Source : File Photo

بھارت کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے متعلق سنسنی خیز انکشافات
04 اکتوبر 2018 (17:32) 2018-10-04

اسلام آباد: دفتر خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر محمد فیصل نے کہا ہے کہ بھارت کشمیر میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کر رہا ہے جو عالمی قوانین کی خلاف ورزی ہے، عالمی برادری نوٹس لے ۔

گزشتہ 2 ہفتوں میں بھارت نے 18 کشمیریوں کو شہید کیا ،ہم بھارت کو مذاکرات کے لیے نہیں منا رہے، بھارت کی جانب سے پہلے خط آیا تھا، ہم پر امن تعلقات میں کوشش کرسکتے ہیں، عالمی عدالت انصاف میں کلبھوشن یادیو کیس کی سماعت 18 فروری کو ہوگی، جس کے لیے پاکستان کی تیاری مکمل ہے اور ہم اپنا مقدمہ لڑیں گے، اقوام متحدہ میں وزیر خارجہ نے خطے میں امن و استحکام کا پیغام دیا اور واضح کیا کہ پاکستان قومی وقار پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا، امریکا کے ساتھ مذاکرات مثبت چل رہے ہیں، شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کی پوزیشن میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔

جمعرات کو دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان ڈاکٹر فیصل نے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے مظالم کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی قابض افواج نے 18 کشمیریوں کو شہید کردیا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں نہتے شہریوں پر کیمیائی ہتھیاراستعمال کررہا ہے، قابض افواج نے بانڈی پورہ میں کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا، بھارت مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کررہا ہے۔کلبھوشن کیس پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ بھارتی جاسوس کلبھوشن کے کیس کی فروری سے سماعت شروع ہو رہی ہے اور عالمی عدالت انصاف میں یہ سماعت مسلسل چلے گی، کیس کی مکمل تیاری ہے اور اسے عالمی عدالت میں بھرپور طریقے سے لڑیں گے۔

پاک بھارت مذاکرات پر بات کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ نے کہا کہ پاکستان پرامن ہمسائیگی کے قائداعظم کے نظریے پر یقین رکھتا ہے، بھارت سے مذاکرات نہ ہوئے تو کرتارپور سمیت کسی معاملے پر بات نہیں بڑھ سکتی، مذاکرات کیلئے بھارت کو منا نہیں رہے بلکہ پہلا خط ان کی طرف سے آیا تھا۔انہوں نے پاکستانی اور بھارتی وزیر خارجہ کی خفیہ ملاقات کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان ابھی بھی پرامن ہمسائیگی کا خواہش مند ہے، بھارتی وزیرخارجہ سے طے شدہ ملاقات کی منسوخی پر افسوس ہے، سشما سوراج ملاقات پر راضی ہوئی تھیں۔ڈاکٹر فیصل نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کے دورہ امریکا سے آگاہ کرتے ہوئے بتایا کہ وزیر خارجہ نے امریکا میں مختلف ممالک کے سفرا سے ملاقاتیں کیں، وزیر خارجہ شاہ محمود عالمی بینک کے سربراہ سے بھی ملے، انہوں نے سندھ طاس معاہدے اور متنازع کشن گنگا ڈیم پر تبادلہ خیال کیا۔

ترجمان دفتر خارجہ نے بتایا کہ وزیر خارجہ نے امریکی مشیر قومی سلامتی سے جنوبی ایشیا میں سلامتی کی صورتحال پربات کی جب کہ شاہ محمود نے امریکی ہم منصب مائیک پومپیو سے بھی ملاقات کی جس میں پومپیو نے افغانستان میں قیام امن کیلئے پاکستان کے کردار کو سراہا، امریکی صدر ٹرمپ کے ساتھ وزیر خارجہ کی مثبت بات چیت ہوئی، ہم نے اپنے اصولی موقف سے امریکا کو بھی آگاہ کیا ہے۔ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ پاکستان قومی مفاد پر سمجھوتہ نہیں کرے گا، وزیر خارجہ نے کہا کہ کشمیریوں کی خواہشات کے مطابق مسئلہ کشمیرحل کیا جانا چاہیے۔

ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر فیصل کا کہنا تھا کہ طالبان سے امریکا براہ راست مذاکرات کرے اور خواہش ہوگی کہ اس میں کامیابی ملے، ہم کسی ایک ملک کو افغانستان میں قیام امن پر ذمہ دار نہیں ٹھہرانا چاہیں گے، اس معاملے پر تمام ممالک کو اپنا حصہ ڈالنا ہو گا۔شکیل آفریدی نے سے متعلق سوال پر انہوں نے کہا کہ شکیل آفریدی کے معاملے پر پاکستان کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔سی پیک سے متعلق سوال کے جواب میں ترجمان دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ سی پیک کے معاملے پر چین کے ساتھ رابطے میں ہیں اور دونوں ممالک ایک پیج پر ہیں، سی پیک میں سعودی عرب کی شمولیت پر منصوبہ بندی کمیشن جواب دے سکتا ہے۔


ای پیپر