سودخوری اور رزقِ حلال
04 ستمبر 2019 2019-09-04

اس روز دربار پر سائیں جی کے پاس میرے سوا کوئی نہ تھا۔ بابا مہر گھاس کے لیے جاچکا تھا۔ چائے کی دیگچی کے نیچے آگ جل رہی تھی:

تھوڑی دیر میں انور ایک شخص کے ساتھ آگیا، سلام دعا کے بعد اس نے بابا جی سے ہمراہ آنے والے شخص کا تعارف کرایا : یہ اپنے چودھری صاحب فیصل آباد سے تشریف لائے ہیں۔ ان کی طبیعت ٹھیک نہیں رہتی، دعا کے لیے آئے ہیں۔

آپ نے چودھری کو سر سے پاﺅں تک دیکھا، اسی اثناءمیں چائے تیار ہوگئی، چودھری صاحب کو بھی پیش کی گئی مگر چودھری نے چائے پینے سے صاف انکار کردیا۔ اور قدرے ”ترلے کے انداز میں بولا :

سوائے ابلے ہوئے چاولوں کے دنیا کی اور کوئی نعمت حلق سے نہیں اتار سکتا۔ کچھ ہضم نہیں ہوتا بلکہ روٹی تو ایک مدت سے چھوٹ گئی ہے، شروع شروع میں روٹی کھانے کی کوشش کی مگر لقمہ اندر جاتے ہی درد سے تڑپنے لگتا معدے میں شدید تکلیف کے خوف سے روٹی سے ہاتھ کھینچ لیا۔ ڈاکٹروں نے منع کردیا ہے۔ اب تو برسوں میرا معدہ ابلے ہوئے چاولوں کا عادی ہو چکا ہے۔ “

یہ باتیں جاری تھیں کہ کوئی عقیدت مند بریانی اور زردہ لے کر آگیا۔

آپ انور سے مخاطب ہوئے : انور یہ بریانی زردہ اور مٹھائی بھی اٹھاﺅ اور وہ سامنے دھوپ میں اینٹوں کا کام کرنے والوں کے پاس لے جاﺅ ۔ چودھری صاحب کو بھی ہمراہ لے جاﺅ۔ کہنا :” چودھری صاحب آپ لوگوں سے کھانا تبدیل کرنا چاہتے ہیں۔ پھر ان کا دوپہر کا کھانا لے آنا اور یہ ساری خوراک انہیں دے آنا۔

حکم کی تعمیل کی گئی انور چودھری کو لے کر قریبی کھیتوں میں اینٹیں بنانے والوں کی طرف چل دیا۔ شدید گرمی کا موسم تھا، سخت اور بدن میں جیسے نیزوں کی طرح گڑھنے والی دھوپ میں ، ایک عورت مرد اور دوبچے مٹی گوندکر اینٹیں بنارہے تھے انور نے وہاں جاتے ہی بریانی زردہ اور مٹھائی ان کے سپرد کی اور کہا :” چودھری صاحب کھانا تبدیل کرنا چاہتے ہیں وہ یہ بات سن کردم بخود رہ گئے۔ جب انور نے تفصیل بیان کی تو وہ راضی ہو گئے، عمررسیدہ تپھیرے نے کہا :” وہ سامنے درخت کی شاخوں کے ساتھ ایک ” شاپر پوٹلی “ جھول رہی ہے۔ اسے کھول لیں ہمارا دوپہر کا کھانا ہے۔ انور نے شاخوں سے جھولتا ہوا شاپر کھول لیا اور چودھری کو ساتھ لے کر پھر دربار پر آگیا۔

سائیں جی کے سامنے شاپر کھولا گیا۔ اس میں سے چھوٹی سی سالن کی کٹوری میں دال کے علاوہ ایک رومال میں چند سوکھی روٹیاں بندھی تھیں۔ سائیں جی نے روٹی کا چوتھائی حصہ توڑ کر چودھری کے سامنے رکھ دیا اور کہا : چودھری صاحب دال کے ساتھ کھاﺅ۔ چودھری کانوں کو ہاتھ لگانے لگا : تو بہ توبہ سرکار یہ کھاتے ہی میرا درد سے براحال ہو جائے گا اور پھر یہاں ایک پل ٹھہرنا بھی دشوار ہوگا۔ آپ نے فرمایا ۔ لقمہ توڑ کر منہ میں ڈالیں اگر درد ہوا تو ہم ذمہ دارہوں گے۔ یہ روٹی مشقت کرنے والوں کی ہے“.... کھاﺅ ۔

ڈرتے ڈرتے چودھری نے ایک چھوٹا سا نوالہ منہ میں ڈال لیا اور دھیرے دھیرے کھانے لگا، یکے بعد دیگرے اس نے روٹی کا چوتھائی حصہ دال کے ساتھ کھا لیا۔ اوپر سے گھڑے کا ٹھنڈا پانی پیا۔ اب وہ اپنے تئیں انتظار کرنے لگا کہ ابھی درد شروع ہوتا ہے مگر اسے کوئی تکلیف نہ ہوئی کچھ دیر میں قہوہ تیار ہوگیا، قہوہ بھی اسے سخت منع تھا مگر وہ خوشی سے پی گیا۔ اب تو اس کے چہرے پر کھلتی رنگت دیدنی تھی۔ وہ اندر ہی اندر سے خوش ہورہا تھا کہ مہینوں بعد اس نے روٹی کھائی ہے اور وہ بھی بغیر تکلیف کے۔

شام تک وہ دربار پر رہا اور بڑے سکون اور غور سے سائیں جی کی باتیں سنتا رہا۔

آپ نے فرمایا : ” جو روٹی آپ نے کھائی ہے وہ سخت محنت اور مشقت کرنے والوں کا رزق تھا۔ اس میں ان کے خون پسینے کی محنت شامل تھی۔ اسے رزق حلال کہا جاتا ہے۔ رزق حلال تکلیف کا باعث نہیں بن سکتا ۔ آج سے رزق حلال کھانے کی کوشش کرو اور ہاں سود کھانے والوں کا رزق ”عذاب“ ہوتا ہے ۔ جاﺅ اپنے روزو شب پر غورکرو۔ سادہ روٹی دال چٹنی سے کھاﺅ ساری عمر تکلیف ہوئی تو ہمیں بتانا ۔ مگر یہ عمر بھر کا پرہیز ہے۔“

چودھری پھٹ پڑا اس کی آنکھیں بھیگ چکی تھیں.... رُندھی ہوئی آواز میں بولا:

” سرکار جی ! واقعتاً میں سود پر رقم دیتا ہوں۔ اس طرح کئی کاشتکاروں کی زمینیں بھی ہتھیا چکا ہوں لیکن آج سے آپ کے روبرو توبہ اور وعدہ کرتا ہوں کہ ”ازالہ “ کروں گا اور آپ کے حکم کی تعمیل ہوگی۔ کئی ماہ بعد انور سے ملاقات ہوئی تو تجسس سے میں نے فیصل آباد کے چودھری کے بارے میں دریافت کیا تو پتہ چلا کہ چودھری نے قبضہ کی ہوئی تمام زمینیں کاشتکاروں کو واپس کردیں، سود پر رقم دینے سے ثابت ہوگیا وہ خود اپنے کھیتوں کی گندم کی روٹی چٹنی سے کھاتا ہے، اس نے سود کے پیسے سے اکٹھی کی ہوئی دولت اور جائیداد لوگوں میں تقسیم کردی ہے۔

مجھے یاد ہے سائیں جی نے سود کے بارے میں فرمایا تھا :

”سود کھانا ....پاخانہ کھانے کے برابر ہے“


ای پیپر