مولانا اصل اپوزیشن لیڈر …
04 نومبر 2019 2019-11-04

اتوار کا روز اسلام آباد اور پنڈی کے شہریوں نے انتظار میں گزارا۔ یہ انتظار قانون نافذ کرنے والوں نے بھی کیا کہ کب دھرنا مارچ ایچ نائن سے ڈی چوک کی طرف بڑھتا ہے۔ انہوں نے جذباتی شرکاء کو ٹھنڈا کرنے کے لئے کہا۔ ڈی چوک پر تصادم ہوگا، لیکن انہوں نے کہا کہ ہم نے ملک کے نوجوانوں کو ہتھیار اٹھانے سے بچا لیا ہے۔ کچھ حاصلات کے بعد ہی واپس جائیں گے۔ تاکہ اور تابڑ توڑحملہ کیا جاسکے۔ دو روز کی مہلت پر حکومت کی سرد مہری اور دوبڑی پارٹیوں کی بے رخی کے بعد مولانا نے اسلام آباد کے ایچ نائین سیکٹرمیں دھرنا جاری رکھنے اور ملک بھر احتجاج کی دھمکی دی ہے۔

چوہدری شجاعت حسین اور چوہدری پرویز الٰہی کے ذریعے حکومت کی یہ کوشش ہے کہ مولانا فضل الرحمان کو باقی اپوزیشن سے علیحدہ کریں، یہی وجہ ہے کہ چوہدری شجاعت نے مولانا کو ا صل اپوزیشن لیڈر کہا ہے، چوہدری شجاعت کا اداروں کے بارے میں تاثر ختم کرنے کا مشورہ دیا اور ان کا کہنا ہے کہ’’ مولانا افہام و تفہیم چاہتے ہیں۔ ہماری بھی یہی خواہش ہے۔ ‘‘ حکومت پوری اپوزیشن کے بجائے صرف مولانا سے ہی بات کرنا چاہتی ہے۔ جس نے اکیلے طاقت کا مظاہرہ کر کے دکھایا ہے۔ مولانا اس تاثر کو قائم رکھے ہوئے ہیں کہ اسٹیبلشمنٹ بمقابلہ اپوزیشن ہے۔

عمران خان کی اتحادی جماعتیں خاموش ہیں، حکومت ان کو اعتماد میں لینے میں ناکام رہی ہے۔ وہ آگے کیا ہوتا ہے کا انتظار کر رہی ہیں۔ آج پارلیمنٹ غیر موثرنظر آتی ہے۔ جس سے یہ پیغام جارہا ہے کہ اس محاذپر تحریک انصاف حکومت کی کمزوری ہے۔ ویسے بھی حکمران جماعت پارلیمان کو کم ہی اہمیت دیتی رہی ہے ۔ عمران خان نے جب دھرنا دیا تھا تب بھی کچھ عرصے تک پارلیمنٹ غیر موثر رہی، لیکن بعد میں پارلیمانی جماعتیں دھرنے کے خلاف متحدہو گئیں۔ اگرچہ حالیہ دھرنے کے وقت ایسی صورتحال نہیں کہ پارلیمان میں موجود تمام جماعتیں متحد ہوں۔ لیکن پھر بھی ایسا کرنے سے پارلمنٹ کے غیر متعلقہ ہونے کا پیغام ضرور جاتا ہے۔ حکومت پارلیمنٹ یا اتحادیوں کے بجائے بیک ڈور ڈپلومیسی یا پھر انتظامی مشنری پر انحصار کر رہی ہے۔

مولانا حکومتی رویے سے مایوس ہیں۔ انہوں نے مہلت اس لئے دی ہے کہ حکومت ان سے بات کرے۔ مولانا فضل الرحمان نے فیصلہ کن مرحلے پر کہا کہ ’’اہم ادارہ متنازع بن رہا ہے۔ ہم اسے متنازع بنتے نہیں دیکھنا چاہتے۔ ہم آئین سے بہت دور چلے گئے ہیں، ہر ادارہ آئین میں مداخلت کر رہا ہے ۔ تمام ادارے مل بیٹھیں اور اس حقیقت کو تسلیم کریںکہ ٓآئین ہی سب سے بالاتر ہے اور اسی کے تحت پاکستان چلایا جاسکتا ہے۔جمہوری ادارے بے معنی ہو گئے ہیں۔ ملک میں کوئی جمہوریت نہیں، انتخابات میں ہر کوئی عوام کی طرف دیکھنے کے بجائے کسی اور کی طرف دیکھتا ہے۔ ‘‘ لیکن اس کے باوجود وہ عسکری قوتوں سے ٹکرائو نہیں چاہتے۔

سندھ میں یہ تاثرپایا جاتا ہے کہ مولانا کی تحریک پٹھانوں کی ایم آرڈی ہے جس میں جمہورت پسند مولویوں سے لیکر سیکیولر اور روشن خیال لوگوں تک شامل ہیں۔اسلام آباد کے بعض سنیئر صحافیوں کے مطابق دھرنا مارچ میں نوے فیصد پختون بھائی ہیں۔

آج سے تئیس سال پہلے جماعت اسلامی نے دھرنا مارچ کیا تھا۔ اور صدرفاروق لغاری سے بینظیربھٹو حکومت کی برطرفی کا مطالبہ کیا تھا۔ دلچسپ بات بات یہ ہے کہ اس دھرنے کے پندرہ روز بعد صدر فارق لغاری نے بینظیر بھٹو کی حکومت برطرف کر دی تھی۔ مولانا فضل الرحمان وزیراعظم عمران خان کو ہٹانے کا مطالبہ کررہے ہیں۔لیکن یہ کیسے ہو؟ تب کے پاس آٹھویں ترمیم کے تحت منتخب حکومت کو برطرف کرنے کا اختیار تھا۔ لیکن اب یہ شق آئین میں موجود نہیں۔ اس وقت کے وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کی ہدایات پر پہلے روز حکومت احتجاج کرنے والوں کو کامیابی نہیں ہوئی۔ جماعت اسلامی کے دھرنا مارچ سے ایک روز قبل منی بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی کال پر ملک بھر میں پہیہ جام ہڑتال ہوئی۔ مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا واقعہ رونما ہوچکا تھا۔ لیکن دوسرے روز دھرنا مارچ کامیاب ہوا، کارکن پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئے۔ کہا جاتا ہے کہ رات کو ہی سیکڑوں کارکن مرگلہ کی پہاڑیوں پر چلے گئے تھے، جو صبح کو نیچے اتر آئے اور پارلیمنٹ ہائوس تک پہنچ گئے۔ احتجاجیوں کو پارلیمنٹ ہائوس میں داخل ہونے سے روکنے کے لئے مکمل ریہرسل کی تھی۔ پولیس کے بعض جتھوں کو فرضی مظاہریں بنایاگیا ریہرسل میں لاٹھی چارج، پتھرائو اور شیلنگ بھی کی گئی جس میں کئی پولیس اہلکار زخمی بھی ہوئے۔ ریہرسل میں بھی احتجاجی ہجوم پارلیمنٹ پہنہچ گیا، دوسرے روز اصل احتجاجی بھی پارلیمنٹ ہائوس پہنچ گئے تھے۔

ایک ڈیڑھ سال کے عرصے میں حکومت کو گرانا وقت سے پہلے ہے ۔ اور عمران خان کے جانے اور پوری اسمبلی کے جانے کی صورت میں نیا سیٹ اپ کسیے بنے گا اس میں بالادستی کس کی ہوگی؟ اس کے بارے میں شکوک وشہبات ہیں۔ پیپلزپارٹی اور نواز لیگ کو اور تحفطات بھی ہیں، لیکن ایک تحفظ یہ ہے کہ آئندہ بھی کوئی مولانا آکر دھرنا دے گا تو حکومت ختم کرنی پڑے گی۔ آئندہ بھی الیکشن ہونے ہیں۔ ایک جماعت حکومت بنائے گی، تو کیا باقی سڑکوں پر ہونگی؟

پیپلزپارٹی سینٹرل لیفٹ پارٹی اور نوازلیگ سینٹرل رائیٹ پارٹی سمجھی جاتی ہے۔وقت کے ساتھ دونوں پارٹیاں اس تقسیم کی بعض اوقات سرحدیں عبور کرتی رہی ہیں۔ نتیجتاً ان کا اصلی رنگ مختلف ہوتا رہا ہے۔تحریک انصاف بھی مجموعی طور پر سینٹرل رائیٹ پارٹی قرار دی جاتی ہے۔ کیا موجودہ ماحول کے بعد سیاست مزید رائیٹ کی طرف چلی جائے گی؟ عالمی اور خطے کی صورتحال میں یہ بات فٹ نہیں بیٹھ رہی؟ پھر یہ سوال ہے کہ آنے والے وقت میں مولانا فضل الرحمان کس پارٹی کی جگہ گھیرے گا؟ پیپلزپارٹی؟ نواز لیگ یا تحریک انصاف کی؟

دائیں بازو کی سیاسی قوت اور اسٹیبلشمنٹ پہلی مرتبہ ایک دوسرے کے آمنے سامنے آئی ہیں، ورنہ ماضی میں دائیں بازو کی سیاسی قوتیں پی این اے کی تحریک ہو، یا تحفظ پاکستان یا متحدہ مجلس عمل اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ کھڑی رہی ہیں۔ مولانا نے بہت جرأت مندی سے باتیں کی۔ اس محاذ آرائی میں اصل ٹارگیٹ عمران خان حکومت نہیں، اسٹیبلشمنٹ ہے۔ کیا اسٹیبلشمنٹ پیچھے ہٹتی ہے؟ طاقت کا استعمال، کوئی عدالتی کمیشن، یا کچھ اور…


ای پیپر