فوج کو بچاؤ
04 اکتوبر 2020 (13:41) 2020-10-04

صورت حال تشویشناک ہوتی جا رہی ہے…… قومی معاملات خطرناک حدود کو چھو رہے ہیں …… ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا…… جنرل ایوب کے خلاف عوامی سیاسی تحریک بپا ہوئی…… نشانہ خودساختہ فیلڈ مارشل تھا…… قوم کو پہلے مارشل کی نذر کرنے والا آئین پاکستان کو بوٹوں تلے روند دینے والا غاصب تھا…… اس نے بزور طاقت مرضی کا صدارتی نظام والا آئین دیا اہل پاکستان نے اسے حقارت کے ساتھ مسترد کر دیا…… اس کے خلاف تحریک کا ہدف ڈکٹیٹر کی ذات اور اس کی جابرانہ و غیرجمہوری حکومت تھی…… فوج بحیثیت ادارہ ہرگز نہ تھی…… عوام ملک کی سرحدوں کی حفاظت اور وطن کی سلامتی پر ہر آن مر مٹنے والے اس ادارے کو متاع عزیز سمجھتے تھے…… اس کی قربانیوں کی دل سے قدر کرتے تھے…… پاکستانی فوج جیسی عظیم اور ناگزیر مضبوط و مربوط تنظیم کی حیثیت عام آدمی کی نگاہوں میں اور قومی نقطہ نظر سے غیر متنازع تھی…… ایوب خاں پر جتنے بھی الزامات لگائے گئے…… اس کی فرد واحد والی آمرانہ حکومت کو جس جس انداز سے ناجائز ٹھہرایا گیا اس سارے عمل میں اور پوری تحریک کے دوران عساکر پاکستان کی حرمت پر حرف نہ آیا…… کسی ایک کی زبان سے خواہ بڑا لیڈر تھا خواہ ملک کا عام باشندہ فوج کو ملٹری ڈکٹیٹر کے قومی جرائم کا ذمہ دار نہیں قرار دیا گیا…… جنرل یحییٰ کے خلاف عوامی نفرت اس کے غاصبانہ اقتدار کے اڑھائی برس کے اندر عروج کو پہنچی تو اس کا سبب مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور وطن کی سلامتی کے لئے مرمٹنے والی فوج کو بھارتی سورماؤں کے ہاتھوں رسوا کرانا تھا…… پاکستان کے لوگ بھارت کی قید میں چلے جانے والے اپنے سپوتوں کے ساتھ تہہ دل کے ساتھ ہمدردی رکھتے تھے…… جنرل ضیاء الحق نے منتخب وزیراعظم کو پھانسی دی…… نوّے دن کے اندر انتخابات کرانے کے وعدے سے روگردانی کی…… اس کے خلاف ملک کے اندر جہاں جہاں نفرت پائی جاتی تھی…… ایم آر ڈی کی تحریک اٹھی…… فوج کو سارے تنازع میں فریق نہیں بنایا گیا…… مخالفت جس جس نے کی ہدف جنرل ضیاء الحق کی ذات تھی…… اس کی آمرانہ حکومت تھی…… ادارے کو بیچ میں نہیں لایا جاتا تھا…… اس کے خلاف کھلے عام تبصرے نہیں کئے جاتے تھے…… عدلیہ کی تحریک نے جنرل مشرف کی آمریت کے درودیوار ہلا کر رکھ دیئے…… لوگ اس سے نجات حاصل کرنے کے لئے دعائیں مانگتے تھے…… اس دوران میں جدہ اور اس کے بعد لندن میں جلاوطن نوازشریف کی مقبولیت میں اضافہ ہوا…… بے نظیر نے اپنے باپ ذوالفقار علی بھٹو کی سیاسی میراث کی امین بن کر لیڈرشپ قائم رکھی…… فوج مگر کسی کا ہدف تھی نہ ہونی چاہئے تھی…… اس کے جوانوں کے ایثار، قربانی اور ارض وطن کے ایک ایک چپے کی حفاظت کے بے پناہ جذبے کے تذکرے زبان زدعام تھے…… ہر کوئی طالع آزما کو برا کہتا تھا…… مسلح دفاعی قومی قوت کے تقدس پر حرف نہیں آنے دیا جاتا تھا…… لیکن آج جبکہ کوئی آمر بظاہر ہمارے سروں پر مسلط نہیں ہے…… کسی قسم کا مارشل لا یا فوجی حکمرانی نہیں …… ایک سویلین جو اپنے آپ کو منتخب کہتا ہے وزیراعظم کے فرائض سرانجام دے رہا ہے…… پارلیمنٹ وجود رکھتی ہے…… مگر فوج مسلسل تنقید کا نشانہ بنے چلی جا رہی ہے…… آخر کیوں؟

نوازشریف کہتا ہے اس کی جنگ عمران خان سے نہیں اسے لانے والوں سے ہے…… یہ کون ہیں …… وضاحت کی ضرورت نہیں …… ملک کے ہر گلی محلے میں بچے بچے کی زبان پر اس ادارے کا نام آ جاتا ہے جس کے وجود پر قوم فخر کرتی تھی…… اس کی آنکھ کا تارا تھا…… اس کی حیثیت غیرمتنازع تھی…… اس کی ضرورت و اہمیت کا احساس و ادراک ہر کسی کو تھا…… آج بھی ہے اور ہمیشہ رہنا چاہئے…… کیونکہ یہ ہماری سرحدوں کی محافظ قوت ہے…… جو بھارت جیسے کمینے دشمن کے جارحانہ عزائم کا ڈٹ کر مقابلہ کرنے کے لئے ہر لمحہ تیار اور مستعد رہتی ہے…… اس کے بہادر اور بے پناہ جذبہ حب الوطنی سے سرشار جوان اور افسر کسی قسم کی قربانی سے دریغ 

نہیں کرتے اسے کیوں متنازع بنا دیا گیا ہے…… صرف نوازشریف پر اکتفا نہیں …… اگرچہ آبادی کے لحاظ سے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کا مقبول لیڈر ہے…… تین بار منتخب وزیراعظم رہ چکا ہے…… دریائے چناب سے لے کر اٹک تک فوجی گھرانے اس کے ووٹر ہیں …… فوج ہر پاکستانی کی مانند اس کے لئے بھی قیمتی اثاثے کا درجہ رکھتی ہے…… مولانا فضل الرحمن بھی جو زبردست مذہبی سیاسی طاقت کے مالک ہیں …… دینی مدارس کی اکثریت کے اساتذہ اور طلبہ کے خیالات پر براہ راست اثر رکھتے ہیں …… ملک بھر میں ان مدارس کا جال پھیلا ہوا ہے…… ایک لمحے کے اندر لاکھوں کا مجمع اکٹھا کر لینا ان کے لئے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے…… صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اندر خصوصی سیاسی رسوخ اور پذیرائی کے مالک ہیں …… انہوں نے اپنی تمام تر سیاسی زندگی کے دوران فوج کے خلاف کبھی زبان نہیں کھولی…… وہ بھی عمران خان کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے عسکری قیادت کو اپنے مدمقابل ٹھہراتے ہیں …… انہیں محض ایک فرقے یا مذہبی مکتب فکر کا نمائندہ نہ سمجھئے…… برصغیر کے علماء کی سامراج کے خلاف ڈیڑھ صدی سے زیادہ عرصے پر محیط تحریک آزادی کا تسلسل ہیں …… کل اپوزیشن کے نئے اتحاد پی ڈی ایم نے اس مؤثر (ARTICULATE)  مذہبی جمع سیاسی مقرر کو اپنا سربراہ مقرر کیا ہے…… مولانا شاہ احمد نورانی مرحوم کی جمعیت علمائے پاکستان  بھی ان کے قدم کے ساتھ قدم ملا کر چلتی ہے اور ہمنوائی میں پیچھے نہیں رہتی…… پاکستان پیپلز پارٹی جیسی بڑی قومی سیاسی جماعت جس کی اندرون صوبہ سندھ جڑیں اتنی مضبوط ہیں کہ ہزار کوشش کے باوجود انہیں اکھاڑا نہیں جا سکا…… اسی واسطے ہر انتخاب کے بعد سندھ میں اپنی حکومت قائم کر لیتی ہے…… پنجاب کے شہروں میں اب بھی اپنا مقام رکھتی ہے…… صوبہ خیبر پختونخوا اور بلوچستان کے اندر قابل ذکر سیاسی رسوخ کی مالک ہے…… پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں اسے بھرپور نمائندگی حاصل ہے…… یہ جماعت بھی نوازشریف اور مولانا فضل الرحمن کے خیالات کے ساتھ ہم آہنگی اختیار کرتے ہوئے ان کے ساتھ آن کھڑی ہوئی ہے…… 20 ستمبر کو ہونے والی ’اے پی سی‘ کے اعلامیے پر جو نوازشریف کے اسٹیبلشمنٹ کو للکارنے والی اس روز کی زبردست تقریر اور خیالات کا پَرتو تھا…… اس کے لفظ لفظ کی تائید کرتے ہوئے یہ اہم جماعت بھی پی ڈی ایم نامی تازہ اتحاد کا اہم جزو بن گئی ہے اور عمران خان کو سلیکٹڈ وزیراعظم کہتے ہوئے اسے مسلط کرنے والی قوت کے خلاف صف آرا ہو گئی ہے…… دوسرے الفاظ میں ایک جاندار اور زبردست عوامی طاقت رکھنے والا قومی اتحاد وجود میں آ گیا ہے…… جو ملک بھر میں عوامی جلسے اور جلوسوں کا انعقاد کر کے عمران حکومت کے خاتمے کے ساتھ اس کی پشت پناہی کرنے والی قوت کے ساتھ پنجہ آزمائی کرنا چاہتا ہے…… بدقسمتی سے یہ قوت ہماری فوج ہے جس کے متاع عزیز اور قوم کی آنکھوں کا تارا  ہونے میں کوئی شک نہیں اور جس کے بغیر سرحدوں کا دفاع ممکن نہیں ……

ایسے قیمتی ادارے کا کردار متنازع بن جانا سخت تشویشناک امر ہے…… اس کا مؤثر تدارک فوری اور اہم نوعیت کا قومی تقاضا ہے…… ورنہ ہم اندر سے کمزور ہو کر رہ جائیں گے…… سبب کیا ہے…… یہ امر چنداں وضاحت کا محتاج نہیں …… بار بار کے مارشل لاؤں اور پے در پے فوجی حکومتوں نے ہمارے عظیم ادارے کو اس مقام پر لاکھڑا کیا ہے…… آئین مملکت کی حیثیت کاغذ کے پرزے سے زیادہ نہیں اور پارلیمنٹ سے ربڑ سٹیمپ کا کام لیا جارہا ہے…… عمران خان اور ان کی تحریک انصاف کی سول یا نام نہاد منتخب حکومت پس پردہ بیٹھی اصل حکمرانی کرنے والی طاقت کے فرنٹ کی سی ہے…… اسی سبب کے واسطے فوج تنقید کی زد میں آتی ہے جو زندہ اور کامیاب قوموں کا شیوہ نہیں مگر ہم غیرآئینی قوتوں کی بار بار کی مداخلت کی وجہ سے اس مقام پر آن کھڑے ہوئے ہیں …… اس وقت ملک جس محاذ آرائی کی زد میں ہے اس کے اندر سول حکومت سمیت تمام مقتدر قوتوں کی توجہات اس پر مرکوز ہیں کہ نوازشریف کو کیسے واپس لا کر دوبارہ حوالہ زنداں کیا جائے…… بقیہ تمام کاموں اور قومی فرائض کی حیثیت ثانوی بلکہ اس سے بھی کمتر ہو کر رہ گئی ہے…… نوازشریف کو اس کی مرضی کے بغیر واپس لانا سخت مشکل ہو گا…… فرض کیجئے اس لے آیا جاتا ہے…… فوراً جیل میں پھینک دیا جاتا ہے تو کیا تحریک کی حدت میں کمی آ جائے گی پرلے درجے کا احمق اور بے خبر آدمی اس کا جواب ہاں میں دے گا…… آپ سے سات سمندر پار بیٹھا نوازشریف تو قابو میں نہیں آ رہا…… وہ اصل حکمران قوت کا براہ راست مقابلہ کرنے کے لئے تیار کھڑا ہے…… پاکستانی جیل میں آ کر زیادہ بڑی طاقت بن جائے گا…… سنبھالنا مشکل تر ہو جائے گا…… عوامی جمہوری تحریکوں میں ایسا ہوتا ہے…… مگر سارے کھیل میں فوج کی حرمت کو کیوں پامال ہونے دیا جائے…… اس کا تحفظ ہم سب پر لازمی ہے…… اس کا واحد طریقہ یہ ہے عمران حکومت قائم رہے یا نہ رہے لیکن یہ ادارہ ہر قسم کی طاقت اپنی آئینی حدود کی سختی کے ساتھ پابندی کرے…… وہ جن کا کام ملکی سرحدوں کی حفاظت کرنا ہے وہ حکمرانی کا کیڑا دماغوں سے نکال دیں …… فوج کو غیرمتنازع بنایا جائے…… اسے کسی طور سیاست میں ملوث نہ کیا جائے…… اس کا اور اس کی قیادت کا فریضہ آئین مملکت کی طے کردہ حدود کی سختی کے ساتھ پابندی کرتے ہوئے اپنے آپ کو سیاست سے دور رکھنا ہے…… کسی قسم کی مداخلت سے مکمل پرہیز کرنا اور منتخب سیاستدانوں کو آزادی سے اپنے فرائض خود انجام دینے کی سہولت اور تعاون مہیا کرنا ہے ناکہ ایک مقدس اور قوم کے ٹیکسوں سے پلنے والے ادارے کو لے کر خفیہ یا ظاہری طور پر سیاسی اکھاڑے کا خلیفہ بن کر بیٹھ جانا ہے…… فوج کو سیاست سے بچاؤ…… اس کی متنازع حیثیت کو سختی سے برقرار رکھو…… اس کی قیادت کی توجہات سرحدوں کی حفاظت پر مرکوز رکھو اسے صحیح معنوں میں آئین اور جمہوریت کا پابند بناؤ…… ورنہ پاکستان کا مستقبل تاریک ہے……


ای پیپر