Source : File Photo

معاشی بحران، نئی حکومت اور عوام کی توقعات
04 ستمبر 2018 (16:35) 2018-09-04

حافظ طارق عزیز:قوت فیصلہ اورکرائسس مینجمنٹ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ انفرادی اور اجتماعی زندگی میں بعض اوقات ایسی صورت حال پیدا ہوجاتی ہے کہ جب انسان کو دو انتہاوں میں سے ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔ جب ایسے حالات کا سامنا ہو تو پھر قوت فیصلہ اور سے کام لے کر بحرانی کیفیت سے نکلنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ قومی زندگی میں معیشت و سیاست کا فیکٹر بھی اکثروبیشتر ایسے حالات کا شکار ہو جاتا ہے جہاں سے نکلنے کے لئے منصوبہ بندی کی جاتی ہے اور مختلف حکمت عملیاں تیارکی جاتی ہیں۔ اس طرح کی گومگوں جیسی کیفیت میں اکثر ایک لفظ” گیم تھیوری“ استعمال کیا جاتا ہے۔


”گیم تھیوری “ اصل میں ایک تھیوری ہے جو امریکی معیشت دانوں جان سی ہرسنائی، جان نیش اور رین ہارڈ سیلٹن نے پیش کی ۔ اس تھیوری پر انہیں 1994ءمیں نوبل پرائز بھی ملا۔گیم تھیوری کے مطابق ” ایسی صورت حال سے نمٹنا یا نمٹنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دینا جس میں مختلف لوگ اپنے فائدے کو دیکھتے ہوئے فیصلہ کریں ، اور فیصلہ ایسا ہو جو ان کے لیے بہترہو، خواہ اس سے کسی دوسرے کو نقصان ہی کیوں نہ پہنچنے کا اندیشہ ہو۔

یا یوں کہیں ایسا فیصلہ جوکسی بھی صورتحال میں کم سے کم نقصان اور زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچائے قطع نظر اِس سے کہ دوسرے لوگ کیا قدم اٹھاتے ہیں۔“ اس تھیوری کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی مثال سے مدد لیتے ہیں کہ فرض کریں بدقسمتی سے آج آپ کا دفتر میں بہت مصروف دن ہے، آپ کچھ میٹنگز میں بھی شرکت کرنی ہے، ان حالات میں اگر کوئی بن بلایا ملاقاتی آجائے جسے آپ ملنے سے انکار نہ کر سکیں اور اُس ملاقاتی نے کم ازکم ایک گھنٹہ آپ کی جان نہ چھوڑنی ہو تو آ پ کیا کریں گے ؟ ایک طریقہ تو یہ ہے کہ آپ آج کے مصروف دن میں اسے ایک گھنٹہ دیں اور نتیجے میں اپنا تمام شیڈول درہم برہم کرلیں، دوسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں اور اسے کہیں کہ آج ملاقات نہیں کی جا سکتی، اس کا نتیجہ یقیناً اچھا نہیں نکلے گا اور موصوف ہمیشہ کے لئے آپ سے ناراض ہو جائیں گے، تیسرا طریقہ یہ ہے کہ آپ فوراً چائے منگوانے کی بجائے پوچھیں کہ سرآپ چائے پئیں گے، اگر بندہ معقول ہوا تو انکار کرکے جلد جان چھوڑ دے گا مگراِس معقولیت کا امکان کم اور نا معقولیت کا زیادہ ہے، چوتھا طریقہ یہ ہے کہ آپ کہیں سر آپ سے تو گپ لگانے کا بہت مزا آنا تھا مگر آج میری گیارہ بجے میٹنگ ہے اور میرا اسٹاف ایسا نالائق ہے کہ سب کام مجھے خود کرنا پڑتا ہے، غالب امکان ہے کہ اس بیان کے نتیجے میں آپ کی جان چھوٹ جائے گی۔ یعنی آخری طریقے میں عزت بھی بچ گئی، دوستی بھی نہ چھوٹی اور بن بلائے مہمان سے جان بھی چھوٹ گئی۔


اب آتے ہیں پاکستان کی معیشت کی طرف جو پچھلی حکومتوں کی کارستانیوں کی وجہ سے زبوں حالی کا شکار نظر آرہی ہے۔ اور حالت ایسے گھرکی مانند ہو چکی ہے جہاں کمانے والا بے روزگار ہے اور گھر قرضے لے لے کر چل رہا ہے۔ اب حالات یہ ہیں کہ قرض دینے والا آپ کی آزادی صلب کرچکا ہے اور آپ پر حکم چلا رہا ہے کہ گھر اُس کی مرضی کے مطابق چلاﺅورنہ نتائج بھگتنے کے لیے تیار ہو جاﺅ۔ جب کہ آپ کو چاہتے اور نہ چاہتے ہوئے بھی ایسا کرنا پڑ رہا ہے۔

اب ایسی حالت میں پاکستان کیا کرے جب امریکا جیسا ملک امداد دے کر ”ڈومور“کا مطالبہ کرتا ہے، ہمارا وزیر اعظم منتخب ہوتا ہے تو امریکی صدر یا نائب صدر فون پر مبارک باد دینے کے بجائے اُن کا وزیر خارجہ فون کرکے مبارک باد دیتا ہے جب کہ ہمارے نو منتخب وزیراعظم کو چاہتے نہ چاہتے وزیر خارجہ سے مبارک باد وصول کرنا پڑتی ہے اور ڈومور کا مطالبہ بھی سننا پڑتا ہے۔ سعودی عرب چھپ چھپا کر ہماری مدد کرتا ہے تو اُس کے بھی اپنے مفادات ہیں، وہ یمن کے خلاف جنگ میں پاکستان کا ساتھ چاہتا ہے، جب کہ پاکستان کو چاہتے نہ چاہتے ہوئے یمن پر سعودی بمباری کو ”سراہنا“ پڑتا ہے۔ چین جب پاکستان کو قرض دینے کی بات کرتا ہے تو وہ براہ راست خود نہیں قرض فراہم کرتا بلکہ اپنے بینکوں کے ذریعے پاکستان کو خاص شرائط پر قرض دے کر پاکستان میں کسی ایک پراجیکٹ پر ہاتھ صاف کر لیتا ہے۔ پیچھے رہ گیا ایران تو ایران پہلے ہی امریکی پابندیوں کی زد میں ہے، اور پاکستان پر پابندی ہے کہ وہ ایران سے کسی قسم کے تجارتی تعلقات بڑھا نہیں سکتا۔ بھارت اور افغانستان کے حوالے سے پاکستان کے معاشی تعلقات بھی کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔


ان حالات میں جب پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر 10ارب ڈالر سے بھی کم رہ گئے ہوں، اندرون و بیرون ملک قرض 200 ارب ڈالر سے تجاوزکر چکا ہو، اسٹیٹ بینک میں اس وقت اگلے تین ماہ کا خرچ بھی موجود نہ ہو۔ بدقسمتی سے 53 ارب ڈالر کی درآمدات کے مقابلے میں ہماری برآمدات 22 ارب ڈالر رہ گئی ہوں جو کہ بجٹ خسارے کی ایک اور بڑی وجہ ہے۔ دنیا بھر میں ایک بڑے زرعی ملک کے طور پر جانے جانے والے پاکستان میں زراعت کی خستہ حالی اسے منہ چڑھا رہی ہو تو ایسے میں ملک کو ”گیم تھیوری“ کی ضرورت ہے۔ کہ اپنا فائدہ دیکھا جائے، کس کو اس فائدے سے نقصان ہو رہا ہے کس کو نہیں یہ نہ سوچا جائے۔

یہ تھیوری چونکہ 90کی دہائی میں پیش کی گئی اور اس سے کئی ملکوں کے ماہرین نے استفادہ کیا بلکہ کہا جاتا ہے کہ ملائشیا میں مہاتیر محمد نے اسی تھیوری کی بنیاد پر پاکستان کی معیشت کو پروان چڑھایا۔ آج جیسے تیسے کرکے معیشت کو سہارا ضرور دیا جائے، جذباتی فیصلوں سے پرہیز کیا جائے، اور معیشت کو استحکام دینے کے لیے اپنی انڈسٹری کو مضبوط بنایا جائے۔ اپنی فیکٹریوں سے پیدا ہونے والی مصنوعات اور میڈ ان پاکستان کو عزت دی جائے۔ اپنی پراڈکٹس کی کوالٹی کو عالمی معیارکے مطابق سٹینڈرائزکیا جائے۔ ہم ماچس، عام بلیڈ، سوئی اور چھوٹے چھوٹے کھلونے بھی چین اور انڈیا سے درآمد کرتے ہیں۔ حالانکہ ہم یہ چیزیں خود بنا سکتے ہیں۔ چین 90 فیصد چیزیں ”کاپی “کرکے بناتا ہے۔ میں یہ نہیں کہتا کہ ہر چیز کو کاپی کرکے بنایا جائے مگر نئے آئیڈیاز کو پروموٹ کیا جائے۔ ہم عام بلیڈ بھی چائینہ اور بھارت سے درآمد کرتے ہیںاور ہماری قوم کی یہ عادت بن چکی ہے کہ وہ برانڈ کے چکر میں پڑ چکی ہے۔


اس وقت پاکستانی معیشت کی جو صورت حال ہوگئی ہے، اس پر قابو پانے کے لیے یقیناً کسی ایسی”کاری گری“ کی ضرورت ہے جس سے دھاگہ تلواروں کے ساتھ لڑ سکے اور یقیناً معیشت کے حقیقی ماہرین میں کچھ ایسے کلاکار بھی ہوںگے جو ممولے کو شہباز سے لڑا دیں۔ اگر دنیا بھرکی معیشت پر قابض سرمایہ کاروں کی کاریگری پر سرسری نظر ڈالی جائے تو انھوں نے بھی ایسے ایسے قوانین بنائے جن کے ذریعے انھوں نے دنیا بھرکی کرنسیوں کی تلواروں کو گویا ایک دھاگے سے کاٹ پھینکا۔ اب بھلا اس بات کی کوئی منطق ہو سکتی ہے کہ قیام پاکستان کے وقت روپیہ اور ڈالر تقریباً برابرکی کرنسیاں تھیں لیکن اب ان گزرے برسوں میں پاکستان کا روپیہ ڈالر سے125کے لگ بھگ کم ہوگیا ہے۔ اب تووزیر خزانہ اسد عمر بھی یہ کہہ چکے ہیں کہ ہمیں عوام نے اس لیے ووٹ نہیں دیے کہ ہم انہیں یہ بتائیں کہ خزانے خالی پڑے ہوئے ہیں۔


جہاں تک پاکستانی معیشت کی بحالی کا تعلق ہے تو سب سے پہلے ہمارے ذمے داروں کو اس حوالے سے غیریقینی کی فضا ختم کرنا ہوگی۔ عوام کا اور کاروباری حضرات اور تاجروں وغیرہ کا اعتماد بحال کرنا ہو گا۔ معیشت کی ترقی کے لیے اس کی سمت کا تعین کرنا سب سے زیادہ ضروری ہے۔ پی ٹی آئی کی حکومت اس ضمن میں ٹھوس احکامات کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور اس حکومت میں پُرخلوص اور محب وطن ماہرین بھی موجود ہیں جن کو یہ مشکل کام نتیجہ خیز بنانے کے لیے سوچا جا سکتا ہے۔


ہم 1988ءسے اسٹرکچرل ایڈجسٹمنٹ پروگرام کے تحت آئی ایم ایف کے شکنجے میں ہیں۔ ماضی کی حکومتوں نے وہ کام نہیںکیا یعنی اسٹرکچرل اصلاحات نہیں کیں جس کے لیے پیسہ لیا، اس لیے وہ شکنجہ کستا چلاگیا۔ امریکہ اپنے بدلے ہوئے رویّے کے تناظر میں نیو گریٹ گیم کے تحت پاکستان کے گرد شکنجہ مضبوط کرتا نظرآرہا ہے۔ سی پیک کو کمزورکرنے کی مسلسل کوششیں کی جارہی ہیں۔ جیسا کہ نئی حکومت نے عندیہ دیا ہے پاکستان آئی ایم ایف سے بھاری قرضہ لینے جا رہا ہے، تو آئی ایم ایف کی شرائط دیکھنا نہایت ضروری ہے۔ اب یا تو وہی 1988ءوالا طریقہ استعمال ہوگا کہ بجلی، گیس، پیٹرول کو مہنگا کردیا جائے، روپے کی قدرگرا دیں، ترقیاتی اخراجات کم کرکے اور شرح سود میں اضافہ کرکے عوام پر بوجھ ڈالا جائے گا، یا جو اصل طریقہ ہے اُن کی سخت شرائط پوری کرنے کا کہ ٹیکس کی چوری روکیں، طاقتور طبقات سے ٹیکس لیں، شاہانہ اخراجات کم کریں تو آپ عوام پر بوجھ ڈالے بغیر قرض کی سخت شرائط پوری کرسکیں گے۔ اب یہی دیکھنا ہوگا کہ وہ اپنے منشورکے تحت کیا کرتے ہیں، آیا بہتری آئے گی یا وہی چلتا رہے گا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اگلے45 دنوں میں نئی حکومت کی معاشی لائن آف ایکشن سامنے آجائے گی، اگر انہوں نے اپنے منشور پر عمل کیا تو یقینا خوش حالی کا سفر شروع ہوگا، لیکن اگر ماضی کی طرح طاقتور طبقات اور استعمارکے مفادات کا تحفظ کیا تو پاکستان کے مستقبل سے خوف آتا ہے۔
اب واپس ہم گیم تھیوری کی طرف آتے ہیں جس میں تمام کامن سینس کی باتیں ہیں، کوئی راکٹ سائنس نہیں، لیکن اگر ان باتو ں کو باقاعدہ حکمت عملی کا روپ دے کر ایک تھیوری کی شکل میں ڈھالا جائے تو اسے Induction Reverseکہیں گے۔ اِس طریقہ کار میں آپ کسی بھی صورت حال کے نتیجے میں پیدا ہونے والے ممکنہ نتائج کا پہلے سے احاطہ کرتے ہیں اور پھر عقلی بنیاد پر ہر نتیجے کی ”بیک ورڈ “پڑتال کرتے ہیں کہ بہترین نتیجہ کس حکمت عملی کے تحت نکلے گا۔ یعنی ایک ان چاہے ملاقاتی سے جان چھڑانے کے چار ممکنہ طریقے تھے، آپ نے چاروں کا ممکنہ نتیجہ دماغ میں سوچا اور پھر اُن میں سے ایک پر عمل کیا جس میں ناکامی کا احتما ل سب سے کم تھا۔ یہی گیم تھیوری ہے۔ اور اسد عمر، عمران خان اور اُن کی ٹیم کو بھی اسی انداز میں سوچنے کی ضرورت ہے، گیم پلانر بننے کی ضرورت ہے اور باتوں سے نکل کر عملی کام کرنے کی ضرورت ہے۔ جس کے بغیر حقیقی تبدیلی ممکن نہیں!


ای پیپر