اعمالِ بد کی پاداش
04 اکتوبر 2020 (13:36) 2020-10-04

کورونا کی دوسری لہر نے بالخصوص یورپ میں ہوش گم کردیے ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک میں اب تک 10 لاکھ اموات اور 3 کروڑ دو لاکھ کیسز ہوچکے ہیں۔ عالمی ادارہئ صحت کے ایمرجنسی ڈائریکٹر نے کورونا کے باعث ایک ہفتے میں ہونے والی 50 ہزار اموات کو ’ناقابل قبول حد‘ قرار دیا ہے۔ ہر ہفتے 8 لاکھ افراد متاثر ہورہے ہیں۔ آپ کے لیے یہ ناقابل قبول حد ہے مگر کورونا کب آپ کو بٹھا کر پوچھ رہا ہے، قبول ہے؟ قبول ہے؟ اصبروا اولاتصبروا…… اب صبر کرو یا نہ کرو یکساں ہے۔ آپ کون سا پوچھ کر چل رہے تھے خالقِ کورونا سے! کورونا کی ایک لہر نے 188 ممالک کو اپنی گرفت میں لیا۔ چین، امریکا، بھارت، یورپ زیادہ نشانے پر رہے۔ وعدہئ الست، اللہ کی براہ راست پہچان کا انسان کے رگ و ریشے، DNA میں موجود ہونا سبھی آسمانی صحائف میں مذکور ہے۔ انسان نے 16 ویں صدی سے اللہ سے بغاوت کا جو سفر شروع کیا تھا وہ فتنہئ دجال کی ماری اس صدی میں بدترین گراوٹ کو چھو رہا ہے۔ کورونا نے پوری ہائی ٹیک دنیا کو ہلا مارا۔ گلا دباکر گویا پوچھا، بات سمجھوگے یا نہیں! تاہم 6 مہینے کورونا سے ڈسی دنیا منقار زیر پر رہی۔ شر اور بدی کے منابع بند رہے۔ جونہی کچھ افاقہ ہوا واپس انہی کرتوتوں پر لوٹ آئے۔ پوری دنیا آپ کی ہتھیلی پر موجود ہے دیکھ لیجیے۔ اونٹ سے زیادہ نادان، سارے تھپیڑے کھاکر نہیں جانتے مالک نے باندھا کیوں اور کھولا کیوں۔ فرانس اور سویڈن بحال ہوتے ہی قرآن جلانے اور گستاخیئ رسول پر کمربستہ اٹھ کھڑے ہوئے۔ فرانس میں جن خاکوں کی اشاعت پر 2015ء میں چارلی ایبڈو میگزین کے دفتر پر حملہ ہوا، 17 افراد مارے گئے تھے، اب دوبارہ 2 ستمبر کو مسلمانوں کے حوصلے آزمانے کو درجن توہین آمیز خاکے چھاپ دیے گئے۔ خود لکھتے ہیں: ’مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق ایسے خاکے توہین اسلام کے زمرے میں آتے ہیں۔‘ اس کے باوجود ڈٹ کر 1.7 ارب مسلمانوں کے دینی جذبات پر کیچڑ اچھالنے سے باز نہیں آتے۔ تاہم یہ عجب اتفاق ہے کہ اگلے ہی دن کورونا فرانس پر چڑھ دوڑا۔ گزشتہ مارچ کے بعد پہلی مرتبہ ازسرنو ایک دن میں 9 ہزار کیسز رپورٹ ہوئے۔ جولائی میں 10 اموات روزانہ تھیں جو 10 ستمبر تک 30 روزانہ ہوگئیں۔ صدر میکرون نے رسالے کی اس حرکت کی مذمت کرنے سے انکار کیا کہ فرانس میں آزادیئ اظہار ہے، میگزین کے اس فیصلے پر تبصرہ کرنا میرا کام نہیں۔ سو آزادیئ اظہار کا گلا دبوچنے کو کورونا آن موجود ہوا۔ ان کا کہنا مسلمانوں سے یہ ہے کہ اگر فرانسیسی شہریت چاہیے تو تمہیں اس آزادیئ اظہار کو قبول کرنا ہوگا۔ ہم تو بدتہذیبی کی ساری حدیں توڑتے ہی رہیں گے! ایسے واقعات کا  تسلسل یورپی ممالک، بالخصوص فرانس کی تہذیبی ابتری کا آئینہ دار ہے۔

قبل ازیں فروری میں ایک 16 سالہ لڑکی مِیلا نے مسلمانوں کے جذبات پر تلخ تنقیدی، گالیوں بھری بوچھاڑ والی ویڈیو کے ذریعے مذہبی منافرت پھیلائی۔ مسلمانوں نے اسے توہین آمیز اور اشتعال انگیز قرار دیتے ہوئے شدید احتجاج کیا۔ تاہم مِیلا نے مزید ہٹ دھرمی دکھاتے ہوئے ٹیلی وژن پر ’توہین انگیزی‘ کو اپنا حق قرار دیا۔ صدر میکرون نے بھی اس کا مکمل دفاع کیا کہ ’یہ کوئی جرم نہیں ہے‘۔ انہی ممالک سے ہمیں رواداری، ڈائیلاگ، برداشت کے بھاشن دیے جاتے ہیں۔ انہیں میلی آنکھ سے دیکھنا جرم، دہشت گردی اور مذہبی منافرت قرار پاتا ہے۔ وہ ہماری مقدس ترین ہستیوں پر دشنام طرازی کریں تو وہ آزادیئ اظہار ہے۔ سو اگر اس کا ازخود نوٹس آسمانی ذرائع سے آتا ہے تو کچھ عجب نہیں۔ یعنی شامتِ اعمالِ شما صورتِ کورونا گرفت……! 

اس اشتعال انگیز جرم کے پس پردہ ان کا فلسفہ یہ ہے کہ اسلام ایک متشدد مذہب ہے جو انسانی حقوق کا دشمن ہے۔ دہشت گردی پھیلاتا ہے۔ کس درجے ڈھٹائی کے ساتھ یہ اپنی خوں ریزیوں کی طویل تاریخ پر خط تنسیخ پھیر کر اپنی اور ہماری نسلوں کی گمراہی کے 

لیے جھوٹ کے طومار باندھتے ہیں۔ پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں 11 تا 12 کروڑ انسانوں کے خون سے ہولی کھیلنے والے۔ صلیبی جنگوں میں بیت المقدس میں مسلمانوں کا خون گھوڑوں کے گھٹنوں تک تاریخ کے اوراق میں ثبت ہے۔ استعماریت/ نوآبادیاتی دور میں جو کچھ مسلم دنیا پر بیتی، اسے چھپانا ممکن نہیں۔ گزشتہ 2 دہائیوں میں جو اسلحہ برسایا، اخلاقی گراوٹوں کی جن پستیوں میں گرے، اس سے صرف نظر کیسے کیا جاسکتا ہے۔ ہیروشیما، ناگاساکی کی ہولناکی مزید ہے۔ اسی درندگی کا تسلسل 10 ہزار کلوگرام کا بم (MOAB۔ جو مخفف ہے’تمام بموں کی ماں‘  کا) ہے۔ یہ افغانستان میں ننگر ہار کے خوبصورت علاقے ماموند میں گرایا گیا۔ یہ دنیا سے امن کے عالمی نوبل انعام حاصل کرنے والے صدر اوباما کے ملک اور نیٹو کے کارہائے نمایاں ہیں۔ 11 ٹن بارود اگلنے والا، 150 میٹر قطر کا حامل یہ سب سے بڑا غیرنیوکلیائی بم دنیا کے نہتے ترین، مفلس ترین، باضابطہ بری ہوائی بحری فوج سے محروم ملک پر آزمایا گیا۔ سیٹلائٹ تصاویر قصبوں کا صفحہئ ہستی سے مٹ جانا دکھاتی ہیں۔ زرخیز سرسبز علاقے کی مکمل تباہی، چشمے، اراضی تباہ، سرطان جلدی آنکھوں کی بیماریوں میں خوفناک اضافہ، بچے ناقص پیدائش، جسمانی اعضاء سے محروم، چہرے مسخ، وزن کی کمی کا شکار۔ یہ شاندار اعلیٰ تہذیب یافتہ اقوام کے کارناموں کی ایک ہلکی سی جھلک ہے جس کے لیے ہمارے لبرل سیکولر رطب اللسان رہتے، گن گاتے نہیں تھکتے! کس کی آنکھوں میں دھول جھونکتے ہو؟ آج سارے حقائق ہاتھ پر دھرے موبائل اور دو انگلیوں کی دسترس میں ہیں! مسلمان خود جان بوجھ کر ضمیر کا گلا گھونٹے اندھے بنے بیٹھے ہیں۔ ان کے لیے بھی عالمی غنڈوں کے مقابل اہل ایمان دہشت گرد ہیں!

ہمارے لبرل سیکولر بھی فرانسیسی آزادیئ اظہار کے طالب ہیں۔ 295-C ان سبھی کے گلے کی پھانس ہے۔ یہ بولنے نہیں دیتا۔ اس قانون کی وجہ سے ان پر خوف طاری رہتا ہے، کیونکہ یہ بے لگام زبانوں پر لگا تالا ہے! یہ جب لکھتے بولتے ہیں تو یکایک ممتاز قادری اور پشاور عدالت (میں گستاخ کا قتل) کا واقعہ یاد آتا ہے تو گھگھی بندھ جاتی ہے۔ دو جملے بولتے اور پھر صفائی پیش کرتے ہیں کہ ہم ’اسلام کے اصولوں کا احترام کرتے ہیں‘! اسرائیل تسلیم کرنے کے حق میں کالم لکھتے ہیں اور پھر ساتھ ہی یہ کہ اب ’مجھے اسرائیلی جاسوس قرار دے دیا جائے گا‘۔ غصیلی مایوسی کا اظہار ہوتا ہے! انہیں یہ باور کرنا ہوگا کہ 20 سالہ ٹیلی وژنی اور دیگر ابلاغی محنتوں کے باوجود اہل پاکستان کی رگوں میں اتری نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیھم کی محبت وعقیدت کا یہ بال بیکا نہ کرسکے۔ کوئی غلط فہمی باقی تھی تو وہ بلااستثناء سبھی نے لاکھوں کی شان صحابہؓ والی پے درپے ریلیوں میں پوری کردی ہے۔ یہ ہر مسلمان کا آخری سہارا ہے جو ہماری ساری گنہ گاریوں کے باوجود ہم نے دانتوں سے پکڑ رکھا ہے۔ حزب الشیطان اپنے سارے حربے آزما لے، ان قوانین کا بدلنا باذن اللہ ممکن نہیں!

پاکستان کی نسل نو کا ایمان سلب کرنے کا سارا اہتمام نصابوں کے ذریعے اعلیٰ تعلیم کے نام پر نجی تعلیمی اداروں میں ہورہا ہے۔ اسی کی ایک جھلک جب پنجاب ٹیکسٹ بک بورڈ کے ایم ڈی رائے منظور ناصر نے پریس کانفرنس میں دکھائی تو فوراً سے پیشتر برطرف کردیے گئے۔ پاکستان مخالف، گستاخانہ اور اخلاق سوز مواد کی نشاندہی نجی اداروں کی 100 کتب میں کی گئی۔ (لڑکیوں کے ہاسٹل کے حوالے سے شرمناک مواد شامل تھا۔) ان کتب میں آکسفورڈ، کیمبرج کی کتب بھی تھیں سو ایم ڈی کو چلتا کیا۔ والدین آنکھیں موندے صرف جیبیں کٹوا رہے ہیں تعلیم کے نام پر!

پاکستان کی گورننس، قانون کی حکمرانی کا حال تو صرف ایک جرم کا ایکسرے دیکھ کر سامنے آ جاتا ہے۔ بلاشرکت غیرے ایم کیو ایم نے پرویزمشرف کی پشت پناہی میں جو عروس البلاد اجاڑا، اس کی نظیر سانحہ بلدیہ فیکٹری ہے۔ 25 کروڑ بھتا مانگا گیا۔ نہ ملنے پر جلاکر 260 مزدوروں سمیت فیکٹری بھسم کردی۔ اب 8 سال بعد 2 مجرموں کو 264 برس قید اور 264 بار سزائے موت سنائی گئی ہے اس جرم میں۔ آخرت کا ناگزیر ہونا کتنا واضح ہے! ایسی کتنی ہی مظلوموں پر ڈھائی قیامتوں کے بدلے چکانے کا دن! بڑوں کو قیادت فرمانے کے لیے چھوڑ دیا جاتا ہے، چھوٹے پکڑواکر حساب آج برابر ہوجاتا ہے۔ کل ایسا نہ ہوگا۔ وقتی گرفت کو، کورونا آن پہنچا ہے ہر جا! دنیا پر صدیوں حکمرانی کرنے والے مسلمان آج گراوٹ کی کس حد پر ہیں! کفر کی غلامی اور جی حضوری پر مامور!

یہ اعمالِ بد کی ہے پاداش ورنہ

کہیں شیر بھی جوتے جاتے ہیں ہل پر


ای پیپر