پولیس کے فرضی اجلاس کی رپورٹنگ
04 ستمبر 2019 2019-09-04

پنجاب کے وزیر قانون ، بلدیات اور پارلیمانی امور راجا محمد بشارت پرانی انارکلی میں ربڑی والے دودھ اور فالودے کی مشہور دکانوں کے پہلو میں واقع آئی جی آفس میں پہنچے ہوئے ہیں۔ آئی جی پنجاب امجد جاوید سلیمی اپنے ایڈیشنل اور ڈپٹی آئی جیز کی بھاری تعداد کے ساتھ موجود ہیں۔ وزیر قانون برہم ہیں کہ رحیم یار خان کے ایک بینک کے اے ٹی ایم میں پھنسا ہوا کارڈ نکالتے ہوئے کیمرے میں منہ چڑانے والا ذہنی معذور صلاح الدین کس طرح پولیس حراست میں مارا گیا مگر انہیں بتایا جا رہا ہے کہ صلاح الدین اے ٹی ایم توڑ ڈکیت تھا اور اس کی گرفتاری اور ہلاکت سے اب تک اے ٹی ایم توڑے جانے کے تمام مقدمات یکایک حل ہو گئے ہیںاور یہ کارنامہ پولیس کی تاریخ میں سنہری حروف سے لکھا جائے گا۔ ایک ڈی آئی جی نے ملک و قوم کا درد اپنی آواز میں سموتے ہوئے کہا کہ صلاح الدین کی موت حکومت کے وژن یعنی انصاف کی فوری فراہمی کے نعرے کے عین مطابق ہے۔ اس وقت ملک معاشی اور اقتصادی بحران کا شکار ہے اور سب جانتے ہیں کہ تحقیق، تفتیش اور عدالتی عمل سستے کام نہیں ہیں، برس ہا برس مقدمات چلتے ہیں اور ان پر قوم کے لاکھوں ، کروڑوں روپے لگ جاتے ہیں لہٰذا پولیس اور عدالتوں کو ایسے ذہنی مریضوں کے مقدمات سے بچا لینا ہی عین ملک و قوم کی خدمت ہے ۔ ایک ڈی آئی جی نے لقمہ دیا کہ ہم ان وسائل کو ان کمی کمینوں پر ضائع کرنے کے بجائے کرپٹ سیاستدانوں کے خلاف استعمال کر سکتے ہیں جو سب کے سب اپوزیشن میں ہیں، وزیر قانون نے اس پر متانت اور تدبر سے سرہلاہا۔

راجا بشارت نے سوال کیا کہ الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا تو’ ذمے دار‘ ہیں مگر سوشل میڈیا پر اس معاملے کی ٹرولنگ کو کس طرح کنٹرول کیا جا سکتا ہے جس پر ایک ڈی آئی جی نے وزیر قانون کی آبزرویشن سے مکمل اتفاق کیا اور کہا کہ ننانوے فیصد ظالم اور کرپٹ پولیس والوں کی وجہ سے باقی ایک فیصد بھی بدنام ہیں اور اس کا حل یہ ہے کہ آئی جی پنجاب یک ویڈیو پیغام جاری کریں جس میں وہ ایسے پولیس والوں کے لئے زیرو ٹالرنس کا اعلان کریں ۔اس ویڈیو کو پی ٹی آئی کے پیجز کے ذریعے وائرل کیا جائے ۔ وزیر قانون نے اس تجویز کو پسند کیا اور کہا کہ آئی جی صاحب جائیں اور پہلے ویڈیو ریکارڈ کروائیں۔ وزیر قانون نے کہا کہ یہ میڈیا والے شرارتیں کرنے سے باز نہیں آتے اب یہی دیکھیں کہ ٹھوکر نیاز بیگ پر خواجہ سراو¿ں کی غلیظ حرکتوں کے بارے بار بار رپورٹنگ کی جا رہی ہے، امید ہے کہ آپ نے اس پر کارروائی کی ہو گی۔ سی سی پی او لاہور کی طرف سے بتایا گیا کہ اس کا بھرپور نوٹس لیا گیا ہے اور ڈی آئی جی آپریشنز سے رپورٹ طلب کر لی گئی ہے اور متعلقہ اینکر کو فون کر کے شرم دلائی گئی ہے کہ خواجہ سراناچ گانے پر پابندی کی وجہ سے بے روزگاری کا شکار ہیں اور اگر ان کا کوئی دھندا لگا ہوا ہے تو وہ ان کی روزی روٹی کا کیوں دشمن ہوا پھرتا ہے۔ وہاں خواجہ سراوں کے ساتھ ساتھ ہمارے پولیس والوں کی بھی اکثر دیہاڑی لگ جاتی ہے اور اس کا فائدہ یہ ہے کہ وہاں سب گندے شوق رکھنے والے ہی جیبیں خالی کرواتے اور عبرت حاصل کرتے ہیں ، یوں جب لوفروںسے ہی رزق مل جائے تو پھر شریف لوگوں کو پکڑنے اورمال بٹورنے کی چنداں ضرورت نہیں رہتی ۔ ہم نے متعلقہ ڈی ایس پی اور ایس ایچ او سے بھی پوچھا ہے اور وہ خواجہ سراو¿ں کی سماج کے لئے خدمات سے پوری طرح مطمئن ہیں۔ ہمارے ایک ایس پی صاحب سائیکالوجی میں ڈبل ایم اے ہیں اور انہوں نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ خواجہ سرا معاشرے میں ڈپریشن اور دیگر بیماریوں کے شکار شہریوں کا بھی دو، تین سو روپے میں علاج کر رہے ہیں اور یہی وجہ ہے کہ ہم نے ان کی برانچز کینال روڈ کے علاوہ گارڈن ٹاو¿ن اور ڈیفنس کی مین بلیوارڈ کے آس پاس بھی کھلوا دی ہیں ۔

راجا بشارت نے کہا کہ ایک اور میڈیا رپورٹ ہے کہ جیل روڈ، مغلپورہ پر نہر کے کناروں پرہی نہیں بلکہ مین بلیوارڈ گلبرگ میں حفیظ سنٹر کے سامنے اور مال روڈ پرپینوراما کے سامنے نشئیوں کے ڈیرے بن گئے ہیں جو پہلے صرف داتا دربار اور ملحقہ علاقوں میں تھے بلکہ نشئیوں کی فیملیاں زمان پارک میں وزیراعظم کے گھر کے آس پاس بھی پائی جاتی ہیں۔ وزیر قانون کچھ دیر جواب کا انتظار کرتے رہے مگر مسلسل خاموشی پر انہوں نے پوچھا کہ دو، چار برس پہلے ڈی آئی جی فنانس سرمد سعید نے انکشاف کیا تھا کہ ہر مہینے ہر تھانے میں ایک لاکھ تین ہزار روپے کے اضافی مگر ضروری اخراجات ہوتے ہیں اورسروے کے مطابق ہر ایس ایچ او سرکار ی وسائل نہ ہونے کی وجہ سے ان کا بندوبست اوپر کی کمائی سے ہی کرتا ہے۔ ایک سینئر ڈی آئی جی ترنت بو لے یہ درست نہیں، حقیقت یہ ہے کہ مہنگائی کی وجہ سے اب ہر تھانے میں ہر مہینے تین سے ساڑھے تین لاکھ روپے کے اضافی اخراجات ہوتے ہیں چونکہ ملک معاشی بحران کا شکار ہے لہٰذا ایس ایچ اوز ہر مہینے جہاں اپنے تیس سے پینتیس لاکھ روپے کماتے ہیں وہاں ملک و قوم کی خدمت کے جذبے سے سرشار ہو کر اس رقم کا بھی اوور ٹائم لگا کے بندوبست کر لیتے ہیں۔ یہ بتاتے ہوئے ان کی آنکھیں قوم اور ایس ایچ اوز کے لئے محبت کے جذبے سے چمک رہی تھیں۔ راجا بشارت کو اندازہ ہوگیا کہ پچھلے سوال کا جواب کیوں نہیں آیا۔ وہ انتظار کر رہے تھے کہ ربڑی والا دودھ اور فالودہ پہنچ جائے لہٰذ ا وقت گزارنے کے لئے اگلا سوال پوچھ لیا ، سنا ہے کہ ہمارے پولیس والے گاڑیوں کا پٹرول اور ڈیزل بیچتے ہیں ، ان کی باقاعدہ ویڈیوز بنی ہیں اور وہ رنگے ہاتھوں پکڑے گئے ہیں۔ اس موقعے پر ڈی آئی جی آپریشنز نے بتایا کہ صرف وہی ڈیزل اور پٹرول بیچا جاتا ہے جو ضرورت سے زیادہ ہوتا ہے اور پٹرولنگ کے ریکارڈ سے روزانہ بچ جاتا ہے ورنہ گاڑیاں قربان لائن کی ہوں یا تھانوں کی ،اس پٹرول کے بیچے جانے بارے سوچا بھی نہیں جا سکتا جوہمارے افسران کے ذاتی کاموں اور گاڑیوںمیں استعمال ہوتا ہے۔

راجا بشارت کو زیادہ فکر پولیس کی حراست میں ہلاکتوں بار ے تھی کہ ایک ہفتے میں تین شہری ماورائے عدالت قتل ہو گئے تھے۔ پولیس والوں نے بتایا کہ یہ سب معاملہ صلاح الدین سے ہی شروع ہوا جو کہ اے ٹی ایم کا چور تھا۔ اب کسی پولیس والے سے یہ توقع نہیں رکھی جا نی چاہئے کہ وہ چور کو معاف کرے،اس کی عزت کرے۔ ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ آئی جی صاحب ویڈیو پیغام ریکارڈ اور جاری کروا کے واپس آ گئے۔ آئی جی صاحب کے پی اے نے بتایا کہ پنجاب پولیس کی چالیس گاڑیاں اور تین سو جوان درکار ہیں جو ان لوگوں کے لئے سیکورٹی اورپروٹوکول ڈیوٹی دیں گے جنہوں نے حال ہی میں وفاقی کابینہ کی منظوری اور ایوان صدر سے جاری حکم نامے کے تحت گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ سیس میں عوام سے وصول کردہ تین سو ارب روپے سرکاری خزانے میں جمع کروانے کے بجائے اپنی جیبوں میں ڈال لئے ہیں ۔ پی اے نے بتایا کہ ان کے خلاف عوامی غم وغصہ بڑھتا چلا جا رہا ہے۔ وزیر قانون نے ہدایت کی کہ پولیس کسی چور کو معاف نہ کرے چاہے اس نے تین سو روپے ہی کیوں نہ چوری کئے ہوں اور دوسری طرف تین سو ارب جیبوں میں ڈال لینے والوں کی سیکورٹی کو ہر صورت یقینی بنایا جائے کہ وہ لوگ ملک و قوم کے لئے سرمائے کا درجہ رکھتے ہیں۔ اسی دوران ربڑی والا دودھ اور ڈبل قلفی والے فالودے کے پیالے آ چکے تھے لہٰذا یہ اہم اور فروٹ فُل میٹنگ انہی ہدایات کے ساتھ ختم ہو گئی۔


ای پیپر