بھارت بڑی معاشی قوت ہے، ہم اُس کی معیشت کے آگے آٹے میں نمک کے برابر بھی نہیں۔

اگر ہم اقوام عالم میں باعزت مقام کے متمنی ہیں تو ہمیں ”مسلم امہ“ کے غم میں ہلکان ہونے کے بجائے اقتصادی طور پر خود کو اس قابل بنانا ہو گا کہ ہم حقیقی معنوں میں”امہ“ کی بھلائی کیلئے کچھ کر سکیں۔ کیونکہ اقتصادی برتری وہ حقیقت ہے جس سے انکاری ہو کر ہم ذلیل تو ہو سکتے ہیں، سرخرو ہرگز نہیں۔

۰۰۰


ای پیپر