سردار عثمان بزدار کا نیا پنجاب
04 اکتوبر 2020 (13:14) 2020-10-04

پرامید رہنا ہمارے ایمان کا حصہ ہے اور اپنے کام کو اہمیت دینا کامیاب لوگوں کی نشانی ہے۔ جو اپنے حوصلوں کو بلند رکھے کام کے دوران کسی اورجانب دھیان نہ دے ایسے شخص کا مددگار خود اللہ ہوتا ہے۔ایسی پازٹیو باتیں جب حکمران کے منہ سے سنتے ہیں تو خدا کا شکر ادا کرتے ہیں کہ پنجاب حکومت کی باگ ڈور وزیر اعلی پنجاب سردارعثمان بزدار کے ہاتھ میں ہے۔ جو نیک نیتی اور جذبہ ایمانی سے پنجاب کے عوام کی بے لوث خدمت کررہے ہیں۔ ایسا شخص جس نے دو سالہ دور اقتدار میں کوئی فیکٹری،شوگر ملز اور بنک بیلنس نہیں بنایا۔اس کی مثال ہمیں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ سے ملتی ہے۔ جنہوں نے خلافت کے عہدے پر فائز ہوکر اپنی کپڑے کی دکان بند کردی تھی۔ کیونکہ اقتدار میں رہتے ہوئے اپنا کاروبار چمکانا آسان ہوتا ہے۔ ماضی میں پنجاب کو کھوکھلا کرنے والے شوباز شریف  نے1999میں ڈیڑھ کروڑ روپے کی ملکیت کے اثاثے ظاہر کیئے تھے۔جبکہ انہوں نے اپنے اقتدار کے 10سالوں میں ان کے اثاثے 7ارب سے زیادہ ہوگئے۔اقتدار میں رہ کر دولت کمانا کرپشن ہے۔جب پاکستان کا بچہ بچہ اس کرپشن کو کرپشن نہیں کہے گا۔تو ہم ترقی کے راستے پر گامزن نہیں ہوسکتے ہیں۔

عثمان بزدار کا عزم ہے کہ پنجاب کی ترقی میری ترقی ہے خدمت کی اس طرز حکمرانی پر انہوں نے پنجاب کی تاریخ میں سب سے بڑی روزگار اسکیم شروع کی۔ جس میں ایک لاکھ سے ایک کروڑ روپے تک کے قرضے کم شرح سود پر دیئے جارہے ہیں۔مرد اور خواتین کے ساتھ خواجہ سراؤں کو بھی قرضے دیئے جارہے ہیں۔30ارب روپے خطیر گرانٹ سے 16لاکھ لوگوں کو روزگار دیا جائے گا۔ یہ 

قرضے آسان شرائط پر دیئے جارہے ہیں۔قرضے چھوٹے اور درمیانے درجے کی صنعتوں کے مالکان میں کاروبار کو بڑھانے میں مدد دیں گے۔بدقسمت سے کورونا وائرس کے دوران معاشی مشکلات کا شکار تاجروں اور کاروباری حضرات کے لیئے بہت بڑی خوشخبری ہے۔قرضوں کے لیئے بنک آف پنجاب کی ویب سائٹ کے ذریعے آن لائن درخواست فارم جمع کرائے جاسکتے ہیں۔ سردار عثمان   بزدار سمجھتے ہیں کہ سب سے بڑا سرمایہ ہنر ہے او ر وہ ہنر کو سرمایہ کاری میں بدلنے کا عزم رکھتے ہیں۔ اس کے برعکس ماضی میں 250ارب روپے اورنج لائن ٹرین پرلگائے گئے۔ اگرمنصوبے پر برباد کیئے گئے اربوں روپے ہنرمندوں کو ملتے تو پاکستان مضبوط ہوتا۔میں سمجھتی ہوں کہ قرضوں کی فراہمی حکومت کا فلیگ شپ پراجیکٹ ہے۔ اس روزگار اسکیم سے 20سے 50سال تک کی عمر کی خواتین اور مردفائدہ اٹھاسکتے ہیں۔سب سے اچھی چیز یہ ہے کہ ٹیکسٹائل کے 26سب سیکٹر او ر 23مختلف شعبوں کے 339سب سیکٹرز کے لیئے کاروبار کے چھوٹے قرضے دینا ہے۔وزیر اعلی پنجاب کا مشن ہے کہ نوجوانوں  کو نوکریاں تلاش کرنے کی بجائے دوسروں کو ملازمت دینے کے قابل بنانا ہے۔کیونکہ نوجوانوں کو بااختیار بناکر معشیت مضبوط کی جاسکتی ہے۔ او رموجودہ پنجاب حکومت اسی مشن پر گامزن ہے۔

اسی طرح وزیر اعلی پنجاب سردار عثمان بزدار کا پنجاب کو انڈسٹریل اسٹیٹ بنانا ان کا مشن ہے۔ پنجاب میں 19اکنامک زونز کے قیام کی منظور ی کاعمل مکمل ہوگیا ہے۔ جس سے 17لاکھ سے زائد افرادکو روزگار کے مواقع میسر آئیں گے۔اکنامک زونز میں 807ارب سے زائد کی سرمایہ کاری ہوگی۔ میرے اس کالم سے اندازہ لگالیں 17لاکھ روزگار کے مواقع اکنامک زونز سے او ر 16لاکھ پنجاب روزگار اسکیم کے ذریعے پیدا ہورہے ہیں۔مجموعی طور پر 33لاکھ لوگوں کو روزگار کے مواقع میسر ہوں گے۔ اس سے پہلے موجودہ پنجاب حکومت 50ہزار لوگوں کو سرکاری ملازمتیں دے چکی ہے۔جیسے جیسے 5سال کا دورانیہ پورا ہوگا۔ایک کروڑ کی بجائے دو کروڑ لوگ برسرروزگار ہو جائیں گے۔ پنجاب حکومت کا سب سے موثر اقدام پنجاب ڈرگ ترمیمی بل 2020ہے۔ جس میں رنگ گورا کرنے والی غیر معیاری کریمیں اور کاسمیٹکس کو بند کیا گیا ہے۔

منرل واٹرکی بجائے گڑھے کا پانی منگواکر پینے والے سردار عثمان بزدار نے پنجاب احساس پروگرام کے تحت سوا 53ارب سے نئی زندگی اور ہیومن کیپٹل انوسٹمنٹ پراجیکٹ سے پنجاب کے 11پسماندہ اضلاع سے تعلق رکھنے والی نادار خواتین کے بچوں کے پیدائش کے دو سال بعد تک 16ہزار روپے ملیں گے۔75ہزار سے زائد نوجوان اپنی روزی کمانے کے قابل ہوں گے۔یہ ریاست مدینہ کے خواب کی عملی تعبیر ہے۔احساس ہی انسانیت ہے۔ اور انسانیت ہمیں  ریاست مدینہ کی طرز پر فلاحی ریاست کے قیام کا احساس دلاتی ہے۔ نادار لوگوں کو قیام و طعام کی سہولتیں فراہم کرنا ریاست کی ذمہ داری ہے۔ سردار عثمان لاہور میں مزید لنگر خانے کھولنے جارہے ہیں۔اس سے پہلے لاہور میں 7لنگر خانوں سے 48ہزار افراد کو کھانا فراہم کیا جارہا ہے۔ وزیراعلی پنجاب سردار عثمان بزدار نادار و بے آسرا اورغریب لوگوں کا خیال کرکے بہت بڑی نیکی کمارہے ہیں۔ان کا یہ غریب پرور عمل صوبہ کے بچہ بچہ کی زبان پر ہے۔ ویل ڈن عثمان بزدار


ای پیپر