بھکاریوں کا سافٹ وئیر اپ ڈیٹ ہو گیا
04 اکتوبر 2019 2019-10-04

آج کل ایک مسئلہ مجھے بہت زیادہ پریشان کررہا ہے شائد آپ لوگوں کوبھی اس بات سے پریشانی ہوتی ہو ۔ بات آگے بڑھانے سے پہلے میں آپ کو صرف ایک دن کی روداد سناتی ہوں۔ میرے شوہر بچوں کو سکول لینے گئے تو ایک اچھی بھلی صحت مند عورت نے گود میں ایک شیرخوار بچہ لیے گاڑی کا دروازہ کھٹکھٹایا اوربھیک مانگنے لگی۔ اسوقت صورتحال یہ تھی کہ چھٹی کے وقت سڑکوں پررش کی وجہ سے ٹریفک بلاک تھی۔ جس پراسے منع کیا تو وہ باز نہ آئی اور بار بار دروازہ بجاتی رہی۔ جب میرے شوہر نے اسے جھڑکا تو بد دعائیں دینے لگی۔اس واقعے کا بچوں پر منفی اثر ہوا کہ باپ نے ایک ضرورت مند کی مدد نہیں کی۔ خیر ان کو میں نے سمجھایا کہ یہ لوگ عادتاً بھیک مانگتے ہیں ان کو چاہیے، کوئی مزدوری کریں اور اس سے بہتر ہے آپ کسی غریب پھل فروش کو زیادہ پیسے دے کر اس کی مدد کردیں۔ بات آئی گئی ہوگئی اس کے بعد میرے شوہر جب عصر کی نماز پڑھنے مسجد گئے تو نماز ختم ہوتے ہی ایک بہت ہی اچھے حلیے میں ایک شخص نے ان کے پاس آکر کہا کہ میرا بجلی کا بل آٹھ ہزار روہے آیا ہے جو میں ادا نہیں کر سکتا میری تنخواہ پندرہ ہزار ہے پلیز میری مدد کردیں یہ اللہ کا گھر ہے یہاں سے مجھے خالی ہاتھ مت لوٹائیں۔ اس کے بعد وہ زار وقطار رونا شروع ہوگیا بحرحال وہاں لوگوں نے اس کی مدد کر دی۔ شام کو ہم لوگ اپنے بھائی کے گھر گئے تو انہوں نے بتایا کہ دیکھیں لوگ کتنے پریشان ہیں آج ہماری مسجد میں ایک اچھا بھلا شخص عشا کی نماز کے بعد بھیک مانگ رہا تھا اس نے بجلی کا بل جمع کروانا تھا پھر ہم سب نے اس کی مدد کی۔ میرے شوہر نے اس کا حلیہ پوچھا تو وہ ہو بہو وہی تھا جو عصر کے وقت ان کی مسجد میں مانگنے والے شخص کا تھا۔ آپ ذرا طریقہ واردات چیک کریں کہ کتنے مقدس مقام پر لوگوں کے جذبات سے کھیلا جاتا ہے اور کتنے بڑے ماہر نفسیات ہیں یہ بھکاری۔ یہی کام وہ شخص لاہور کی دو تین مسجدوں میں روزانہ کر لے تو اس کی تو اچھی خاصی آمدن ہوگئی،اس کو کام کرنے کی کیا ضرورت پڑی ہے اور پھر کتنے ضروت مندوں کا حق مارا جا رہا ہے؟

اچھا اب ہم بھائی کے گھر سے نکلے تو اے ٹی ایم سے پیسے نکلوانے تھے جیسے ہی پیسے لے کر باہر نکلے ایک بہت ہی بھلے چنگے نوجوان نے گاڑی کی کھڑکی بجادی،ہم سمجھے کوئی جاننے والا ہے لیکن جیسے ہی شیشہ اتارا اس نے مدعا بیان کیا کہ میری ماں ہسپتال میں زندگی موت کی جنگ لڑ رہی ہے میرے پاس دوائی کے پیسے نہیں ہیں پلیز مجھے پانچ ہزار دے دیں اللہ آپ کا بھلا کرے۔

اس کے بعد مجھے میڈیکل سٹور سے دوائیں لینی تھیں میں جب دوائی لے کر نکلی تو ایک عورت اس طرح میرے پائوں سے لپٹ گئی کہ شائد میں منہ کے بل گر جاتی۔ کہنے لگی باجی صبح سے بچوں نے کچھ نہیں کھایا باجی خدا کے لیے کچھ مدد کریں۔ میرا بچہ دودھ کے لیے بلک رہا ہے مجھے ترس آیا میں نے اس کو سو روپے کا نوٹ تھما دیا اس نے میری طرٖف بہت عجیب اندازمیں دیکھا اور بولی اس سے کیا بنے گا میرا بیٹا تو لیکٹو جن پیتا ہے وہ تین سو کا ڈبہ آتا ہے میرا دماغ گھوم گیا ۔

اس کے بعد جس چوک پر ہم کھڑے ہوتے کبھی دائیں کبھی بائیں گویا ایک بھکاریوں کی یلغار تھی جو ہمیں پاگل کردے۔ پٹرول پمپ سے پٹرول ڈلوایا تو باہر نکلتے ہی ایک انتہائی خوبصورت بچہ گلے میں بستہ ڈالے کھڑکی بجانے لگا کہ اللہ کے واسطے پیسے دے دیں میرے پاس سکول کی فیس نہیں ہے، میں پڑھنا چاہتا ہوں۔

اس کے بعد پھر بچوں نے آئس کریم کھانے کی فرمائش کی وہاں بھی پانچ منٹ کے اندر اندر کئی لوگوں نے دروازہ بجایا۔ گھر آنے تک ہر چوک پر کبھی نقاب پوش لڑکیاں کبھی زنخے کبھی لنگڑے کبھی اندھے کبھی بچے الغرض ایک بھکاریوں کا ہجوم تھا جس نے ہمارا سارا سفر دشوار بنادیا اور وہ وقت جو ہم اپنے بچوں کو تھوڑی سی خوشی دینے کے لیے رکھا تھا وہ سارا ذہنی اذیت میں گزر گیا ۔

یہ تو ایک دن کی روداد ہے نا، یہ روزانہ ہر لمحے پرجگہ پر چوبیس گھنٹے ہوتا ہے میڈیکل سٹور ہو ہسپتال ہو ، کوئی تفریحی مقام ہو ، فوڈ پوائنٹ ہو ، اسٹیشن ہو یا اشارہ ہو آپ کو ہر وقت اس اذیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور کبھی کبھار تو احساس گناہ بھی ہوتا ہے لیکن کیا یہ ہماری ذمہ داری ہے ان کا پیٹ بھرنا یا پھر ان کی جو ہمارے حکمران ہیں؟

موجودہ مہنگائی اور ٹیکسوں نے تو ہماری اپنی کمر توڑ دی ہے

میڈیکل سٹور، اے ٹی ایم، آئس کریم، پٹرول ڈلوانے سے لے کر بل ہوں یا عام اشیائے ضرورت،کون سی چیز ہے جس پر ہم ٹیکس نہیں دے رہے تو پھر یہ معاشرے میں روز بروز بڑھتے بھکاری کس کی ذمہ داری ہیں اور کیا ہمارے لیے اب سکون کا سانس لینا بھی ایک عذاب بن گیا ہے۔

ہمارے وزیر اعظم اقوام متحدہ گئے، تاریخی خطاب کیا جس سے ہمارا سر فخر سے بلند ہو گیا ،اس موقع پر انہوں نے گلوبل وارمنگ کے لیے اپنی کوششوں کا بھی ذکر کیا وہ بھی بلا شبہ ایک سنگین مسئلہ ہے۔ لیکن بس ایک درخواست ہے کہ اگر آپ کو واقعی ایک عظیم لیڈر بننا ہے تو پہلے اپنے ملک کے عوام کے مسئلے بھی تو حل کرنا ہوں گے نا۔

یہ مانا پچھلی حکومتیں کرپٹ تھیں چلیں آپ تو ایماندار ہیں نا آپ کیوں نہیں کوئی اچھا نظام بنا دیتے معاشرے کی بہتری کے لیے۔

ملک کے پر شعبے کے لیے بھاری تنخواہوں پر وزیر تعینات کیے جاتے ہیں تو ان کی کارکردگی کیا ہے؟ آخر ان کو عوام کی فلاح کے لیے ہی اسمبلیوں میں بھیجا گیا ہے نا تو پھر فلاح کیوں نظر نہیں آرہی؟

باقی تعلیم صحت ایک طرف،آپ صرف اس ایک مسئلے کو سنجیدہ لے لیں کہ کسی طرح ان روز بروز بڑھتے بھکاریوں کے لیے کوئی نظام بنا دیں جو ان کو کنٹرول کرے۔ ان کی وجہ سے ضرورت مندوں کا حق مارا جاتا ہے۔

اس میں کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان کاشمار سب سے زیادہ خیرات دینے والے ممالک میں ہوتا ہے شائد اسی لیے یہاں گداگری ایک پیشہ مافیا کی حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

جناب وزیر اعظم صاحب!

پسماندگی اورغربت کے باعث بھکاریوں کی تعداد بڑھتی جارہی ہے لیکن ساتھ ہی ساتھ پورا نیٹ ورک ان گداگروں کے پیچھے کام کر رہا ہے جس کا سراغ لگایا جانا ضروری ہے۔ جس طرح پولیو کے خاتمے اور ڈیم بنانے کے لیے پوری منظم مہم چلائی جاتی ہے ویسے ہی اس مسئلے کے لیے بھی چلائی جائے۔ یہ درست ہے کہ بہتر سالوں کے مسائل ایک سال میں حل نہیں ہوسکتے لیکن آپ خلوص نیت سے ٹھان لیں تو یقین مانیں ایک ایک کرکے سب مسئلے حل ہوجائیں گے اور عوام آپ کا بازو بن کرکھڑے ہوں گے۔


ای پیپر