وزیراعظم کو مفت کے کچھ مشورے
04 ستمبر 2018 2018-09-04

عمران خان کا بطور وزیراعظم پہلا دورہ لاہور ان کے وزیروں شذیروں کے نزدیک بہت کامیاب رہا، مگر ان کے وہ نظریاتی کارکن ان کے دورے سے ہرگز خوش نہیں جنہوں نے بائیس برسوں تک ان کے کندھے سے کندھا ملا کر جدوجہد کی۔ ان کی خواہش تھی وزیراعظم بننے کے بعد وہ پہلی مرتبہ لاہور آرہے ہیں کچھ وقت ان کے لیے بھی وقف کرتے جس سے پورے پاکستان کے پی ٹی آئی کے کارکنوں خصوصاً نظریاتی کارکنوں کو یہ پیغام ملتا وزیراعظم بن کر کارکنوں کی جدوجہد کو انہوں نے فراموش نہیں کیا، پیامبر نے جب مجھ سے کہا صبح ساڑھے آٹھ بجے زمان پارک تشریف لے آئیں، میں نے عرض کیا عمران خان سے ملنے کی ہروقت خواہش رہتی تھی، وزیراعظم عمران خان سے ملنے کی کوئی خواہش دل میں نہیں ہے۔ ظاہر ہے حکمران بننے کے بعد سچ وہ سن نہیں سکتے اور جھوٹ ہم ان سے بول نہیں سکتے، پھر اس ملاقات کا کیا فائدہ اُنہیں یا مجھے ہوگا؟۔ ہمارے اکثر حکمرانوں کو صرف وہی سچ اچھا لگتا ہے جو، ان کے حق میں ہو، ویسے بھی میرا خان صاحب کے ساتھ ان کے اس نئے موبائل نمبر واٹس ایپ پر رابطہ ہے جو اب صرف چند لوگوں کے پاس ہے۔ اس کے ذریعے اپنی گزارشات میں ان تک پہنچاتا رہتا ہوں، جو گزارش اُنہیں پسند آجائے اس کا جواب دے دیتے ہیں جو نہ آئے نہیں دیتے، ....سو میں ان سے بنفس نفیس ملاقات کرکے ان کا اور اپنا وقت برباد نہیں کرنا چاہتا، بہتر ہے یہ وقت وہ اپنے مخلص ان کارکنوں کو دیں جو اُنہیں الیکشن جتوانے کے بعد ان کی صورت دیکھنے کو ترس گئے ہیں، ....چودھری سرور اور علیم خان کے آپس میں اختلافات کی خبروں میں اللہ جانے کتنی صداقت ہے؟ مگر میں یہ پورے دعوے سے کہہ رہا ہوں یہ دونوں رہنما پی ٹی آئی میں نہ ہوتے، اور عاجزی وانکساری ان کا اوڑھنا بچھونا نہ ہوتی پی ٹی آئی کے کارکن خود کو بالکل ہی بے یارو مددگار تصور کرتے، عہدے ان دونوں کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، یہ وزیراعظم بھی بن جائیں کارکنوں کے ساتھ وہ ”سلوک “ ہرگز نہیں کریں گے جس کی توقع کارکن اب وزیراعظم عمران خان سے کرنے لگے ہیں، البتہ ان مایوس کارکنوں کو ڈھارس بندھانے کے لیے ان کی خدمت میں اپنے طورپر میں نے عرض کیا ”یہ کوئی وزیراعظم کا آخری دورہ لاہور نہیں ہے، مجھے یقین ہے وہ آئندہ دورہ لاہور میں لازمی طورپر کارکنوں سے بھی ملاقات کریں گے، خصوصاً ایسے کارکنوں سے جو ذاتی مفادات سے بالاتر ہوکر صرف اورصرف ملک کا سوچتے ہیں “ .... کارکنوں کا جواب تھا ”جتنا وقت اپنے دورہ لاہور میں اپنے پرانے دوستوں یعنی اپنے کچھ ” ہم نوالوں اور ہم پیالوں“ کو انہوں نے دیا اس کا ایک فی صد حصہ بھی وہ ہمیں دے دیتے ، صرف اپنا چہرہ مبارک ہی دکھا دیتے، ہم خوش ہوجاتے“.... خان صاحب سے گزارش ہے اپنے اگلے دورہ لاہور میں اپنے جانثار کارکنوں کو کم ازکم اپنا وہ چہرہ مبارک ضرور دکھادیں جو بے شمار وجوہات یا مسائل کی بناءپر ان دنوں خاصا تھکا تھکا سا محسوس ہوتا ہے۔
ابھی تو انہوں نے بہت سے مسائل حل کرنے ہیں۔ ملک اور عوام کو جتنی اُمیدیں ان سے وابستہ ہیں، جتنا میں اُنہیں جانتا ہوں انشاءاللہ وہ مایوس نہیں کریں گے۔ ابتدائی طورپر کچھ مسائل کا ضرور انہیں سامنا ہے۔ خصوصاً جس ٹیم کا انہوں نے انتخاب کیا ہے یا ان سے کروایا گیا ہے وہ بہت کمزور ہے۔ مالی واخلاقی طورپر بھی اِس ٹیم پر کئی اُنگلیاں اُٹھی ہوئی ہیں۔ خان صاحب کا سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے وہ مردم شناس نہیں، کانوں کے بھی تھوڑے کچے ہیں، لوگوں پر بہت جلد اعتماد کرلیتے ہیں، پھر نقصان اُٹھاتے ہیں۔ البتہ ان کی سادگی، ایمانداری خصوصاً نیک نیتی پر کسی کو شک نہیں۔ کچھ مسائل عمر کے حوالے سے بھی ہیں، وہ پندرہ بیس برس پہلے وزیراعظم بن گئے ہوتے یہ ملک اب تک کسی نہ کسی منفرد مقام پر کھڑے ہوگیا ہوتا، مگر میں اب بھی اس یقین میں مبتلا ہوں ان کی کچھ غلطیاں ان کے جذبوں کی راہ میں زیادہ بڑی رکاوٹ نہیں بنیں گی۔ لوگوں کے دل اپنے اخلاقیات سے وہ نہ بھی جیت سکے کچھ ایسے کارناموں سے ضرور جیت لیں گے جو ستر برسوں میں نہیں ہوئے۔ وزیراعظم کو چاہیے ایک بُری ٹیم کے ساتھ ساتھ ایک اچھی ٹیم بھی ساتھ رکھیں تاکہ غلطیوں اور کوتاہیوں کا ساتھ ساتھ ازالہ ہوتا رہے۔ اس کے علاوہ ایک اور چیز اُنہیں بڑا فائدہ پہنچا سکتی ہے کہ ان سے اگر غلطی ہو جائے اس پر اڑنے اور اکڑنے کے بجائے اس کا اعتراف کر لیا کریں۔ پھر اس سے سبق بھی سیکھ لیا کریں،
ماضی میں کئی مواقعوں پر ایسی فراخ دلی کا مظاہرہ وہ کرتے رہے ہیں، وزیراعظم بننے کے بعد کچھ غلط مشوروں کے نتیجے میں اپنے اس بڑے پن سے کسی صورت میں بھی انہیں محروم نہیں ہونا چاہیے، ورنہ آہستہ آہستہ وہ عدم برداشت کی ایسی کھائی میں گرتے جائیں گے جس کے نتائج اچھے نہیں ہوں گے، ان کا یہ مو¿قف بالکل جائز ہے ان کی کارکردگی جانچنے کے لیے انہیں تین ماہ ملنے چاہئیں، میرے خیال میں تین ماہ بہت کم ہیں۔ کارکردگی جانچنے کے لیے کم ازکم ایک سال کا عرصہ ضرور انہیں ملنا چاہیے، مگر دوسری طرف اپنے کچھ ابتدائی اعمال سے انہیں یہ تاثر نہیں دینا چاہیے کہ یہ شخص ایک سال بعد بھی کچھ نہیں کرے گا ،.... جیسا کہ بظاہر ایک انتہائی کمزور شخص کو وزیراعلیٰ پنجاب بناکر یہ تاثر دیا گیا، اس وزیراعلیٰ کے بارے میں پنجاب میں تعینات ایک پولیس افسر بتارہے تھے ”میں نے وزیراعلیٰ صاحب سے فون پر کہا میں حاضر ہونا چاہتا ہوں، انہوں نے فرمایا ”آپ نے کیوں زحمت کرنی ہے میں خود کسی روز حاضر ہو جاﺅں گا“ ۔.... ہوسکتا ہے مذکورہ بالا پولیس افسر جھوٹ بول رہے ہوں، جان بوجھ کر ان کا تمسخر اڑا رہے ہوں، مگر جیسی ان کی شخصیت ہے سچی بات ہے ہمیں یوں محسوس ہوتا ہے سردار عارف نکئی اور غلام حیدروائیں بھی علم اور بصیرت کے لحاظ سے ان سے ہزار درجے بہتر تھے۔ ان کی خدمت میں گزارش ہے اب ہرافسر یا ایرے غیرے نتھو خیرے سے یہ کہنا چھوڑ دیں ”سر مجھے آپ نے ہی چلانا ہے “.... انہیں اب یقین آجانا چاہیے وہ وزیراعلیٰ پنجاب ہیں، .... دوسری غلطی محترم وزیراعظم سے یہ ہوئی ایک انتہائی مشکوک اور کمزور کردار کے حامل پولیس افسر کلیم امام کو بطور آئی جی پنجاب الیکشن کے بعد بھی کام کرنے کی اجازت دیئے رکھی ۔ اپنی حکومت بننے کے فوراً بعد اس نااہل پولیس افسر کو تبدیل کردیا ہوتا پاکپتن کے واقعے کے حوالے سے ان کی اور پنجاب حکومت کی جو سبکی ہوئی وہ کبھی نہ ہوتی، اس آئی جی نے صرف اور صرف اپنے عہدے پر قائم رہنے کے لیے نہ صرف اپنی فورس بلکہ پوری حکومت کو گندہ کرکے رکھ دیا۔ اس آئی جی کو شکرادا کرنا چاہیے کل سپریم کورٹ نے اس کے کیے کے مطابق اسے سزا نہیں دی، ورنہ جس قدر نااہلی کا مظاہرہ واقعہ پاکپتن کے حوالے سے اس نے کیا اس کے مطابق ہم یہ توقع کررہے تھے سپریم کورٹ یہ حکم جاری کردے گی آئندہ اسے کبھی فیلڈ میں تعینات نہ کیا جائے۔.... میڈیا کے حوالے سے بھی محترم وزیراعظم کو غیرمعمولی فراخ دلی دکھانی پڑے گی، ابھی تو جمعہ جمعہ آٹھ دن ہوئے انہیں اقتدار سنبھالے ہوئے اور میڈیا سے وہ ناراض ناراض اور اُکتائے اُکتائے سے محسوس ہونے لگے ہیں، میں اس حوالے سے کچھ گزارشات ان کی خدمت میں اپنے اگلے کالم میں پیش کروں گا !


ای پیپر