مفتی عبدالقوی نے ’’احترام انسانیت قانون ‘‘ کا مسودہ تیار کرلیا
04 اکتوبر 2019 (17:23) 2019-10-04

اسلام آباد:چیئرمین دینی مدارس بورڈ پاکستان مفتی عبدالقوی نے ’’احترام انسانیت قانون ‘‘ کا مسودہ تیار کرلیا ہے جس کے مطابق کسی کو دوسرے کے عقیدے پر بات کر نے کی اجازت نہیں ہوگی ۔

چیئرمین دینی مدارس بورڈ پاکستان مفتی عبدالقوی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے کہاکہ ناموس رسالت اور اہل بیت و اصحابہ کے حوالے سے آ ئین میں شقیں موجود ہیں،احترام انسانیت قانون کا مسودہ تیار کیا ہے،قانون کے مسودے کا نام 298D رکھا ہے ۔ کسی کو اجازت نہیں ہوگی کہ دوسرے کے عقیدے پر بات کر سکے۔قانون کا مسودہ وزارت قانون، وزیراعظم سمیت اعلی حکام کو دینگے۔اپوزیشن جماعتوں سے بھی توقع ہے کہ قانون کے مسودے پر متفق ہونگی۔

مفتی عبدالقوی نے کہاکہ ہماری جماعت تحریک انصاف اس قانون پر غور کرے گی،ہر جماعت کا سیاسی منشور ہے، اس کو لے کر آئیں، کسی کی مذہبی دل آزاری نہ کریں،ہر ایک کے عقائد کا احترام ضروری ہے، اسی لئے ایسا مسودہ قانون تیار کیا ہے، پاکستان میں تمام مذاہب کو ماننے والے ہیں، سب کو ساتھ لے کر چلیں گے۔ ملک کے عوام دیکھ رہے ہیں کہ کس لیڈر نے کہا ہے کہ جو میرے پیغمبر ؐکو آخری نبی نہیں مانتا وہ مسلمان نہیں،ہم دینی فریضہ ادا کرتے ہوئے وزیراعظم کی راہنمائی جاری رکھیں گے۔ تین دن فضل الرحمان، مریم نواز اور بلاول کے جواب کا انتظار کروں گا۔

مفتی عبدالقوی نے کہاکہ یہ مسودہ قانون تمام سیاسی جماعتوں کو فراہم کیا جائے گا ،امید ہے پارلیمنٹ احترام انسانیت بل متفقہ طورپر منظور کرے گی۔فضل الرحمان کو کہوں گا مذہبی کارڈ استعمال نہ کریں،مریم نواز، شہباز شریف، بلاول بھٹو اور فضل الرحمان بھی ناموس رسالت پر واضح بات کریں۔میرے اوپر اقدام قتل کا کوئی الزام نہیں، صرف ایک سیلفی کی بنیاد پر مجھے ملوث کرنا درست نہیں،سیلفی کا معنی تصویر ہے، تصویر بڑے جلیل القدر علما کی تصاویر بھی آتے ہیں۔


ای پیپر