پاکستان میں جنسی جرائم کیخلاف قانون سازی
04 اکتوبر 2020 (13:05) 2020-10-04

وزیر اعظم پاکستان عمران خان نے کہا ہے کہ سیالکوٹ موٹر وے زیادتی کیس نے دہلا دیا ہے۔ہم مستقبل میں خواتین اور بچوں کے خلاف ایسے واقعات کی روک تھام کیلئے سنجیدہ نوعیت کی قانون سازی پر غور کر رہے ہیں۔ جنسی جرائم ناصرف مظلوم بلکہ اس کے اہل خانہ کی زندگیاں بھی برباد کر رہے ہیں۔ جرائم کی شدت اور اثرات مختلف ہوتے ہیں لیکن مسائل کی بڑی حد تک وجہ خواتین اور بچوں کی جسمانی اور جذباتی کمزوری اور نظام عدل میں ناامیدی ہے۔ انصاف کے حصول میں طویل مدت تک کا تھکا دینے کا عمل مخصوص مجرمانہ ذہنیت رکھنے والے افراد کے لیے سہولت کاری کا کردار ادا کرتا ہے۔ موجودہ دور میں ایک خوشگوار تبدیلی ہر قسم کی ناانصافیوں کی طرف فوری طور پر عوامی اور سرکاری توجہ ہے۔ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب کسی وزیر اعظم نے کسی ایسے گھناؤنے جرم کے بارے میں بیان جاری کیا ہو جس سے قوم نے امیدیں باندھی ہوں اور اس نے یک زبان ہو کر جذبات کا ایسا اظہار کیا ہو۔یہ پہلا موقع نہیں ہے، لیکن یہ واقعتاً زندگی برباد کرنے والے جرم کے بارے میں پاکستان کا سب سے پُرجوش اجتماعی ردِعمل ہے اور متاثرین کے خوف زدہ دلوں کو اس سے ایک سکون، جب کہ عوام کی روح کو اطمینان فراہم کر رہا ہے۔ ناقابل تصور تکلیف دہ جرم کے بعد وزیر اعظم کی طرف سے ردعمل کا فوری اظہار مثبت تھا۔ لاہور کے علاقے گوجر پورہ میں لاہور سیالکوٹ موٹر وے پر پھنسی ہوئی ایک خاتون کے ساتھ ہونے والی بہیمانہ اجتماعی عصمت دری کے بعد  حکومت کی طرف سے کی گئی کارروائی دکھائی دیتی ہے۔ ایک ملزم پولیس کی تحویل میں ہے اور دوسرے کی گرفتاری کے لئے وسیع پیمانے پر کوششیں 

پوری طرح سے جاری ہیں۔ واقعہ یہ بھی ہوا ہے کہ وزیر اعظم پاکستان ٹیلی ویژن سے خطاب کرتے ہوئے قوم کو یہ کہہ رہے ہیں کہ حکومت موٹر وے گینگ ریپ کا شکار خاتون کے ساتھ کھڑی ہے بلکہ حکومت عصمت دری کے ہر شکار کے ساتھ کھڑی ہے۔ حکومت ان سزاؤں کے لئے ایک قانونی ڈھانچہ وضع کررہی ہے جو بچوں اور خواتین کے خلاف آئندہ ہونے والے جرائم کی روک تھام کا کام کرے گا۔ وزیر اعظم کا اعلان بچوں اور خواتین کے خلاف لاتعداد جنسی جرائم کے باوجودان سے انصاف کا ایک نیا وعدہ ہے۔ سزائے موت اور عوامی مقامات پر پھانسی ایسی سنگین سزاؤں سے متعلق میری دوٹوک مخالفت کے باوجود آج مجھے امید ہے کہ وزیر اعظم خان کا ہمدرد اور فوری ردعمل پاکستان کے کمزور اور ناقص نظام انصاف کے اندھیرے میں کمزوروں اور مظلوموں کے لئے روشنی کی ایک کرن ہے۔ وزیر اطلاعات پنجاب فیاض الحسن چوہان نے نو عمر نوجوان کو ہراساں کرنے کا نوٹس لیتے ہوئے مشتبہ شخص اور اس کے والد کی گرفتاری اور ان کے خلاف قانونی کارروائی کا عمل شروع کیا ہے تو اس کا مطلب پاکستان کی ہر عورت کو پیغام ہے کہ ”آپ تنہا نہیں ہیں“۔ گرفتاری سے قبل ضمانت کی عدم دستیابی کی یقین دہانی کے ساتھ نئی ایف آئی آر درج کرانا، پنجاب حکومت اور پنجاب پولیس لاکھوں خواتین کو پنجاب اور دیگر مقامات پر یقین دلا رہی ہے کہ اگر وہ ہراساں کرنے اور دھمکیوں کے خلاف آواز اٹھائیں گی تواس پر کارروائی کی جائے گی۔ یہ ایک ہمدردانہ پیغام ہے کہ والدین کو اپنی کمزور بیٹیوں کو ہراساں کرنے کے معاملات میں کبھی شرم محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ان کی طرف سے آگے آنا تمام والدین اور ہراساں ہونے والی خواتین،یہاں تک کہ مردوں کے لواحقین کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا جب دھمکی دیئے جانے پر خاموشی اختیار کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہوتا۔ ان مثبت اقدامات کی وجہ سے اب لاکھوں پاکستانیوں کو معلوم ہے کہ مین سٹریم اور سوشل میڈیا پر جو بھی خبریں آرہی ہیں، وہ کسی متعلقہ اتھارٹی، سرکاری اہلکار، پارلیمنٹ کے رکن، وزیر، وزیرا عظم یا وزیر اعلیٰ کی توجہ حاصل کریں گی۔ ہمدرد پاکستانیوں کی ٹویٹس کے ذریعے پوشیدہ لوگوں کی آوازیں مطلوبہ افراد تک پہنچ رہی ہیں۔ ٹویٹر، انسٹاگرام، فیس بک، یوٹیوب، پرنٹ میڈیا، ٹیلی ویژن پر بولنے اور ان کی آواز کو آگے بڑھانے والوں کی کاشوں سے پاکستان ایک بہتر ملک بننے جا رہا ہے۔ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے لیکن تقریباً ہر گھر میں ایک ٹی وی ضرورموجود ہے۔ لوگ جانتے ہیں کہ اکیسویں صدی میں، ان کے پاس اپنی آواز متعلقہ حکام تک پہنچانے کے لئے بہت سارے طریقے موجود ہیں۔ پنجاب اور پاکستان کے دوسرے صوبوں کے ہر گاؤں، چھوٹے بڑے شہر میں، غریب پس منظر کے بچوں کو سخت سلوک اور جسمانی سزاؤں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اب ان کے اساتذہ، ان کے والدین اور ان کے رشتے دار جان چکے ہیں کہ سوشل میڈیا کہلانے والی ایک چیز ہے اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے ان کی آواز وزیر اعظم تک بھی پہنچ جائے گی۔ ٹویٹر سے لاعلم ہونے کے باوجود، ان میں سے بہت سے لوگوں کو فیس بک نامی کسی چیز کے وجود کے بارے میں معلوم ہے۔ بس انہیں صرف ایک فرد کی ضرورت ہے کہ وہ ویڈیو بنائے اور اسے فیس بک پر پوسٹ کرے، کسی مشہور شخص کو ٹیگ کرے۔ تمام ویڈیوز مطلوبہ لوگوں تک نہیں پہنچ پاتیں لیکن بہت ساری منزل پا جاتی ہیں۔ بچے، خواتین اور مظلوم پاکستانیوں کا تحفظ اس وقت ہوگا جب انہیں معلوم ہوجائے گا کہ ان کے درد کی چیخیں بے نوا نہیں جائیں گی۔ یہ میرا پاکستان ہے…… برداشت، ہمدردی، انصاف سے بھرپور…… بے آواز انسان کے لئے…… ایک انسان کے لئے…… ہر انسان کے لئے……

(بشکریہ: گلف نیوز)


ای پیپر