فیاض الحسن چوہان کی برطرفی سے جڑے بارہ سوال
04 نومبر 2020 2020-11-04

پنجاب کے وزیر اطلاعاات فیاض الحسن چوہان کو ایک مرتبہ پھرپنجاب کی وزارت اطلاعات سے ہٹا دیا گیا ہے، انہیںگذشتہ برس پانچ مارچ کوہندو کمیونٹی کے بارے میں ایک قابل اعتراض بیان دینے پر بھی کابینہ سے الگ کیا گیا تھامگر وہ اسی برس دو دسمبر کو ایک مرتبہ پھر کابینہ میں شامل کر لئے گئے تھے۔ میں جناب فیاض الحسن چوہان کی بطور وزیر اطلاعات گفتگو کے معیار اورالفاظ کے چناو¿ کو انتہائی نامناسب سمجھتا رہا ہوں کہ انہوں نے کبھی سیاسی اخلاقیات ، معاشرتی آداب اور جمہوری روایات کا لحاظ رکھنے کی زحمت نہیں کی مگر دوسری طرف مجھے تسلیم کرنا ہے کہ وہ ہمیشہ اپنی پارٹی اورحکومت کے لئے جارحانہ بیٹسمین کے طور پر دستیاب رہے۔ میں جب پنجاب کی کابینہ کے بارے میںسوچتا ہوں تو مجھے اس فوج ظفر موج میں کوئی وزیر بھی فیاض الحسن چوہان کی طرح لڑتا ہوا نظر نہیں آتا بلکہ مجھے تو دو، چار جن سے ذاتی تعلق ہے کے سوا نام بھی ذہن میں نہیں آتے بالکل ایسے ہی جیسے فیاض الحسن چوہان کے ساتھ دو اور وزیروزارتوں سے فارغ کئے گئے مگر وہ کون ہیں، کیا کرتے رہے ہیں، کچھ علم نہیں۔

فیاض الحسن چوہان ابھی کابینہ سے مکمل باہر نہیں ہوئے، وہ ابھی کالونیز کے وزیر ہیں اورمجھے یہاں نواز لیگ کے زعیم حسین قادری یادآ گئے۔ جب بھی ملاقات ہوتی وہ بتاتے کہ انہوں نے مسلم لیگ نون کی حکومت کا دفاع کرتے ہوئے اتنے ہزار پروگراموں میں شرکت کی ہے مگرجب انہیں بہت کوشش کے بعد وزارت دی گئی تو وہ اوقاف کے وزیر بنائے گئے، اطلاعات کے نہیں حالانکہ وہ فیاض الحسن چوہان کی طرح حکومت کے دفاع میں کچھ بہتر اخلاقیات کے ساتھ بہت ایکٹو اور ایموشنل تھے۔بطور صحافی اورسیاسی تجزیہ نگار میرے پاس فیاض الحسن چوہان کی وزارت اطلاعات سے برطرفی سے جڑے ہوئے دس ، بارہ سوال ہیں جن میں سے بہت ساروں کے جواب ہم سب کومعلوم ہیں مگر ریکارڈ کی خاطر ان کا پوچھ لیاجانا ہی بہتر ہے۔

پہلاسوال یہ ہے کہ آپ اپنے فرنٹ فٹ پر کھیلنے والے کھلاڑی کو باہر بھیجتے ہوئے اسے بتانے اور اعتماد میں لینے تک کی زحمت نہیں کرتے۔اگرچہ فیاض الحسن چوہان کا اپنا رویہ اخلاقیات اور سیاست کے اعلی ترین اصولوں پر نہیں اترتا مگر انہیں وزیر اطلاعات ہوتے ہوئے اپنی رخصتی کی اطلاع خود میڈیا سے ملی جب وہ ایک تقریب میں مخالفین پر تابڑتوڑ حملے کر رہے تھے۔اس موقعے پر کیمرے کے سامنے سوالات میں فیاض الحسن چوہان کابوکھلایا ہوا اندازظاہر کر رہا ہے کہ وہ اس تذلیل کے لئے ذہنی طور پرتیار نہیں تھے، کیا یہ غیر اخلاقی اور غیر سیاسی نہیں۔

دوسراسوال یہ ہے کہ حال ہی میں جناب عمران خان کے لاہور کے دوروں کے دوران یہ رپورٹ ہوا کہ انہوں نے فیاض الحسن چوہان کی نہ صرف تعریف کی بلکہ دوسرے وزرا کو ان کی طرح آگے بڑھ کر نہ کھیلنے پر تنقید کانشانہ بھی بنایا، یہ الفاظ بھی کہے گئے کہ کیا پنجاب میں صرف ایک ہی وزیر ہے۔ یہ امر واضح ہو چکا کہ وزیراعظم کو ان کی غیر اخلاقی گفتگو پر کوئی اعتراض نہیں تھا جو کہ ایک جمہوری حکومت میں بنیادی اعتراض ہونا چاہئے تھا کیاتحریک انصاف کی حکومت میں وزیر رہنے کے لئے عمران خان کا اعتماد، تعریف اور شاباش بھی کافی نہیں ہے۔

تیسرا سوال حکومتی معاملات بارے ہے کہ کیا عمران خان اور عثمان بُزدار کے درمیان شخصیات کے چناو¿پر اختلاف موجود ہے اور کیا وزیراعلیٰ اور کابینہ کے ارکان کے درمیان خلیج اتنی وسیع ہے کہ اہم ترین وزیر کی برطرفی ہوجاتی ہے اور اسے علم تک نہیں ہوتا، اسی سے ملتا جلتا دوسراسوال یہ پوچھا جا رہا ہے کہ کیا ان کے اپنے حکم کے باوجود خود وزیراعلیٰ کو علم ہے کہ چوہان کو کس نے ہٹایا اور کیوں ہٹایا۔

چوتھا سوال یہ ہے کہ کیا حکومت میں’ نان منسٹریل پرسنالیٹیز ‘ اور پاور گروپس وزیروںپربھی حاوی ہیں کہ اب تک کی اطلاعات کے مطابق یہ کارروائی سیف اللہ نیازی کی شکایت پر کی گئی ہے جو کہ سوشل میڈیا ٹیم کی سربراہی کرتے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ ایسی کسی بھی شکایت پر فیاض الحسن چوہان سے وضاحت طلب کی گئی، کوئی انکوائری کی گئی یا براہ راست انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔

پانچواں سوال یہ ہے کہ فیاض الحسن چوہان پر’الزام‘ ہے کہ وہ پنجاب حکومت کی ’کارکردگی‘ عوام کے سامنے نہیں لا سکے تو سوال یہ ہے کہ پنجاب کے مختلف محکموں کے وزیر اپنی اپنی کارکردگی عوام کو بتا سکتے ہیں کہ انہوں نے دو، اڑھائی برس میں کیا تیر چلائے ہیں، کیا اصلاحات کی ہیں۔ وزیر اطلاعات صرف کارکردگی بتا سکتا ہے جبکہ کارکردگی وزرانے اپنے اپنے محکمے سے خود بنانی ہوتی ہے۔ اسی سے جڑا چھٹا سوال اپنی پروجیکشن کروانے کے الزام پر ہے کہ اگر وزیر اطلاعات بھی ٹی وی چینلوں پر نہیں آئے گا تو پھر کون آئے گا؟

ساتواںسوال یہ ہے کہ فیاض الحسن چوہان کی جگہ محترمہ فردوس عاشق اعوان کو لایا گیا ہے جن کی وفاق میں تقرری کے پر پی ٹی آئی کے نظریاتی لوگ ( اور دھڑے) ہمیشہ پارٹی اجلاسوں میں اعتراض کرتے اور یہ کہنا بھی غلط نہیں ہوگاکہ سازشیں کرتے نظر آئے۔ اب وہ پنجاب جیسے اہم صوبے میں کس طرح پارٹی کو ساتھ لے کر چل سکیں گی جہاں سب سے تیز و طرار اپوزیشن اور ایشوزکا سامنا ہے۔

آٹھواں سوال بھی اسی ’ ری پلیسمنٹ‘ کے بارے ہے کہ اس نئی تقرری کو کرتے ہوئے کیا سپریم کورٹ کے فیصلے کو نظر میں رکھا گیا اور ممکنہ ردعمل کا اندازہ کیا گیا جبکہ نواںنکتہ کرپشن کے ان الزامات بارے ہے جو انہیں وفاق میں عہدے سے ہٹانے کے بعد حکومت کے غیر سرکاری ترجمان ٹی وی کے ذریعے لگائے گئے، کیا ان کی تحقیق کی گئی اور ان الزامات کو غلط قرار دیا گیا۔

دسواں سوال یہ ہے کہ کیا پاکستان کے سیاسی کلچرمیں کبھی وفاداری اورکارکردگی بھی میرٹ بن سکے گی یا نہیں۔ اس سوال پر فیاض الحسن چوہان سے سیاسی اور نظریاتی اختلافات رکھنے والوں کو بھی غور کرنا چاہئے کہ سیاسی کارکن کی عزت اوراہمیت کیا ہے۔ کیا وجہ ہے کہ ایک جاگیردار اورسرمایہ داروزیر بنتا ہے تووہ اپنی مد ت پوری کر تا ہے مگرسیاسی کارکن ہمیشہ ذلیل ہوتا ہے۔

گیارہواں سوال خود فیاض الحسن چوہان سے ہے کہ وہ اپنے کردار کو کس طرح دیکھتے ہیں۔کیا ہی اچھا نہ ہوتاکہ وہ ایک مہذب سیاسی کارکن کے طور پرمدلل اختلاف کرتے۔میںپنجاب میں شریف فیملی کی مخالفت اوران پر تنقید کو سیاسی حق ہی نہیں بلکہ ایک فرض بھی سمجھتا ہوں مگراس کے ساتھ ساتھ ایک حق اور فرض پھکڑ بازی سے گریز کرتے ہوئے شائستگی اور دلیل بھی ہے۔

بارہواں سوال بہت سادہ ہے اورانہی سے ہے کہ وہ اس توہین آمیز روئیے کے جواب میں منسٹر کالونیز کے عہدے سے مستعفی ہونے کو ایک آبرومندانہ طریقہ سمجھتے ہیں ۔ابھی یہ آخری الفاظ تحریر کر ہی رہا تھا کہ فیاض الحسن چوہان کا ٹوئیٹ سامنے آگیااورانہوں نے کہا کہ وہ ’ منجی ٹھونکتے رہیں گے ‘ جس سے میں نے یہی نتیجہ اخذکیا ہے کہ وہ عزت کو آنی جانی شے سمجھتے ہیں اور یہ کہ ان کے مطابق ان کی برطرفی سے سب سے زیادہ بھارت خوش ہوا توسب سے اہم سوال یہی ہوا کہ کیا انہیں بھارت کوخوش کرنے کے لئے عہدے سے ہٹایا گیا؟


ای پیپر