سندھ میں اندرونی دبائو کی کہانی
04 اکتوبر 2019 2019-10-04

پیپلزپارٹی پر سیاسی مقدمات کے حوالے سے دبائو یقینا بڑھ گیا ہے۔ کراچی سے متعلق وفا ق کی پالیسی اور ایم کیو ایم کے مظہر کو زندہ کرنے نے نئی صورتحال پیدا کردی ہے۔ اس ضمن میں اسلام آباد کے علاوہ سندھ کے اندر بھی بعض واقعات رونما ہوئے ہیں۔جن کا اثر پیپلزپارٹی اور سندھ حکومت پر پڑنا ناگزیر لگتا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے رابطے اور سرگرمیاں تیز کردی ہیں۔ گزشتہ روزانہوں نے امریکی کانگریس کے نمائندوں اور امریکی انٹیلیجنس سے متعلق کمیٹی کے وفد سے ملاقات کی ۔ امریکی وفد کو بتایا کہ افغان مہاجرین سمیت سندھ میں غیر قانونی مقیم غیر ملکی سندھ کے وسائل پر بوجھ ہیں۔ امریکہ افغان پناہ گزینوں کی واپسی میں اہم کردار ادا کرے۔ سندھ میں کالعدم تنظیموں کی 65 املاک ضبط کر لی گئی ہیں ۔ دہشتگردی میں استعمال ہونے والے فنڈ کے 47 مقدمات دائر کئے گئے۔ دوسری طرف ایک مرتبہ پھر آئی جی سندھ پولیس اور وزیراعلیٰ کے اختلافات سامنے آگئے ہیں۔ اس مرتبہ دس کرور روپے کی مالیت کے تیل کا معاملہ ہے جو متعلقہ پولیس تھانوں تک نہیں پہنچ سکا۔ حیدرآباد اور دادو کے پولیس تھانوں کو تیل نہ ملنے کی شکایت پر انکشاف ہوا کہ دس کروڑ روپے کا تیل فروخت کیا گیا، وزیراعلیٰ نے اس پر برہمی کا اظہار کیا۔ ایک مقدمے کی سماعت کے دوران سندھ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس احمد علی شیخ کے ریمارکس سامنے آئے ہیں، جس میں چیف جسٹس نے سوال کیا کہ اٹھارویں ترمیم کے بعد صوبہ سندھ کو بارہ سو ارب روپے ملے، یہ رقم کہاں گئی، کوئی ترقیاتی کام ہوا؟

وفاق کے ماتحت کراچی کی اردو یونیورسٹی میں سندھی کا شعبہ بند کرنے کے فیصلے کے خلاف سندھ بھر میں غم و غصے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ سندھ کے تعلیمی اداروں میں بے چینی موجود ہے۔ جہاں اب سندھ میں نوجوان طلباء یونین بحال کرنے کی تحریک چلا رہے ہیں۔

سندھ میں پیپلزپارٹی نیب کے ریڈار پر ہے۔دو درجن سے زائد پارٹی کے ایم پی ایز یا سابق ایم پی ایز، ان کے قریبی رشتہ دار، دوست، افسران، اور ٹھیکیدارتفتیش ہیں۔ان میں وہ لوگ شامل ہیں جو پارٹی کے حامی اور تحریک چلانے کی صورت میں پارٹی کی سیاسی اور مالی مدد کر سکتے ہیں۔

سندھ میں گزشتہ سال نیب کے دائر کئے ہوئے 257 مقدمات چھ عدالتوں میں زیر سماعت ہیں۔ ان میں سے 178 ریفرنسز کراچی میں ، 42 حیدرآباد میں ، اور 37 سکھر کی احتساب عدالتوں میں ہیں۔ جبکہ سال 2019 میں نیب نے 24 نئے ریفرنس دائر کئے ہیں۔ زیر تفتیش کیسز اس کے علاوہ ہیں۔

نیب نے وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کو تحقیقات کے لیے پھر طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ خیال ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کی طلبی کا نوٹس چند دن میں جاری کیا جائے گا۔وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ دو بار پہلے بھی طلبی کے باوجود نیب میں پیش نہیں ہوئے تھے، مسلسل طلبی اور سوالنامے کے جواب جمع نہ کرائے جانے پر مراد علی شاہ کی گرفتاری کے امکانات ہیں۔حیدآباد کے دو ایم پی ایز اور سابق وزراء شرجیل میمن اور جام خان شورو کے خلاف تحقیقات آگے کے مراحل میں ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق منظور وسان، سہیل انور سیال، ان کے بھائی طارق انور سیال، ایم پی اے سردار خان چانڈیو، برہان چانڈیو، ایم پی اے نصراللہ بلوچ، سابق صوبائی وزیر اعجاز جکھرانی، نواب وسان، بعض دیگر ضمانت قبل از گرفتاری کرا چکے ہیں۔ اعجاز جکھرانی کے خلاف تحقیقات دو ماہ میں مکمل کرنے کی ہدایت کی ہے۔شکارپور سے سابق ایم پی اے بابل خان بھیو پر ٹی ایم سے خانپور کے فنڈز میں خرد برد کا الزام ہے۔ بعض سابق ٹی ایم او بھی زیرحراست ہیں۔ اسپیکر آغا سراج درانی گرفتار ہیں، ٹی ایم اے گڑھی یاسین کی بے ضابطگیوں اور کرپشن سے متعلق تیس مقدمات نیب کے پاس ہیں جس میں سابق افسران، منتخب نمائندے، ٹھیکیدار شامل ہیں۔ پیپلزپارٹی سندھ کے صدر نثار کھوڑو ، صوبائی وزیر آبپاشی سہیل انور سیال ، کے خلاف نیب میں تحقیقات مختلف مراحل میں ہے۔ لاڑکانہ سے تعلق رکھنے والے مشہور بلڈر گہنو خان جتوئی، اور ان کے بعض رشتہ دار اور ساتھی نیب سکھر کے پاس ہیں، ان پر میونسپل اور محکمہ جنگلات کی زمین پر قبضے کا الزام ہے۔

قمبر شہدادکوٹ سے تعلق رکھنے والے دو ایم پی ایز بھائیوں سردار خان چانڈیو اور برہان خان چانڈیو کے خلاف تحقیقات چل رہی ہے۔کشمور سے پیپلز پارٹی کے ایم پی اے عبدالرئوف کھوسو، ان کے دوبھائی، مسلسل احتساب عدالت میںحاضر نہ ہونے پرسابق ایم این اے سلیم جان مزاری کے دو مرتبہ وارنٹ جاری ہو چکے ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ گرفتاری سے بچنے کے لئے بیرون ملک مقیم ہیں۔ عبدالرئوف کھوسو سمیت دیگر کشمور ضلع کے افراد ضمانت پر ہیں۔ جیکب آباد سے تعلق رکھنے والے سابق وزیراور موجود مشیر اعجاز جکھرانی کے خلاف آمدن سے زائداثاثے بنانے کے تحت تحقیقات چل رہی ہے۔ ان کے قریبی رشتہ دار اور جیکب آباد میونسپل کے چیئرمین عباس جکھرانی نیب کے ہاتھوں گرفتار ہو چکے ہیں۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے میڈم فریال تالپور کو بم پروف گاڑی گفٹ کرنے کے لئے رقم جعلی اکائونٹس میں ڈالی۔ اسسٹنٹ تحصیلدار بھی اس مقدمے میں گرفتار ہے۔ پارٹی کے اہم رہنماسید خورشید شاہ آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں گرفتار ہو چکے ہیں۔ خورشیدشاہ سے تعلق رکھنے والے کارخانیدار لدھو مل، صنعتکار پہلاج ، صالح پٹ ٹائون کمیٹی کے چیئرمین عنایت شاہ، سندھ اسمبلی میں ڈپٹی ڈائریکٹر اعجاز ، ٹھیکیدار اکرم پٹھان، نواب پٹھان، شبیر عرف پپو مہر، زبردست مہر، قاسم علی شاہ، فتح الدین، گل شیخ، و دیگران شامل ہیں۔ خورشید شاہ کے دو بیٹے فرخ شاہ اور زیرخ شاہ کو بھی نیب کی تحقیقات کا سامنا ہے۔ چیئرمین نیب نے صوبائی وزیر اویس شاہ کے خلاف تحقیقات کی منظوری دے دی ہے۔ سابق ایم پی اے نصراللہ بلوچ اور تحریک انصاف سندھ کے نائب صدر دیدار جتوئی کے خلاف احتساب عدالت میں ریفرنس دائر ہیں۔ سابق وزیر اور پیپلز پارٹی کے سنیئر رہنما منظور وسان اور نواب وسان کے خلاف آمدن سے زیادہ اثاثے بنانے کے الزام میں نیب کے پاس تحقیقات ہے۔

اگر پیپلزپارٹی مولانا فضل الرحمان کے ساتھ تحریک چلانے کا فیصلہ کرتی ہے تو ان مقدمات کا عدالتوں مین لے جانا اور مزید گرفتاریوں کو خارج ازامکان قرار نہیں دیا جاسکتا۔ سندھ اسمبلی کے معاملات کو قریب سے دیکھنے والوں کا کہنا ہے کہ وزیراعلیٰ سندھ کو تبدیل کرنے کے لئے بھی اس کارڈ کو استعمال کیا جاسکتا ہے۔ •


ای پیپر