آسانیاں کہاں سے آئیں گی؟
04 اکتوبر 2019 2019-10-04

کائنات میں مادے کی مقدار یکساں ہے اس میں کوئی کمی بیشی نہیں ہوتی، جب برف پگھلتی ہے تو وہ ٹھوس سے مائع میں بدل جاتی ہے اور یہی مائع دھوپ پڑنے پر آبی بخارات کی صورت ہوا میں شامل ہوجاتا ہے، ہمیں برف نظر نہیں آتی اور نہ ہی پانی واپس ملتا ہے، ہم سمجھتے ہیں کہ برف اور پانی کھو گئے مگر وہ ہماری ذات کے قبضے سے نکل کر پوری کائنات میں تمام انسانوں کے پاس چلے جاتے ہیں اور دوسری طرف پوری کائنات کا کیا دھرامیری طرف آ رہا ہوتا ہے۔ مجھے اس تصور کی گواہی قرآن پاک سے ملتی ہے کہ جب مجھے سورہ الزلزال میں کہاجاتا ہے کہ جس نے ذرہ بھر بھی بھلائی کی وہ دیکھ لے گا اور جس نے ذرہ بھر بھی برائی کی وہ بھی دیکھ لے گا یعنی ایک ایک ذرہ موجود رہے گا، یہ ختم نہیں ہو گا، یہ فنا نہیں ہو گا۔

جب سائنس نہیں تھی تو مجھ جیسوں کو حیرانی ہوتی تھی کہ ہمارے ہاتھ اور پاوں ہماری گواہی کیسے دیں گے مگر پھر سمجھ آ گیا کہ اگر فنگر پرنٹس میری حاضری لگا سکتے ہیں اور میرا ڈی این اے میرے اچھے برے کاموں کی گواہی بن سکتا ہے تو پھر جو ایک انسان نے کر دکھایا ہے وہ رب کائنات کے لئے کیوں ناممکن ہوسکتا ہے جبکہ میری اور میرے پورے ماحول کی مینوفیکچرنگ ہی میرے رب نے کی ہے۔ہم جب کوئی الیکٹرانک مشین خریدتے ہیں تو عمومی طور پر اس کی وائرنگ کا ڈیزائن ساتھ ملتا ہے اور وہ الیکٹریشن جو اس کمپنی کاتربیت یافتہ نہیں بھی ہوتا وہ بھی اس کی خرابی کو اس ڈیزائن کو دیکھتے ہوئے تلاش کر لیتا ہے اور ٹھیک کر لیتا ہے۔ کیا ہم یہ یقین نہیں رکھتے کہ ہمارا جسم ، ہماری روح اور ہمارا ماحول سب اللہ رب العزت کا بنایا ہوا ہے۔بات کسی اور طرف نکل گئی، مجھے کچھ اورکہنا تھا، بات آسانی تلاش کرنے کی ہے، ہم سب آسانی تلاش کرنے کے چکر میں رہتے ہیں، مشکلات سے بچنا چاہتے ہیں لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ ہم دوسروں کے لئے مشکلات پیدا کر رہے ہوں اور ہمیں جواب میں آسانیاں ملتی رہیں۔ ہوسکتا ہے کہ عارضی طور پر ایسا ہی ہوکیونکہ سوشل سائنسز میں دو اور دو ہمیشہ چار نہیں ہوتے، یہ تین اور پانچ بھی ہوسکتے ہیں اور کسی وقت ہم انہیں بائیس کی صورت میں بھی دیکھ سکتے ہیں لیکن یہ طے شدہ ہے کہ اگر آپ دوسروں کے لئے آسانیاں پیدا نہیں کریں گے تو جواب میں آپ کو بھی آسانیاں نہیں ملیں گی۔ ہم مغرب کو کفر کامعاشرہ سمجھتے ہیں مگر وہ کائنات کی مشین کا ڈیزائن ضرور سمجھتے ہیں۔ وہ جانتے ہیں کہ مشکلات پیدا کرنے والی تاریں پوری وائرنگ کو متاثر کرتی ہیں لہذا وہ عقائد میں تو اسلام پر ایمان نہیں رکھتے مگر وہ جانتے ہیں کہ ذرہ برابر بھلائی اور برائی فنا نہیں ہو گی ۔ وہ جانتے ہیں کہ کسی ایک کارخانے سے نکلنے والا دھواں پوری فضا کو مکدر کر دے گا لہذا وہ اسے کنٹرول کرتے ہیں۔

سادہ سی بات ہے کہ اگر آپ راستے میں کانٹے بکھیریں گے تو بہت ساروں کے پاوں زخمی کریں گے اوراگر یہی کام دو ، چار اور لوگوں نے شروع کر لیا تو آپ کے پاوں بھی زخمی ہوسکتے ہیں لیکن اگر ایک فرد راستے میں پڑے ہوئے پتھر اٹھا کے ایک طرف رکھ دے گا اور یہی کام چند لوگ اپنی اپنی جگہ پر کرنا شروع کردیں گے تو راستے صاف اورآسان ہوجائیں گے۔ ہوسکتا ہے کہ ہم سب کانٹوں اور پتھروں کی مثالوں کو نہ سمجھ سکیں کہ عمومی طور پر ہمیں یہ راستوں میں نہیں ملتے مگر ہمیں ٹریفک تو ملتی ہے۔ کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ سڑکوں پر موٹرسائیکلیں اور گاڑیاں اس طرح کھڑی کر دی جاتی ہیں کہ راستے بند کر لیتی ہیں، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بہت سارے کمرشل گاڑیوں والے اپنی گاڑیوں کے ساتھ لوہے کے راڈ اس لئے لگالیتے ہیں کہ سڑک پر غیر ذمہ دارانہ ڈرائیونگ کرتے ہوئے دوسروں کی گاڑیاں تباہ ہوں اور ان کی گاڑی محفوظ رہے، کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ بہت سارے موٹرسائیکل سوار ٹریفک سگنل کی پابندی نہیں کرتے اوراپنے اور دوسروں کے لئے خطرات پیدا کرتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی دیکھا ہو گا کہ پوش ایریا کے بڑے سکولوں کے سامنے سب لوگ سکول کے عین گیٹ کے سامنے گاڑی لگا کر اپنے بچے کو بٹھانا چاہتے ہیں جس کی وجہ سے ٹریفک بری طرح بلاک ہوجاتی ہے حالانکہ اگر گاڑیاں ترتیب کے ساتھ کھڑی کر لی جائیں اور یہ سوچ لیا جائے کہ ہم نے دوسروں کو آسانی دینی ہے تویہی آسانی جب ہوا اور فضا میں پھیلتی ہے تو ہمارے حصے میں بھی آتی ہے۔ کسی تنگ سڑک پر اگر آپ دوسروں کو راستہ دیتے ہوئے گاڑی تھوڑے فاصلے پر روک لیں تو نتیجے میں آپ کو بھی کھلی سڑک ملتی ہے جس کے نتیجے میں آپ آسان اورمحفوظ ڈرائیونگ کر سکتے ہیں۔

میں اکثر سوچتا ہوں کہ میرے دکاندار حضرات اپنا کاروبار دکانوں کے اندر کیوں نہیں کرتے ،ا نہوں نے سامان باہر سڑک پرسجایا ہوتا ہے جس کے نتیجے میں سب کو تنگی ، پریشانی اورمشکل ملتی ہے۔ میں نے اپنے شہر والوں کی عجب فطرت دیکھی ہے کہ وہ موٹرسائیکل ہیلمٹ پہننے اورکار سوار سیٹ بیلٹ باندھنے کے چالان پر ٹریفک وارڈن سے لڑ رہے ہوتے ہیں حالانکہ ہیلمٹ ہو یا سیٹ بیلٹ، کسی بھی حادثے کی صورت میںا نہوں نے آپ کی جان بچانی ہے،اس ٹریفک وارڈن کی نہیں ۔آپ ٹریفک سگنلز کی خلاف ورزیاں ہی دیکھ لیں، یہ ٹریفک سگنل آپ کوسہولت دینے کے لئے ہیں مگر بنیادی شرط یہ ہے کہ آپ بھی دوسروں کوان کی گرین لائیٹ پر راستے کی سہولت دیںلیکن اگر آپ دوسروں کی گرین لائیٹ پر انہیں راستہ نہیںدیں گے تو آپ خود بھی خطرات اور مشکلات کا شکار ہو جائیں گے۔

یہ قدرت کا قانون ہے کہ اس نے مادے کی مقدار کو کائنات میں مستقل رکھا ہواہے اور یہ مادہ صرف ٹھوس، مائع ، گیس کی صورت میں نہیں بلکہ سائنس کہتی ہے کہ توانائی کی صورت میں بھی موجود ہے اور میں اس سے بھی آگے بڑھ کے کہتا ہوں کہ یہ آپ کی نیتوں، کاموں اور دعاﺅں کی صورت بھی ہے۔ آپ اچھا سوچتے ہیں، اچھاکرتے ہیں تو وہ اچھی توانائی آپ کے ارد گرد ماحول میں پھیل جاتی ہے اور اگر آپ برا کرتے ہیں تو وہ بری توانائی آپ کا گھیراﺅ کر لیتی ہے۔اب دیکھنا صرف یہ ہے کہ آپ کے ارد گرد اچھی توانائی پھیلانے والے لوگ زیادہ ہیں یا بری توانائی پھیلانے والے یعنی آپ کے گرد تجاوزات کرنے والے، ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے، گلی محلوں میں گندگی پھیلانے والے اور آپ کے سوشل میڈیا پر گالیاں دینے والے زیادہ ہیں تواس کا مطلب یہ ہوا کہ جو کچھ آپ کے ارد گرد دوسروں کو دیا جا رہا ہے وہی مجموعی طور پرسب کے لئے واپس آ رہا ہے۔ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ترقی یافتہ ممالک میں قوانین پر عملدرآمد ہوتا ہے اور وہاں لوگوں کے لئے بہت ساری آسانیاں ہیں تواس کی وجہ یہی ہے کہ وہاں لوگ اپنے مفاد میں بنائے ہوئے قوانین پر عمل کرتے ہیں۔ یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اگر یہ’ معاشرتی چکر‘ ہے تو پھر حکومتوں کا کیا کردار ہے۔ ان معاشروں میں شہری انہی لوگوں کو حکمران بناتے ہیں جو خود بھی قانون پر عمل کرتے ہیں اور دوسروں کو آسانیاں دیتے ہیں مگر جہاں قانون توڑنے والے اوردوسروں کے لئے مشکلات پیدا کرنے والے ہوتے ہیں تو وہ اپنے اوپر قدرت کے قانون کے مطابق حکمران بھی ایسے ہی مسلط کر لیتے ہیں۔


ای پیپر