گاہے گاہے باز خواں۔۔۔۔ !
04 اکتوبر 2019 2019-10-04

وزیرِ اعظم جناب عمران خان نے 25 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کیا تو اُن کی فی البدیہہ اور خوبصورت تقریر کی وسیع پیمانے پر تعریف و توصیف ہی نہیںہوئی بلکہ یہ سلسلہ ہنوز کسی نہ کسی صورت میں جاری ہے۔اس دوران ماضی کے مختلف ادوار میں پاکستان کے اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی کئی عالمی فورمز بالخصوص اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطابات اور تقاریر کے حوالے بھی سامنے آ رہے ہیں۔ دسمبر 1971 میں جب پاک بھارت جنگ جاری تھی اور مشرقی پاکستان میں بھارتی فوجیں اپنا قبضہ اور تسلط جمانے میں کامیاب ہونے والی تھیں تو پیپلزپارٹی کے بانی چئیرمین اور سابق وزیرِ اعظم جناب ذوالفقار علی بھٹوکے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے پاکستان کے وزیرِ خارجہ کے طور پر خطاب کا حوالہ اور تذکرہ بھی سامنے آیا ہے۔ اس پر میڈیا سے تعلق رکھنے والی بعض معتبر اور مستند شخصیات اور محترم کالم نگاروں کے جناب ذوالفقار علی بھٹو کے مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سانحہ میں کردار پر تبصرے اور تحریریں بھی سامنے آئی ہیں۔ ایک ایسی تحریر جس کا ذکر آگے چل کر کیا جاتا ہے کا حوالہ دے کر میری انتہائی قابلِ احترام سابقہ رفیقہِ کار محترمہ ڈاکٹر ساجدہ رشید جو اس وقت کوٹلی یونیورسٹی آزاد کشمیر میں اسسٹنٹ پروفیسر کے فرائض سرانجام دے رہی ہیں اور بلند ویژن اور خوبصورت سوچ کی مالک ایک سکالر ہیں نے مجھ سے بھی استفسار کیا کہ آپ دسمبر 1971 کی پاک بھارت جنگ اور اس سے بھی قبل کی پاکستان کی تاریخ کے اہم واقعات کے عینی شاہد اور بقول محترمہ ڈاکٹر ساجدہ رشید ایک معتبر راوی ہیں تو براہِ کرم جناب ذوالفقار علی بھٹو مرحوم کی مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے سانحہ میں کردار کے بارے میں کچھ وضاحت کر دیں۔ میں نے مختصراً جو کچھ Post کیا اُس کو نقل کرنے سے قبل اس تحریر کا حوالہ دینا چاہتا ہوں جس کو سامنے رکھ کر انہوں نے میری رائے مانگی۔ یہ تحریر Paindu کے تحت جناب جہانزیب منہاس صاحب نے Tag کر رکھی ہے ۔ وہ لکھتے ہیں ’’بھٹو 11 دسمبر 1971 کو نیو یارک پہنچ گئے تو 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں شرکت کیلئے گئے ۔۔۔۔۔ وہ چار دن تک اپنے ہوٹل کے لگژری کمرے میں آرام کرتے رہے جبکہ بنگال میں ہماری فوج کے پاس ہر گزرتے دن کے ساتھ اسلحہ اور رسد ختم ہوتی جا رہی تھی۔۔۔۔۔ ایسے موقع پر بھٹو کا ہوٹل میں قیام کرنا مناسب تھا؟ بھٹو 15 دسمبر کو سلامتی کونسل کے اجلاس میں گئے جہاں ساری دنیانے سوویت اور پولش (سوویت یونین اور پولینڈ) کی طرف سے پیش کردہ قرارداد کی متفقہ منظوری دے دی جس کے بعد پاکستان کی رضامندی ضروری تھی (آگے قرارداد کے متن کا ذکرہے) ۔۔۔۔۔ بھٹو نے اپنا خطاب شروع کیا تو کہا میں اپنے ملک میں کسی کا قبضہ برداشت نہیں کرونگا۔ میں اقتدار کسی کو نہیں دونگا۔۔۔۔۔۔ مجیب الرحمن محبِ وطن نہیں غدار ہے ۔۔۔۔۔ ہم لڑیں گے اور ہر حالت میں لڑیں گے ۔۔۔۔۔ میں سلامتی کونسل کی کسی قرارداد کو نہیں مانتا۔ وہاں پڑی پولش اور سوویت کی قرارد کو پھاڑا اپنی جیب میں ڈالا، ہوٹل پہنچا، واپس پاکستان کے سفر میں نکلا۔ ابھی راستے میں ہی تھا کہ 16 دسمبر کو پاکستانی فوج کو سرنڈر کرنا پڑا اور یوں ہم عالمی فورم پر جیتی ہوئی جنگ ایک اقتدار کے بھوکے ۔۔۔۔۔ شخص کی وجہ سے ہار گئے ‘‘۔

جہانزیب صاحب نے بھٹو کے بارے میں آخر میں مزید سخت الفاظ استعمال کر رکھے ہیں۔ میں اُن کا یہاں حوالہ نہیں دینا چاہتا۔ تاہم محترمہ ڈاکٹر ساجدہ رشید نے اسی تحریر یا بلاک کے بارے میں مجھ سے رائے مانگی تھی تو میں نے انہیں یوں تحریری جواب دیا۔ ’’بلا شبہ ایسے ہی ہوا ۔ 60 کی دہائی کے آخری برسوں اور 70 کی دہائی کے اوائل کے واقعات میرے ذہن میں ایسے ہی تازہ ہیں جیسے کل کی بات ہو۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ شیخ مجیب الرحمن بھارت کا آلہ کار بن کر مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے لیے کام کر رہا تھا۔ فروری 1966 میں اُس نے چھ نکات پیش کیے، وہ مشرقی پاکستان کی علیحدگی اور بنگلہ دیش کے قیام کا منصوبہ تھا۔ البتہ اگر دسمبر 1970 کے عام انتخابات کے نتائج کو تسلیم کر لیا جاتا اور اقتدار اکثریتی جماعت شیخ مجیب الرحمن کی عوامی لیگ کے حوالے کر دیا جاتا تو مشرقی پاکستان کی علیحدگی کا عمل اتنی جلدی مکمل نہ ہو پاتا۔ ذوالفقار علی بھٹو جسے صدر اور چیف مارشل ایڈمنسٹریٹر جنرل آغا یحییٰ خان کی اشیر باد حاصل تھی نے اِدھر ہم اور اُدھر تم کے نعرے لگائے اور ساتھ ہی یہ دھمکیاں بھی دیں کہ جو کوئی قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ڈھاکہ جائے گا اُس کی ٹانگیں توڑ دیں گے۔ اس کے ساتھ صدر یحییٰ خان نے یکم مارچ 1971 کو ڈھاکہ میں بلایا گیا قومی اسمبلی کا اجلاس بھی ملتوی کر دیا۔ اس طرح شیخ مجیب الرحمن کی جماعت عوامی لیگ اور اس کی ذیلی مسلح تنظیم مکتی باہنی کو خون ریز مظاہرے اور ہنگامے شروع کرنے کا جواز مل گیا۔ دوسرے لفظوں میں عوامی لیگ نے مشرقی پاکستان میں بغاوت اور خانہ جنگی کی فضا پیدا کر دی ۔ غیر بنگالیوں کی نسل کشی ، پاکستانی پرچم کو جلانے اور مکتی باہنی کے ہاتھوں پاکستانی فوجیوں کے قتلِ عام کے واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے تو 24 مارچ 1971 کو مشرقی پاکستان میں فوجی آپریشن کا فیصلہ ہوا۔ شیخ مجیب الرحمن گرفتار ہوا اور عوامی لیگ کے دوسرے لیڈر کلکتہ بھاگ گئے ۔ وہاں اُنہوں نے بنگلہ دیش کی جلا وطن حکومت قائم کرلی اور مکتی باہنی کے غنڈے اور دوسرے بنگالی پاکستانی فوج کے خلاف گوریلہ کاروائیوں اور لڑنے کی ٹریننگ لینے لگے۔ بھارت کو پاکستان کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے کا بڑا اچھا موقع مل گیا اور اُس نے عالمی رائے عامہ کو اس بات کا قائل کرنا شروع کر دیا کہ پاکستانی افواج مشرقی پاکستان میں بنگالیوں کے قتلِ عام میں مصروف ہیں۔ اس طرح ساری دنیا بالخصوص مغربی ممالک میں پاکستان کے خلاف فضا ہموار ہوئی ۔ اس دوران مشرقی پاکستان میں خانہ جنگی نے زور پکڑا تو بھارت کی وزیرِاعظم اندرا گاندھی نے مشرقی پاکستان میں بھارتی افواج داخل کر دیں اس طرح پاکستان اور بھارت کے درمیان دسمبر 1971 کی جنگ شروع ہو گئی۔ بنگالیوں کی بغاوت کی وجہ سے مشرقی پاکستان میں پاکستانی فوج کے لیے حالات شروع سے ہی مشکل دکھائی دے رہے تھے ۔ اس کے ساتھ جب بھارت مغربی پاکستان پر بھی بڑا حملہ کر کے اس کے فتح کرنے کا منصوبہ بنائے ہوئے تھا اور اس کے لیے اُسے روس جیسی عالمی طاقت کی حمایت بھی حاصل تھی تو پھر جنگ بندی ہی ہمارے لیے بہتر آپشن تھا۔ افسوس سے کہنا پڑتا ہے جناب ذوالفقار علی بھٹو نے سلامتی کونسل میں پولینڈ کی پیش کی ہوئی جنگ بندی کی قرارداد پھاڑ کر یہ راہ بھی مسدود کر دی ہاں البتہ آنجناب نے باقی ماندہ پاکستان میں اپنے اقتدار کی راہ ضرور ہموار کر لی‘‘۔

میری اس پوسٹ کے جواب میں محترمہ ڈاکٹر ساجدہ رشید نے ہی نہیں بلکہ اور کئی عزیزانِ گرامی ، شاگردانِ رشید اور محترم خواتین و حضرات نے مجھے توصیفی کلمات بھیجے ہیں اور اس رائے کا اظہار کیا ہے کہ آپ نے پاکستان کے ایک انتہائی نازک اور مشکل وقت کے حالات کو بہت مختصر اور جامع الفاظ میںپیش کیا ہے۔ یہ ایسے تاریخی حقائق ہیں جن کو رد نہیں کیا جاسکتا ۔ میرا سر اپنے ربِ کریم کے حضور سپاسِ تشکر کے طور پر جھکا ہوا ہے کہ کچھ مہربان ایسے ہیں جو میری رائے کو اہمیت دیتے ہیں ورنہ میں اور میری حیثیت کیا۔ خیر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی ، سلامتی کونسل ہو یا او آئی سی (اسلامی ممالک کی تنظیم ) کی سربراہی کانفرنسیں ہوں اُن میں پاکستان کے حکمرانوں اور اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کی بعض خاص مواقع پر کی جانے والی تقاریرکے حوالے میرے ذہن نہاں خانے میں محفوظ ہیں انشاء اللہ آئندہ کسی کالم میں ان کا تذکرہ کریں گے ۔


ای پیپر