شرجیل میمن کے ملازمین شراب بوتلیں تبدیل کرنے پر مشکل میں
04 ستمبر 2018 (16:37) 2018-09-04

کراچی:سابق وزیر شرجیل انعام میمن کے ملازمین سے اصلی شراب برآمد ہوئی، حقائق بدلنے پر جیل افسران اور کورٹ پولیس کے خلاف مقدمہ درج کر کے انہیں شامل تفتیش کرلیا گیا ۔

محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے 6 ارب روپے کی کرپشن کے الزام میں گرفتار پیپلز پارٹی رہنما شرجیل انعام میمن کے ہسپتال کے کمرے سے شہد اور زیتون کا تیل برآمد ہونے کے پارٹی پروپیگنڈے کو کراچی پولیس حکام نے مسترد کرتے ہوئے غیر ملکی شراب کی اصلی بوتلیں برآمد کرنے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ حقائق مسخ اور ردوبدل کرنے کے الزام میں جیل حکام، کورٹ پولیس اور بعض دیگر متعلقہ حکام کے خلاف مقدمہ درج کر کے شامل تفتیش کر لیا گیا ایک اعلیٰ پولیس افسر کے مطابق چیف جسٹس آف پاکستان کے چھاپے کے دوران شرجیل میمن کے کمرے میں غیر ملکی شراب کی بوتلیں پائی گئی تھیں، چیف جسٹس کے کمرے سے نکلتے ہی ان بوتلوں کو غائب کردیا گیا تھا۔چیف جسٹس آف پاکستان کی ہدایت پر جب سپریم کورٹ کی ٹیم ضیاء الدین ہسپتال کی سب جیل پہنچی تو پولیس کے دبائو پر شرجیل انعام میمن کے ملازمین نے ہوبہو ویسی ہی شراب کی خالی بوتلوں میں شہد اور زیتون کا تیل ڈال کرپیش کردیا تھا ٗاس کے ساتھ ہی پیش کردہ بوتلوں کی تصاویر بھی سوشل و الیکٹرونک میڈیا پر وائرل کردیں۔

پولیس کے اعلیٰ تحقیقاتی افسر کے مطابق تحقیقات کے دوران ہسپتال کی سی سی ٹی وی فوٹیج قبضے میں لی گئی تو ان ویڈیوز کی مدد سے شرجیل انعام میمن کے ایک ملازم کو سب جیل کے کمرے سے شاپنگ بیگ میں شراب کی بوتلیں لے جاتے ہوئے دیکھا گیا۔ مذکورہ ملازم نے وہ بوتلیں ہسپتال کے جس مقام میں چھپائی تھیں پولیس نے وہاں کار پر چھاپہ مار کر اصلی شراب بھی قبضے میں لے لی تھی۔بوٹ بیسن تھانے میں درج مقدمے اور کیس پراپرٹی میں شراب کی وہ اصلی بوتلیں موجود ہیں جن میں سے دو ڈبہ پیک ہیں۔ مقدمے کو مزید مضبوط بنانے کیلئے ہسپتال کی تمام سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کیس کا حصہ بنائی گئی ہے۔پولیس حکام کے مطابق اس مقدمے کے حوالے سے جیل انتظامیہ کا پیشہ ورانہ کردار مشکوک اور غیر قانونی پایا گیا ہے ٗ سی سی ٹی وی فوٹیج کے موازنے سے جاگیر ہسپتال کا کمرہ قطعی طور پر تبدیل نہیں لگ رہا۔

جہاں مختلف اشیاء خاص طور پر شراب لانے لے جانے کے معاملے میں چیکنگ قطعی طور پر نہیں کی گئی ٗجیل حکام کی جانب سے درج کیے گئے مقدمے میں شواہد مٹانے کی دفعہ بیایید کی جا رہی ہے۔ دفعہ 201 کے تحت جیل کے متعلقہ افسران اہلکاروں، کوٹ پولیس اور بعض دیگر ذاتی ملازمین کو بھی شامل تفتیش کیا جارہا ہے۔ شرجیل میمن کے ملازمین کی جانب سے پیش کردہ بوتلوں اور سی سی ٹی وی فوٹیج کی مدد سے کار کی ڈگی سے برآمد کی گئی اصلی شراب کا کیمیکل ایگزامنر سے بھی تجزیہ یہ کرایا جائیگا۔


ای پیپر