35 روپے ۔اب نہیں!
04 اکتوبر 2019 2019-10-04

زمانہ بہت ظالم ہے۔۔وقت کی بے وفائی کسی سے پوشیدہ نہیں ۔۔جو اس کے ساتھ نہ چلے یہ اُسے روند کر آ گے بڑھ جاتا ہے

پاکستان میں 1964 میں جب ٹیلی ویژن آ یا تو یہ کسی عجوبے سے کم نہیں تھا

ایک ہی چینل تھا جس نے سالہا سال حکومت کی۔۔۔

اس نے جو دکھایا ناظرین نے خوشی سے دیکھا اورجو اس کی سکرین پہ آ یا لوگوں کے دل میں بس گیا

پی ٹی وی کی کامیابی میں سب سے بڑا کردار اُس تعلیم یافتہ کلاس کا تھا جس کا اب دُور تک نام و نشان دکھائی نہیں دیتا

خود پی ٹی وی کے اندر جو لوگ کام کر رہے ہیں ان کا ذہنی معیار اور تخلیقی اپچ کسی بھی طرح قابل تعریف نہیں

بہت کم لوگ ہوں گے جنہیں لٹریچر اور علم و فن سے دلچسپی ہو گی

مقصد حیات صرف نوکری ہے۔۔۔۔کون کیا کر رہا ہے؟ کیا بنا رہا ہے،کوئی پوچھ گچھ نہیں

پی ٹی وی کے برآ مدوں میں سناٹا ہے

سٹوڈیوز ویران ہیں

استقبالئے پہ جہاں لوگوں کا جم غفیر ہوتا تھااب کلرک فارغ بیٹھے رہتے ہیں

سرکاری چینل کی سکرین دیکھنا بھی کوئی گوارا نہیں کرتا کہ اس پہ دیکھنے کے لئے کچھ نہیں

ماضی میں جائیں تو اسی پی ٹی وی کی سکرین کا تصور اتنا سہانا ہے کہ انسان خوابوں اور سپنوں میں کھو جائے

رونقیں تھیں جہاں میں کیا کیا کچھ

لوگ تھے رفتگاں میں کیا کیا کچھ

اب کی فصلِ بہار سے پہلے

رنگ تھے گلستاں میں کیا کیا کچھ

خیر!نجی چینلز پہ بھی معاملہ قابل ستائش ہر گز نہیں !

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ پی ٹی وی ان سب کے لئے ایک رول ماڈل ہو تا ۔ماں کی طرح !لیکن ایسا نہیں ہوا

اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہو ئی کہ وہ تمام لوگ جنہوں نے اس ادارے کی آ بیاری کی وہ یا تو ریٹائر ہو گئے یا دنیا سے سدھار گئے

یہ وہ لوگ تھے جو اپنی اپنی جگہ کسی اکیڈمی کے مانند تھے

تباہی اور بربادی میں کی اس داستان کے پس پردہ کتنے ہی محرکات کار فرما ہیں

سرکار کی بھر پور مداخلت

بھرتیوں میں سفارش کا غلبہ

ناقص منصوبہ بندی

اوپر سے نیچے تک سہل پسندی کا رویہ

کوئی روڈ میپ نہ ہونا

عمران خان نے اسے بی بی سی طرز کا ادارہ بنانے کا دعوی ٰ کیا تھا۔۔اس سے بڑھ کے مخول کیا ہو سکتاہے

کوئی ہے جو پی ٹی وی کے کسی ایک میزبان( اینکر) کا نام بتا سکے۔ دوسری جانب پرائیوٹ چینلز کے اینکرز کو وہ ایسے جانتے ہیں گویا ان کے فیملی فرینڈ ہوں۔۔۔۔چلیں ’’میزبان ‘‘ وغیرہ تو مشکل ہو جائے گا کیا کسی کو معلوم ہے آ ج کل پی ٹی پہ کون سا ڈرامہ ہٹ ہے۔ کون سا سٹیج پروگرام مقبول ہے۔۔کون سا سیاسی شو سب سے اچھا ہے،۔شاید نہیں

جب پاکستان میں ٹیلی ویژن کی’’ جنم بھومی‘‘ ہی بے آ ب و گیاہ صحرا میں تبدیل ہو چکی ہے تو کسی اور سے کیا شکوہ؟

ریٹنگ کی دوڑ سے بے نیاز پی ٹی وی اگر ایک ہی کام کر لیتا تو اس کا احسان عظیم ہو تا

اردو کو شکست و ریخت سے بچانے کے لئے طارق عزیز، ضیا محی الدین ،افتخار عارف،کنول نصیر،انور مقصود اور ان جیسے دیگر قد آ ور لوگوں کو اپنی سکرین سے اوجھل نہ ہونے دیتا۔طارق عزیز بنیادی طور پر ایک کوئز پروگرام سے بہت آ گے کی ہستی ہیں مگر انہیں ایک خول میں میں بند کر دیا گیا

المیہ یہ ہوا کہ آ ج کی نسل اُردو کی ہے نہ انگریزی کی

نجی چینلز پہ اردو کی دھجیاں یوں بکھرتی ہیں کہ زبان سے معمولی سوجھ بوجھ رکھنے والا دل مسوس کے رہ جاتا ہے

محاورے غلط۔۔۔

ادائیگی غلط۔۔۔

عبارت کا ستیا ناس

ایک نجی ٹیلی ویژن پہ ڈارمہ نشر ہوا۔ ’’ کیسا ہے نصیباں‘‘

ٰیہ تو نصیبو لال جیسی نیم خواندہ گلوکارہ کو بھی علم ہو گا کہ لفظ’’ نصیباں ‘‘ نہیں ’’ نصیبہ‘‘ ہوتا ہے

یہ ڈرامہ چلا۔۔۔۔۔۔کئی قسطوں میں چلا مگر کسی کو معلوم نہ ہو کا کہ صحیح لفظ کیا ہو تا ہے۔

پی ٹی وی کا دکھڑا بیان کرنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ یہ ایک عظیم درسگاہ تھی۔دیکھنے والوں کے لئے بھی اور کام کرنے والوں کے لئے بھی۔

افسوس کہ پرائیویٹ چینلز اپنی تمام تر خامیوں کے ساتھ کہیں سے کہیں پہنچ گئے اور اس ادارے نے اپنی شان و شوکت کتنے آ رام سے ختم کر دی۔جیسے کوئی اپنے گلے میں خود پھندا ڈال لے

یہ سچ ہے کہ اب پی ٹی وی کا دور کبھی واپس نہیں آ ئے گا

سڑکیں اور گلیاں ویران ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا

بس ایک گزارش ہے! ارباب بست وکشاد اِسے ایک ’’یاد گار قرار‘‘ دے دیں اور ساتھ ایک اور مہربانی فرمائیں۔

وہ35 روپے جو 22 کروڑ پاکستانیوںسے بجلی کے بل میں ہر ماہ وصول کیے جاتے ہیں وہ بند کردیں۔


ای پیپر