پشمینہ دھاگوں کے دیس کے خواب اور عالمی یوم حجاب
04 ستمبر 2019 2019-09-04

بڑی اداس ہے وادی 

گلا دبایا ہوا ہے کسی نے انگلی سے 

یہ سانس لیتی رہے، پر یہ سانس لے نہ سکے

درخت اُگتے ہیں کچھ سوچ سوچ کر جیسے 

جو سراُٹھائے گا پہلے وہی قلم ہوگا

جھکا کے گردنیں آتے ہیں ابر

نادم ہیں کہ دھوئے جاتے نہیں

خون کے نشاں ان سے 

ہری ہری ہے، مگر گھاس اب ہری بھی نہیں

 جہاں پہ گولیاں برسیں، زمیں بھری بھی نہیں

 وہ مائیگریٹری پنچھی جو آیا کرتے تھے 

وہ سارے زخمی ہواﺅں سے ڈر کے لوٹ گئے 

بڑی اداس ہے وادی، یہ وادی کشمیر 

گلزار کے شعری مجموعے ”رات پشمینے کی“ سے نظم وادی کشمیر پڑھ رہی تھی اور ذہن میں 4ستمبر 2004ءکی یادیں جگمگا رہی تھیں کہ جب یورپ میں 11ستمبر کے سانحے کے بعد شعائر اسلام کے ساتھ تعصب کی لہریں بڑھنے لگیں اور اسلاموفوبیا کے مہیب سیاہ بادل چھانے لگے تو لندن کے میئر لونگ اسٹون نے علمائے اسلام کی ایک عظیم الشان کانفرنس لندن میں منعقد کی اور اس کے آخر میں کانفرنس کے مہمان خصوصی علامہ یوسف القرضاوی نے 4ستمبر 2004ءکو پہلی دفعہ عالمی یوم حجاب کا اعلان کیا۔ پاکستان سے جماعت اسلامی حلقہ خواتین نے اس کو بھرپور طریقہ سے منانا شروع کیا۔ یوم حجاب کے آغاز سے ہی اخبارات اور ٹی وی چینلز نے اس کی تشہیر کا خوب اہتمام کیا۔ سوشل میڈیا پر بھی اس دن کی خوب کوریج ہوتی رہی۔ اس کے لیے صحافی برادری کی خوب شکرگزار ہوں۔ 

2019ءکا ستمبر ستمگربن کر طلوع ہوا ہے جب کشمیر میں خواب بنتی بیٹیاں تاریخ کے انتہائی ظلم وجبر کے حالات کا شکار ہیں۔ ان کے حجاب نوچے جارہے ہیں اور ان کے جسموں کو ادھیڑاجارہا ہے۔ تاریخ انسانی میں ہندوستانی فوج جتنی بے حمیت فوج کسی نے نہ دیکھی ہوگی جو عورت کی بے حرمتی کو فوجی ہتھیار کے طورپر استعمال کررہی ہے۔ 

میں استنبول میں مسجد اقصیٰ کی چوکیدار خواتین جو بہت فخر سے اپنے آپ کو مرابطات کہتی ہیں، سے ملی تو ان سے پوچھا کہ آپ کو اسرائیلی فوج اکثر گرفتار کرلیتی ہے، کیا کبھی کسی عورت کی بے حرمتی کے مرتکب ہوتے ہیں یہ اسرائیلی اہلکار؟؟انہوں نے نفی جواب دیا کہ وہ قانون کے بھی پابند ہیں اور قانونی طورپر بھی اگر کوئی پولیس والا یا فوجی اس طرح کی حرکت کرے تو اسے قانون کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مارپیٹ کرتے ہیں مگر انسانی شرف کا خیال رکھتے ہیں اور ویسے بھی عرب عورت پر ہاتھ اٹھانے کو بہت معیوب سمجھتے ہیں۔ مگر ہندوستانی فوج تو اس بے حمیتی کا شکار ہے کہ آئے دن اس طرح کی تصویریں سوشل میڈیا پر شائع ہورہی ہیں کہ انسان سرپٹختا رہ جاتا ہے اور اب تو ہریانہ کا مگرمچھ وزیراعلیٰ بڑی بے شرمی سے اس بات کا اعلان کررہا ہے کہ کشمیری کوری عورتوں کو بیاہ کر لائیں گے۔ اس بدصورت بھیڑیے کے لیے کسی نے بہت اچھا لکھا کہ اس کو تو سانپ اپنی سپنی بھی نہ دے کجا کہ یہ کشمیری لڑکیوں کے خواب دیکھتا ہے۔ بھارت میں کوئی انسانیت نام کی قدر باقی نہ رہی، کوئی سلیم العقل انسان ان بے لگاموں کو لگام دینے والا نہیں ہے؟؟ بارالہ کتنے پہر رہ گئی ہے رات؟؟

تیری خدائی میں ان ظالموں کو اتنی چھوٹ کیوں ملی ہے؟؟ عالمی یوم حجاب پر شام و فلسطین کے گھروں کے ملبوں پر بیٹھی باحجاب لٹی پٹی عورتیں ہوں یا اب کشمیر کی چیختی چلاتی بیٹیاں۔ ہم کس سے فریاد کریں اور کس کے ہاتھوں پراپنا لہو تلاش کریں؟؟

علامہ محمد اقبال نے عورت کو کہا تھا کہ تم اپنے آپ پر بہت فخرکرو کہ اللہ نے تمہیں اپنی صفت تخلیق عطا کی ہے اور ہرخالق کو اپنی مخلوق کی حفاظت کے لیے حجابوں میں رہنا ہوتا ہے۔ عورت خالق کی طرح حجاب میں ہو اور رازونیاز میں زندگی بسرکرے تو اس کے صدف کا موتی پرورش پاتاہے اور وہ جتنی چھپی اور اسرار کے پردوں میں رہے اتنی ہی باوقار اور معتبربن جاتی ہے۔ معاشرے میں حیا اور عفت وعصمت کا چلن عام ہوجائے تو عورت محفوظ رہتی ہے اور عورت کو عزت، محبت اور حفاظت کے حصار میسر ہو جائیں تو وہ ہرناممکن کام کو ممکن کرجاتی ہے۔ قومیں تبھی ترقی کی منازل طے کرپاتی ہیں جب کہ اس کی عورت کو ماحول کا تحفظ ملے۔ حفاظت کا جانفزا احساس عورت کے اندر قوت بھردیتا ہے جو اسے ترقی کی شاہراہ پر گامزن رکھتا ہے۔ 

یوم حجاب ہمیں اس عزم پر آمادہ کرتا ہے کہ ہرعورت کا ہرروپ عزت، محبت اور حفاظت کے یہ تین حصار چاہتا ہے۔ ہرگھر میں عورت کو عزت ملے اور اسے حفاظت اور محبت کے حصار میسر ہوں تو وہ بہت اطمینان سے اپنی صلاحیتوں کے جوہر استعمال کرسکے گی۔ 

 جنگ زدہ ماحول تمام انسانوں کے لیے بربادی کا پیغام بن کر آتا ہے مگر پشمینہ دھاگوں سے بنتی خواب سجانے والی عورتیں تو وحشت زدہ ہوکر رہ جاتی ہیں۔ وہ نہ اپنی تخلیقی قوتوں کو بروئے کار لاپاتی ہیں نہ اپنی نسلوں کی تربیت کرپاتی ہیں۔ 

21ویں صدی کے یہ لمحے انسانوں کو پکاررہے ہیں کہ اپنی آئندہ آنے والی نسلوں کی تربیت اور حفاظت کے لیے اپنی عورتوں کے سروں پر چادریں رہنے دو۔ ان کی آنکھوں میں خواب سجنے دو اور انہیں اپنی تخلیق کی حفاظت پر مامور رہنے کے لیے عزت واکرام اور پرامن ماحول سے بھی نوازو۔ 

اگر پندے زدرویشے پذیری 

ہزار امت بیمراد تو نہ میری 

بتولےؓباش وپنہاں شوازیں عصر

کہ درآغوش شبیرے بگیری 

(اقبال)

اس عالمی یوم حجاب پر اقبال ہمیں نصیحت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ اگر اس درویش کی نصیحت کو پذیرائی بخشو تو ہزار اقوام نیست ونابود ہو جائیں مگر تمہیں زوال نہ آئے۔ حضرت فاطمہ ؓ کی طرح بن جانا اور اس زمانے کے فتنوں سے چھپ جاﺅ کہ تمہاری گود میں پھر سے ایک حسینؓ پیداہوجائے۔


ای پیپر