سیدنا حضرت امام حسینؓ حریت فکر کے علمبردار
04 ستمبر 2019 (16:39) 2019-09-04

حافظ غلام فرید

امن‘ اعتدال‘ رواداری اور اخلاق دین اسلام کی بنیادی تعلیمات میں شامل ہے۔ یہ آفاقی دین آزاد· رائے‘ اختلاف رائے‘ جمہوریت اور مشاورت کا درس دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اسلام نہ صرف دہشت گردی کی سختی سے مذمت کرتا ہے بلکہ کسی بھی دوسرے مذہب کے افراد کو جبرواکراہ کی بنیاد پر قبول اسلام پر مجبور نہیں کرتا۔

دین اسلام کی امن پسندی‘ اخوت وبھائی چارہ اور اعتدال و توازن کی عملی مثال میثاق مدینہ ہے جو نبی آخر الزماں حضرت محمدمصطفیﷺ نے پہلی مرتبہ مسلمانوں کے ساتھ یہودی‘ عیسائی اور دیگر عرب قبائل کے درمیان قائم کیا۔ اس سے معلوم ہوا کہ ہجرت مدینہ کے بعد مسلمانوں کو جس سیاسی وجمہوری فکر سے آشنا کیاگیا وہ دیگر ادیان‘ مذاہب اور قبائل کے درمیان Tolerance اور Justice پر مبنی تھی۔ دوسرے لفظوں میں ایک قومی ریاست Establish ہوئی جس میں سب کے یکساں حقوق تسلیم کئے گئے۔ اس میثاق مدینہ میں کسی کو دوسروں کے حقوق کی پامالی اور دست درازی کا حق حاصل نہیں تھا بلکہ ان کے درمیان باہمی تعاون اور مشکل حالات میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کا جذبہ اجاگر کیاگیا۔ اس لحاظ سے یہ میثاق Mederate,Balanced اور Optimism پر مبنی معاشرے کے قیام پر مبنی تھا۔

مسلمانوں کی رواداری‘ حسن اخلاق اور وسعت ظرفی کی دوسری عملی مثال نجران کے مسیحی پادریوں کے وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا جانا ہے اور جب ان کی عبادت کا وقت آیا تو عالمی امن کے پیامبر رحمة للعالمینﷺ نے انہیں اپنے مذہب کے مطابق مسجد نبوی میں عبادت کی اجازت مرحمت فرما کر دین اسلام کی امن پسندی‘ آفاقی فکر اور مابین الادیان احترام اور رواداری پر مہر تصدیق ثبت فرما دی ۔

پیغمبر آخرالزماںﷺ کے اسی اسوئہ حسنہ پر عمل کرتے ہوئے خلفاءراشدین ؓاور صحابہ کرامؓ نے بھی معاشرے میں موجود سیاسی تشدد اور ریاستی جبر کی بیخ کنی کرتے ہوئے اختلاف رائے کو عزت واحترام سے قبول کیا‘ دین اسلام کی امن پسندی کی تیسری مثال امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروقؓ کے دور حکومت میں پارلیمنٹ میں عورت کے حق مہر کی حد مقرر کرنے کا کیس ہے۔ اس وقت ایک صحابیہ خاتون جو پارلیمنٹ کی ممبر تھی، نے کھڑے ہو کر اس بل کو چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ اے امیر المومنینؓ! جس حق مہر پر اللہ تعالی نے کوئی حد مقرر نہیں کی اس پر کوئی انسان کیسے حد مقرر کر سکتا ہے؟ جب امیر المومنین ؓنے اس سے دلیل طلب کی تو اس خاتون نے قرآن حکیم کی اس آیت کا حوالہ دیا۔ ”اور اگر تم ایک بیوی کے بدلے دوسری بیوی بدلنا چاہو اور تم اسے ڈھیروں مال دے چکے ہو تب بھی اس میں سے کچھ واپس مت لو‘ کیا تم ناحق الزام اور صریح گناہ کے ذریعے وہ مال (واپس) لینا چاہتے ہو؟“(النسائ)

مذکورہ آیت کریمہ میں لفظ ”قِن±طَارًا“ سے استدلال کرتے ہوئے خاتون نے کہا کہ اس کا معنی ڈھیروں (بہت زیادہ) ہے لہذا ثابت ہوا کہ عورت کے حق مہر کی کوئی حد مقرر نہیں ہے۔ امیر المومنین سیدنا فاروق اعظم ؓ نے خاتون کی اس دلیل پر اس کے حق میں فیصلہ صادر کرتے ہوئے فرمایا کہ اس مسئلے پر عورت کی رائے صحیح نکلی اور مرد خطا کھا گیا۔“

پیغمبر امن واخلاقﷺ کے اہل بیت اطہارؓ نے بھی دین اسلام کی امن پسندی اور عدل وانصاف کی زندہ مثالیں قائم کیں اور اسلامی معاشرے میں جبرودہشت گردی کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ کر دیا۔ امیرالمومنین حضرت سیدنا مولا علی شیر خدا ؓ ایک مرتبہ اپنی زرہ کے مقدمہ میں عدالت میں پیش ہوئے اور گواہ کے طور پر اپنے دونوں بیٹوں سیدنا امام حسنؓ اور سیدنا امام حسینؓ کو پیش کیا مگر قاضی نے باپ کے حق میں بیٹوں کی گواہی تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے یہودی کے حق میں فیصلہ دے دیا۔ خلیفة المسلمین ؓ نے قاضی کے فیصلے کو تسلیم کرتے ہوئے جب یہودی کو اپنی زرہ دینا چاہی تو اس نے قدموں میں گر کر کلمہ پڑھ لیا۔ قاضی کے عدل وانصاف اور خلیفة المسلمین ؓکی طرف سے فیصلے کے احترام کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس نے کہا کہ میں جھوٹا تھا زرہ آپ ؓکی تھی۔

دین اسلام سے بڑھ کر دنیا کا کوئی مذہب اور قانون انسانی اقدار کے تحفظ ‘ عملی مساوات‘ انسانی حقوق کے احترام اور امن وآشتی کا تصور پیش نہیں کر سکتا جس میں دوران جنگ غیر مسلموں سے حسن سلوک کی تعلیم دی گئی ہے‘ اس حوالے سے جنگی حکمت عملی پر مشتمل دوران جنگ اسلامی اصولوں کے چند مظاہر درج ذیل ہیں۔

1۔ مسلمان جنگ کے دوران غیر مسلم خواتین کو قتل نہیں کریں گے۔

2۔ بوڑھوں اور بچوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

3۔ لاغر اور بیمار انسانوں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

4۔ غیر مسلموں کو ان کی عبادت کے دوران قتل نہیں کیا جائے گا۔

5۔ غیر مسلم سفیروں کو قتل نہیں کیا جائے گا۔

6۔ غیر مسلموں کی زمینوں اور عمارتوں کو تباہ نہیں کیا جائے گا۔

7۔ غیر مسلموں کی فصلیں اور درخت نہیں کاٹے جائیں گے۔

8۔ غیر مسلموں کی زمینوں اور جائیدادوں کو نقصان نہیں پہنچایا جائے گا۔

9۔ جب کسی دشمن کو قیدی کر کے باندھ دیا تو اسے بھی قتل نہیں کیا جائے گا۔

10۔ سوئے ہوئے دشمن پر حملہ کر کے قتل نہیں کیاجائے گا۔

11۔کسی دشمن کو اذیت ناک طریقے سے قتل نہیں کیاجائے گا۔

12۔کسی دشمن کے خلاف دہشت گردی کا ارتکاب نہیں کیاجائے گا۔

دین اسلام کے ان سنہری جنگی اصولوں کا بنظر عمیق جائزہ لیاجائے تو آج کل ہونے والے غیر مسلموں کی طرف سے مسلم ممالک پر حملوں‘ اذیت ناک ‘ ظالمانہ اور سفاکانہ دہشت گردی پر دل خون کے آنسو روتا ہے کہ انسانی حقوق کا ڈھنڈورا پیٹنے والی نام نہاد سپر پاور اور اس کے اتحادی ممالک مذکورہ انسانی حقوق کی پاسداری کی جہاں دھجیاں اڑا رہے ہیں وہاں بوسنیا‘ چیچنیا‘ افغانستان‘ عراق کے بعد اب پاکستان میں سے مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹانے کی گہری سازش میں مصروف ہیں۔ اس کھلے عام ظالمانہ اور سفاکانہ دہشت گردی کا آغاز یزیدی دور میں ہوا تھا‘ بلکہ یزید کی تخت نشینی اور حکومت کا آغاز ہی ظلم وستم اور سیاسی جبروتشدد کے ذریعے ہوا۔ اس نے اپنی غیر قانونی اور بے اصولی حکومت کو دوام بخشنے اور اپنی مستقل بادشاہت قائم کرنے کے لئے ملوکیت وآمریت سے کام لیتے ہوئے خلفائے راشدین ؓکے قائم کئے ہوئے نہ صرف تمام ریاستی ادارے تباہ و برباد کئے بلکہ مشاورت وجمہوریت کی دھجیاں بکھیر دیں‘ اس نے قومی خزانے میں لوٹ مار اور اسے ذاتی استعمال میں لانے کو رواج دیا۔ عریانی وفحاشی‘ شراب نوشی‘ بدکاری اور قماربازی کو عام کیا۔

قومی بیت المال سے بڑے بڑے محلات تعمیر کرنے کے علاوہ جانوروںاور کتوں کو پالنا شروع کیا۔ شراب وکباب کی محفلوں کا آغاز کیا۔ اس دور میں رشوت کا بازار گرم ہوا۔ قرب شاہی کی دوڑ کا آغاز ہوا۔ نااہل اور جاہل لوگ اپنی دولت کے بل بوتے پر بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے‘ تعلیم وتربیت کی جگہ جہالت وناخواندگی اور بے راہ روی نے لے لی۔ جھوٹ‘ دجل‘ فریب اور دھوکہ دہی کھلے بندوں ہونے لگی۔ بے ہودہ اور اوباش لونڈے اس کے اردگرد منڈلانے لگے‘ جس کی نشاندہی سرورکائنات ﷺ نے اپنی ایک حدیث میں فرما دی تھی۔ بخاری شریف میں حضرت ابوہریرہ ؓ روایت کرتے ہیں اور حضرت امام ابن حجر عسقلانی ”فتح الباری“ میں نقل کرتے ہیں۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے ایسے اوباش نوجوانوں کی حکومت سے پناہ مانگتے ہوئے فرمایا تھا۔ ”اے اللہ میں 60 ہجری کے آغاز اور بے ہودہ اوباش لڑکوں کی حکومت سے پناہ مانگتا ہوں۔“ (الصواعق المحرقہ)

حضرت شاہ ولی اللہ محدث دہلویؒ‘ حضرت امام قسطلانی ؒاور حضرت امام ابن حجر عسقلانی ؒ کے نزدیک وہ اوباش‘ بے ہودہ لڑکے قریشی نوجوان تھے جن کا سرغنہ ”یزید“ تھا جس نے حضور علیہ السلام کی امت کی تباہی وبربادی اور اسلامی اقدار وروایات کا جنازہ نکالا اور خلفاءراشدین ؓکے قائم کئے ہوئے مختلف اداروں کو تہس نہس کر کے رکھ دیا۔

یزید کے دور حکومت میں صرف کربلا میں ہی دہشت گردی کا بازار گرم نہیں ہوا بلکہ جب مدینہ والوں نے اس کی بیعت کو توڑنے کا اعلان کیا تو اس نے گورنر دمشق اورگورنر شام کے ذریعے بڑے بڑے لشکر تیار کر کے انہیں مدینہ پر چڑھائی کا اذن دیا اور تین دن کے لئے ان پر اہل مدینہ کا خون حلال کر دیا۔ اسی وجہ سے مشہور واقعہ حرہ پیش آیا جو شہر مدینہ کے ساتھ ہی ایک مقام کا نام ہے جہاں سے یزیدی فوجیں مدینہ میں داخل ہوئیں اور ریاستی دہشت گردی کا مظاہرہ کرتے ہوئے لوگوں کا قتل عام کیا۔ یہ اس ہولناک ‘ کربناک اور اذیت ناک واقعہ میں انصار ومہاجرین پر مشتمل 306 صحابہ کرام ؓکو بڑی بے دردی سے شہید کر دیا گیا ‘ جو لوگ بچ گئے ان کے بچوں کو یتیم کرنے کا ڈر سنا کر ان سے جبراً بیعت لی گئی۔ یہ وہ مدینہ ہے جس کے بارے میں سرورکائنات ﷺ نے فرمایا تھا۔ ”جو شخص اس شہر والوں (یعنی اہل مدینہ) کے ساتھ برائی کا ارادہ کرے گا‘ اللہ تعالی اسے (دوزخ میں) اس طرح پگھلا ئے گا جیساکہ نمک پانی میں گھل جاتا ہے۔“(مسلم صحیح)

یزیدی فوج کی دہشت گردی کا سلسلہ مدینہ میں ختم نہیںہوا بلکہ یزید کے حکم پر پھر یہ خونی لشکر مکہ کی طرف روانہ ہوا کیونکہ وہاں حضرت عبداللہ بن زبیر ؓبیعت یزید کا کھلے عام اعلان کر چکے تھے اور مکہ میں پناہ گزیں تھے۔ ظالم وجابر یزیدی لشکر نے مکہ میں بھی ریاستی دہشت گردی کی انتہا کر دی اور نہ صرف مکہ کا محاصرہ کیا بلکہ اس مکہ مکرمہ پر گولے برسائے گئے جہاں بیت اللہ شریف اور خانہ کعبہ ہے۔ بدبخت یزیدیوں کو خانہ خدا کا بھی لحاظ اور احترام نہ رہا۔ دولت وحکومت کے نشہ میں چور ان سفاک درندوں نے خانہ کعبہ کے غلاف کو جلا ڈالا، اور کعبہ معظمہ اور مسجد حرام کی حرمت وعزت کو پامال کیا۔

جس طرح اللہ رب العزت نے بڑے بڑے ہاتھیوں سے اپنے گھر کی بربادی کو بچانے کے لئے ابابیلوں کو بھیجا اس طرح یزید کی ریاستی دہشت گردی سے اپنے گھر‘ مکہ اور تمام مسلمانوں کو محفوظ رکھنے کے لئے یزید کو اسی وقت کربناک اور خوفناک درد میں مبتلا کیا کہ اس نے تین دن تک تڑپ تڑپ کر جان دے دی جس کی وجہ سے یزیدی لشکر نے مکہ میں ظلم وستم بند کر کے واپسی کی راہ لی مگر یزید نے اللہ اور اس کے رسول ﷺکے خلاف اعلان جنگ کر کے فرعون‘ نمرود اور ہامان کی یاد تازہ کر دی اور اپنے کفرونفاق کی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔

یہی وجہ ہے کہ جگر گوشہ بتولؓ ‘ خون علی ؓشہید کربلا امام حسین ؓ کی نگاہ بصیرت دیکھ رہی تھی کہ یزید کی بیعت کرنے سے مراد ایک جابر‘ ظالم اور آمر حکمران کو ریاسی دہشت گردی کی اجازت دینا ہے‘ امام حسین ؓکا خون اور غیرت وحمیت اس بات کی اجازت کیسے دے سکتی تھی جس دین کے تحفظ کے لئے ان کے نانا ﷺ نے سمجھوتہ نہیں کیا تھا اور کفار قریش پر واضح کر دیا تھا کہ اگر وہ میرے دائیں ہاتھ پر سورج اور بائیں ہاتھ پر چاند بھی لا کر رکھ دیں پھر بھی وہ دعوت حق کوترک نہیں کر سکتے۔ اس دین کی خاطر انہوں نے دندان مبارک شہید کروائے قید وبند کی صعوبتیں برداشت کیں اور ہجرت فرمائی۔

شریعت اسلامیہ نے عام مسلمانوں کو رخصت کی اجازت دی تھی مگر امام حسین ؓنے عزیمت کی راہ پر چلتے ہوئے ظالم یزیدی حکومت کے خلاف نعرہ حق بلند کیا اور مسلمانوں کو اس کی ریاستی دہشت گردی سے محفوظ کرنے‘ اسے حرمین شریفین کی پامالی سے روکنے اور اس کے شر سے خواتین کو بچانے کے لئے کربلا کا سفر اختیار کیا ‘ اپنے جگر کے ٹکڑوں حضرت علی اصغرؓ اور حضرت علی اکبر ؓ کو قربان کیااور بالاخر اپنی جان بھی جان آفریں کے سپرد کر دی مگر سر نہیں جھکایا اور سجدے کی حالت میں اللہ رب العزت کے حضور اپنا سر پیش کیا۔

شہید اعظم حضرت امام حسین ؓ نے یہ عظیم قربانی اس لئے دی تاکہ احترام انسانیت کو بقا نصیب ہو‘ دین مصطفی کی اصل روح کا تحفظ ہو‘ اسلام کے نظام مشاورت وجمہوریت کو دوام ملے‘ مظلوموں کو قیامت تک ظالموں کے خلاف آواز حق بلند کرنے کے لئے حوصلہ ملے‘ محکوموں کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کا درس ملے‘ ظلم وجبر پر مبنی نظام کے خلاف آزادی کے متوالوں کو اٹھ کھڑے ہونے کا جذبہ ملے۔ دین اسلام کی امن پسندی‘ اعتدال پسندی‘ رواداری اور اخلاقی قدروں کو قیامت تک زندہ کر دیا۔ حضرت سیدہ کائناتؓ کے خون کی لاج رکھ لی‘ حضرت مولائے کائناتؓ کی شجاعت پر مہر تصدیق ثبت کر دی‘ حضور نبی کائناتﷺ کی محبت وشفقت اور تربیت کو لازوال کر دیا اور قیامت تک آنے والی انسانیت کو دین اسلام کی غیرت وحمیت پر سمجھوتہ نہ کرنے کا عملی ثبوت دے کر خود کو امر کر لیا‘ شہادت کا جام پی کر ہمیشہ کے لئے خود کو زندہ کر لیا اسی لئے کہا گیا ہے کہ

انسان کو بیدار تو ہو لینے دو

ہر قوم پکارے گی ہمارے ہیں حسین ؓ

حضرت امام حسین ؓ نے کربلا میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے قیامت تک کے لئے خودکو زندہ ہی نہیں کیا بلکہ دین اسلام کو زندگی عطا کر دی اور دشمنان اسلام کو سزائے موت سے ہمکنار کر دیا۔ اسی لئے کہا گیا۔

قتل حسین اصل میں مرگ یزید ہے

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

حضرت امام حسین ؓ نہ صرف دین اسلام کے علمبردار تھے بلکہ عدل وانصاف ‘ مساوات انسانی‘ حریت وآزادی اور انسانی جمہوریت کے علمبردار تھے۔ انہوں نے ریاستی جبروتشدد اور آمرانہ ذہنیت کے خلاف جہاد کیا یہی وجہ ہے کہ حسین ؓ اب صرف ایک ذات یا شخصیت کا نام نہیں رہا بلکہ حسینؓ حق کا نمائندہ ‘ سچائی کا نشان ‘ روشنی کا مینار‘ علم وحکمت کا نیر تاباں‘ عدل وانصاف کا پیکر‘ عظمت وبلندی کی علامت‘ احترام انسانیت کی مثال‘ اخلاق واوصاف حمیدہ کا امین ‘ رواداری ‘ حسن سلوک اور برداشت کا نام ہے۔

اسی طرح یزید بھی ایک ذات کا نام نہیں رہا بلکہ قیامت تک ہونے والی ظلم وبربریت اور دہشت گردی کا نام یزیدہے۔ جہالت وناخواندگی اور ناانصافی کا نام یزید ہے‘ آمریت اور ڈکٹیٹرشپ کا نام یزید ہے‘ انسانی حقوق پر شب خون مارنے کا نام یزیدہے‘ خواتین‘ بچوں اور بوڑھوں کے قاتل کا نام یزید ہے‘ صحابہ کرامؓ اور اہل بیت عظام ؓ کے قاتل کا نام یزید ہے‘حتی کہ انسانیت کو تاخت وتاراج کرنے والے کا نام یزید ہے ۔

قارئین کرام ! آیئے آج ان دو کرداروں کو پہچان کر فیصلہ کریں کہ ہم نے کس لشکر اور گروہ میں شامل ہونا ہے۔ امام حسین ؓانسانیت کی امن پسندی کے نمائندہ تھے اور یزید انسانیت کش‘ دہشت گردی کا نمائندہ تھا۔ آج ہمیں امن وسلامتی‘ برداشت‘ رواداری‘ اخوت وبھائی چارے اور علم وعمل کی راہ پر چلنا ہے تو حضرت امام حسین ؓ کی راہ پر چلنا ہو گا اور اگر دہشت گردی‘ بے راہ روی‘ عدم برداشت ‘ قتل وغارتگری اور عریانی وفحاشی کی راہ پر چلنا ہے تو یزید کی راہ پر چلنا ہوگا ۔ یہ دہشت گردی خواہ ملکی سطح پرہو یا عالمی سطح پر اس کا ازالہ اسوئہ شبیری کو اپنائے بغیر ممکن نہیں۔

٭٭٭


ای پیپر