تعلقات کا نیا منظر نامہ
04 اکتوبر 2019 2019-10-04

پاکستان کے وزیر اعظم امریکہ سے ورلڈ کپ کیا جیت کے آئے مشکلات قطار اندر قطار اور جوق در جوق آرہی ہیں ۔ ہمارے وزیر اعظم کو امریکہ کے دورے سے جو پذیرائی ملی وہ اتنی زبردست تھی کہ ہمارے وزیروں نے تو جیسے آسمان سر پے اٹھا لیا ہو۔ دنیا کی سب سے بڑی طاقت جوگلوبل کمیونٹی میں ایک منفرد پوزیشن پر ہے اور اس کی طاقت اور گرفت کوئی راز نہیں ہے۔ ہماری اشرافیہ کو اس بات کا اندازہ ہے کہ کبھی ہمیں تھپکی ملتی آئی ہے اور کبھی دھمکی ۔یہ سلسلہ کافی پرانا ہے ۔ کپتان کو دوستی کا ہاتھ ملا۔امریکہ میں دونوں بار جب صدر ٹرمپ نے کشمیر پر ثالثی کا بوجھ اپنے کندھے پر اٹھایا تو کشمیر میں کیا ہوا آج بھی وہاں کرفیو ہے ۔ کپتان کے کندھوں پر جو بوجھ ہے وہ ایران اور سعودیہ کے درمیان مفاہمت پیدا کرنا ہے ۔ مگر پاکستانی ہمیشہ یہ محسوس کرتے ہیں کہ امریکا نے ہمیں استعمال کیا اور پھر ہماری قربانیوں کو فراموش کردیا۔ پاکستان ہر چار برس کے بعد امریکا میں ہونے والے انتخابات کی جانب دیکھتے ہیں کہ کوئی پاکستان کے لیے خیر کی خبر آئے۔ موجودہ منظر نامے میں کپتان نے 27 ستمبرکو جو تقریر کی تھی اس کا نوٹس لیا گیا ہے خاص طور پر یہ بات انڈین میڈیا کو نہیں بھولتی ۔ جنگیں تو قومیں تباہ کر دیتی ہیں یورپ نے دو جنگیں لڑیں لاکھوں نہیںکروڑوں لوگوں کی جانیں اس میں گئیں ۔ اب بھی دنیا خطرے کی زد میں ہے۔ کشمیر میں 370 کیا ختم ہوئی۔ دنیا تیسری جنگ کے دھانے پر جا رہی ہیں چین اور امریکہ کی اقتصادی جنگ خطرے کی طرف بڑھ رہی ہے۔کپتان کو جو کام سونپا گیا پہلے بھی یہ کافی درد کہانی کا تسلسل ہے جب امریکا نے پہلے عراقی صدر صدام حسین کو اکسایا کہ وہ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی تنازع پر کویت پر چڑھائی کردیں اور پھر اس نے عراقی جارحیت سے کویت کو آزاد کرانے کے لئے میدان میں چھلانگ لگا دی۔ عراق اور کویت کے درمیان کرائی گئی جنگ نے غریب کویتیوں اور دیگر قومیتوں کے لوگوں کو بے گھر کر دیا۔ ہم نے تو کرنل قذافی اور حسنی مبارک کے دور کا المناک اختتام دیکھا۔ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کے حوالے سے سی آئی اے کی جانب سے فراہم کی گئی من گھڑت اور جھوٹی خفیہ معلومات کی بنیاد پر امریکا نے ایک مرتبہ پھر عراق کو فوجی چڑھائی کے ذریعے صدام حسن کے ظلم سے ’’آزاد‘‘ کرالیا تو پھر کیا ہوا۔ مصر کو امریکہ کی آشیر باد سے ایک جرنیل حاکم بن گیا ۔ پاکستان میں نواز شریف سے جی بھر گیا تو ان کی جگہ پرویز مشرف نے لے لی۔ امریکیوں نے جنرل پرویز مشرف کے ساتھ سمجھوتہ کرلیا اور جنرل پرویز مشرف نے اس طرح کی رعایتوں کے بعد میں پیدا ہونے والے اثرات کا اندازہ کیے بغیر امریکا کو آگے بڑھنے کا اشارہ دے دیا تاریخ کافی کرب ناک ہے زخم تو گہرے ہیں ۔ وزیر اعظم عمران خان نے تقریباً ایک گھنٹے کی اپنی تقریر میں کہا کہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے ۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کو نسل کے ممبران کو بتایا’’ اگر یہ جنگ ہوئی تو پاکستان آخری حد تک جائے گا۔ انھوں نے یہ بھی کہا ’یہ دھمکی نہیں بلکہ وارننگ ہے۔ اخبار ٹائمز آف انڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں انڈین فوج کے سربراہ کا کہنا تھا کہ سرجیکل سٹرائک کے ذریعے انھوں نے اپنا پیغام پاکستان تک واضح طور پر پہنچا دیا تھا۔ مگر وہ پاکستان کا جواب بھی بتا دیتے تو بہتر ہوتا۔ یہ بیان پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کی جانب سے اقوامِ متحدہ میں کی گئی تقریر کے چند ہی دن بعد سامنے آیا ہے جس میں انھوں نے کہا تھا کہ کشمیر کی صورتحال دو ممالک کے درمیان ایٹمی جنگ شروع کروا سکتی ہے۔ دوسری جانب فکرمندی بھی سامنے آئی ہے ۔

امریکی ریاست نیو جرسی میں قائم رٹگیرز یونیورسٹی کے محققین نے پاک بھارت کشیدہ صورتحال کے تناظر میں ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا ہے جس میں 2025ء کا منظر نامہ پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان ایٹمی جنگ کے نتیجے میں 100 کروڑ افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔رپورٹ میں 2025ء کے سال میں تباہ کن جنگ کا آغاز بھارتی پارلیمنٹ پر حملے سے ہوتا ہے جس میں کئی بھارتی رہنما ہلاک ہوگئے۔ جواباً نئی دہلی نے آزاد کشمیر پر حملے کیلئے کئی ٹینک روانہ کرنے کا حکم دیا۔اس صورتحال سے پریشان پاکستان نے حملہ آور فورسز پر ایٹمی ہتھیار استعمال کر دیے جس سے تاریخ کے خطرناک ترین تنازع کا آغاز ہوا اور اس کے عالمی منظر نامے پر شدید اثرات مرتب ہوئے۔رپورٹ کے مطابق، اس منظرنامے کی ماڈلنگ سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسی نوعیت کے نتائج سوکروڑ افراد کی ہلاکت کی صورت میں سامنے آئیں گے جس کے بعد عالمی سطح پر خوراک کا بحران اور قحط کا آغاز ہوگا، ایٹمی حملے کے نتیجے میں پیدا ہونے والے لاکھوں ٹن کالے دھویں کے نتیجے میں سورج کی روشنی کا زمین تک پہنچنے کا راستہ تقریباً ایک دہائی کیلئے بند ہو جائے گا۔ یہ تو افسانہ اور کہانی نہیں ہے اگر ایسا ہوا تو نتائج اس سے بھیانک بھی ہو سکتے ہیں ۔ عمران کی تقریر کو بھارت میں سنجیدہ لیا گیا ہے ۔عمران خان نے اپنی تقریر میں کہا کہ وہ اس دیس کے رہنے والے ہیں جس نے پوری دنیا کو امن کا پیغام دیا ہے۔پاکستان کے وزیر اعظم نے مزید کہا ’کشمیر'(انڈیا کے زیر انتظام کشمیر) میں اسی لاکھ افراد کرفیو میں ہیں اور جب یہ کرفیو اٹھے گا تو وہاں خون کی ندیاں بہیں گی۔ انھوں نے سوال کیا کہ کیا کسی نے سوچا ہے جب خون کی ندیاں بہتی ہیں تو کیا ہوتا ہے۔عمران خان کا کہنا تھا کہ 13 ہزار نوجوانوں کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر لے جایا گیا ہے اور کسی نے کبھی ان نوجوانوں کے نقطہ نظر سے سوچا ہے کہ وہ اس وقت کس کیفیت سے گزر رہے ہوں گے جب انھیں مختلف طرح کی خبریں مل رہی ہوں گی۔انھوں نے متنبہ کیا کہ ان میں سے کچھ انتہا پسندی کی طرف جائیں گے اور اس کے نتیجے میں ایک اور ’پلوامہ‘ ہو گا، اس کا الزام پاکستان پر لگے گا، ’اسلامی دہشت گردی‘ کی اصطلاح استعمال ہو گی جسے سن کر دنیا چپ ہو جاتی ہے۔

انھوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کی اپنی رپورٹوں کے مطابق کشمیر میں ایک لاکھ سے زیادہ لوگ مارے جا چکے ہیں اور ہزاروں عورتوں سے زیادتی کی گئی ہے ۔پاکستان کے وزیر اعظم نے کہا کہ کیا کسی نے سوچا ہے کہ انڈیا کے 18 کروڑ مسلمان اس وقت کیا سوچ رہے ہیں، دنیا بھر کے مسلمان کیا سوچ رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ لوگ سوچنے پر مجبور ہو جائیں گے کہ کیا وہ کسی ’کم تر‘ خدا کے بچے ہیں، لوگوں کا دل دکھے گا اور پھر کوئی بندوق اٹھا لے گا۔عمران خان نے اپنی تقریر کے اختتام پر کہا کہ پہلا اور فوری ایکشن تو یہی ہونا چاہیے کہ انڈیا کشمیر میں کرفیو ختم کرے۔ بھارتی سپریم کورٹ نے بھی مودی سرکا ر کو اپنے فیصلے سے جھٹکا لگایا ہے۔ اس صورت حال میں پاکستان سمیت دنیا بھر کی اکانومی شدید دباو کا شکار ہے پاکستان میں تو کاروبار کے حالات کافی گھمبیر ہیں ۔ مگر بھارت کو کشمیر پر جابرانہ قبضہ سے جن حالات کا سامنا ہے وہاں پاکستان میں بھی سیاسی بحران شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔ بے روز گاری بڑھتی جارہی ہے۔ غربت افلاس بھی پورے جوبن پر ہے ۔


ای پیپر