میٹھی جیل(4)

04 ستمبر 2018

شاہزاد انور فاروقی

وفاقی کابینہ کی حلف برداری کیساتھ ہی حکومت سازی مکمل ہو گئی ہے۔ نو منتخب حکومت کی ترجیحات اور حکمت عملی و طریقہ کار کا جائزہ لیے بغیر ذاتی پسند اور نا پسند کی بنیاد پر رائے قائم کرنا اور لکھنا غیر مناسب ہے لہٰذا حکومت کے پہلے 100 دن امریکا یاترا اور وہاں مقیم پاکستانیوں کی زندگی آپ کے سامنے رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ آج چوتھی قسط پیش خدمت ہے۔

                                                            خان سے میری پہلی ملاقات لانگ آئی لینڈ میں اس گھر میں ہوئی جسے گزشتہ روز ہی میں نے شراکت داری میں کرایہ پر حاصل کیا تھا ،خان اس گھر میں پہلے سے موجود تھا۔گزشتہ سہ پہر ہی تو میں نے نیویارک کے جان ایف کینیڈی ائرپورٹ پر لینڈکیا تھا،چار بجے کے لگ بھگ جب میں نے امریکا کی سرزمین پر قدم رکھا تو دھوپ کی شدت کم ہوچکی تھی اور روشنی کم ہوتی جارہی تھی،یہ امریکا کا موسم گرما تھا لیکن ہوا میں خنکی صاف محسوس ہورہی تھی۔یہ امریکا میں میری پہلی شام تھی اور مجھے ابھی تک یہ پتہ نہیں تھا کہ مجھے رات کہاں بسر کرنی ہے،ٹیلی فون پر میں نے اپنے سابق کولیگ اور دوست ناصر قیوم سے کہا تھا کہ میں وہاں کسی کے گھر نہیں ٹھہروں گا بلکہ میرے لئے کسی کرائے کے ٹھکانے کا بندوبست کررکھے تاکہ میں آزادانہ رہ سکوں اور میری وجہ سے نہ تو کسی کو زحمت اٹھانی پڑے اور نہ ہی کوئی زیر بار آئے۔اس انتظام کی وجہ یہ تھی کہ چند دن تک تو آپ مہمان کہیں بھی رہ سکتے ہیں لیکن مہینوں پر محیط مہمانداری یقینا قابل برداشت نہیں ہوتی ،یوں بھی اس دیار غیر میں محنت کی غرض سے مقیم پاکستانیوں کو اجرت گھنٹوں کے حساب سے ملتی ہے تو ان کا ہر منٹ واقعی قیمتی ہوتا ہے تو دوستوں کا دوہرا نقصان نہیں کرنا چاہیے۔رن وے سے ائر پورٹ کی عمارت میں داخل ہونے پر معلوم پڑا کہ ہمیں ڈومیسٹک ٹرمینل کے ذریعے شہر میں داخل ہونا تھا کیونکہ ہمارا امیگریشن ابوظہبی ائر پورٹ پر ہی ہوچکا تھا اور ہماری اور سامان کی جانچ وہیں کی جاچکی تھی۔امیگریشن سے مجھے یاد آیا کہ اس وقت تک امریکیوں سے متعلق میرا سارا علم ہالی ووڈ کی فلموں سے شروع ہوکر سفارتی تقاریب میں محدود ملاقاتوں پر ختم ہوجاتا تھالیکن نجانے کیوں کسی بھی قومیت سے متعلق فرد کی شخصیت کے بارے میں اپنے ابتدائی تاثر سے مجھے ہمیشہ سے درست اندازے لگانے کی خطرناک عادت ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ذاتی حیثیت میں ،اس سفر سے پانچ سال قبل جب میں نے پہلی مرتبہ امریکی سفارتخانے میں ویزا انٹرویو کے لئے علی الصبح قدم رکھا تھاتو انتظارگاہ میں بیٹھے بیٹھے میں نے یہ رائے قائم کرلی تھی کہ مختلف انٹرویو والی کھڑکیوں میں بیٹھے ہوئے ویزا افسران ہال میںموجود ویزے کے خواہشمندوں سے کیا سلوک کریںگے۔ کس کھڑکی میں بیٹھی خاتون سڑیل ہے اور کون تمیز سے بات تو کرے گا لیکن ویزہ کسی کو نہیں دے گا اور کون ہے جو نہ بات ڈھنگ سے کرے گا اور نہ ویزا دے گا ،صرف تین کھڑکیوں سے متعلق میری رائے ہی یہ تھی کہ اگر میرا ٹوکن نمبر ان کے پاس آیا تو ویزا مل جائے گا اور اسے قسمت کی یاوری کہیے کہ مجھے ان تینوں میں سے ہی ایک پر بلا لیا گیا اور پندرہ،بیس منٹ کے انٹرویوکے بعد میرا پا سپورٹ جمع کرلیا گیا،انتظارگاہ میں میرے ساتھ والی نشست پر موجود سیالکوٹ کے ایک بزنس مین نے تو باقاعدہ مجھے مبارک دی کہ اس صبح وہاں گزارے ڈیڑھ دو گھنٹوں میں وہ پہلا پاسپورٹ تھا جو جمع ہونے کی سعادت حاصل کرپایا تھا۔ ابوظہبی ائرپورٹ کے امریکن امیگریشن کاونٹر کی لائن میں کھڑے ہوکر مختلف کھڑکیوں پر بیٹھے مختلف رنگ ونسل اور صنف سے تعلق رکھنے والے امیگریشن افسران کو دیکھ کر ایک مرتبہ پھر رائے قائم کرنے کے شغف میں مصروف تھا چونکہ اس قدر طویل قطار میں اس کے علاوہ کرنے کو اور کچھ تھابھی نہیں۔قطار سست روی سے آگے بڑھ رہی تھی رات کا آخری پہر تھا اور مختلف رنگ ونسل کے لوگ اس قطار میں موجود تھے جہاں میرے پاکستانی بھائی اس مرحلے سے قبل ایک اضافی فارم بھرنے اور اضافی انتظار کے باعث بڑبڑا رہے تھے ۔ خدا خدا کرکے اس قطار میں سب سے پہلی جگہ ملی کہ اب کسی بھی وقت کسی بھی کھڑکی کی پیشانی پر میرا ٹوکن نمبر روشن ہوسکتا تھا۔میں نے گہرا سانس لے کر آخری مرتبہ تمام کھڑکیوں کا جائزہ لینا شروع کیا ، میں دیکھ ہی رہا تھا کہ کھڑکیوں کے برابر میں موجود دروازہ ایک بزر کی آواز کے ساتھ کھلا اورایک باوردی اہلکار باہر نکل کر سیدھا میری طرف بڑھا،مجھ پر نظریں جمائے وہ بڑھتا چلا آیا اور اس کے ہر قدم کے ساتھ میرے دل کی دھڑکن بھی بڑھتی جارہی تھی۔ (جاری ہے)

مزیدخبریں