مستقبل کا دھندلا سا سیاسی منظر نامہ
04 نومبر 2019 2019-11-04

25 جو لائی 2018 ء کو ملک میں عام انتخابات ہوئے۔پاکستان تحریک انصاف کو اکثریت ملی۔لیکن وہ اس قابل نہیں تھی کہ اکیلے وفاق میں حکومت بنا سکے۔اس لئے پاکستان مسلم لیگ، ایم کیو ایم پاکستان،جی ڈی اے ، بلوچستان نیشنل پارٹی اور باپ کو ملاکر مخلوط حکومت بنانے میں کامیاب ہوئی۔عمران خان وزیر اعظم منتخب ہوئے۔لیکن ملک کی دیگر سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) ، پیپلز پارٹی ،جے یو آئی (ف) ،جماعت اسلامی ، پختون خوا ملی عوامی پارٹی ، اے این پی اور قومی وطن پارٹی نے دھاندلی کے الزامات لگا کر انتخابی نتا ئج تسلیم کرنے سے انکار کیا۔عام انتخابات میں وفاق میں مسلم لیگ (ن) پہلی اور پیپلز پارٹی دوسری بڑی پارلیمانی قوت حاصل کر سکی۔پنجاب میں حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کے دس سالہ تسلسل کو تحریک انصاف نے توڑ دیا ۔بلو چستان میں ان کو شکست ہوئی۔سندھ اور خیبر پختون خوا میں بھی ان کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔پیپلز پارٹی کو بھی پنجاب ،خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔جے یو آئی کے سربراہ مولانا فضل الرحمان ،جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ، اے این پی کے صدر اسفندیار ولی ،قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب شیرپائو،اور میپ کے سربراہ محمود خان اچکزئی کو انتخابات میں شکست ہوئی۔

انتخابات میں ناکامی کے بعد مستقبل کا لائحہ عمل طے کرنے کے لئے حزب اختلاف نے کل جماعتی کانفرنس بلائی ۔اس کانفرنس میں مو لانا فضل الرحمان نے تجویز دی کہ حزب اختلاف کے کامیاب ارکان اسمبلیوں کا حلف نہ لیں۔لیکن حزب اختلاف کی دونوں بڑی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے اس تجویز کو مسترد کیا۔اس دوران مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے درمیان غلط فہمیاں بھی پیدا ہوئی ۔ دونوں ایک دوسرے پر اعتماد کرنے کے لئے تیار نہیں تھیں۔مولانا فضل الرحمان بھی اس حقیقت سے واقف تھے ۔ اس لئے انھوں نے ملک میں انتخابی دھاندلی کے خلاف اکیلے احتجاج شروع کیا۔ انھوں نے ملک کے مختلف شہروں میں حکومت کے خلاف کامیاب احتجاجی جلسے کئے۔میڈیا نے اس احتجاج کو کوریج نہیں دی ۔ حزب اختلاف کی دیگر جماعتوں نے بھی ان کا ساتھ نہیں دیا۔جبکہ حکومت نے بھی اس احتجاج کو سنجیدگی سے نہیں لیا۔وزیر اعظم عمران خان اور وفاقی کابینہ کے ارکان اس احتجاج پر مو لانا فضل الرحمان کا مذاق اڑاتے رہے۔اس دوران وہ حزب اختلاف کو متحد کرنے اور حکومت کے خلاف مشترکہ طور پر گرم احتجاج کے لئے بھی متحرک رہے لیکن کامیاب نہ ہوسکے۔مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی سے مایوسی کے بعد انھوں نے 27 اکتوبر کو انتخابی دھاندلی کے خلاف احتجاج کا اعلان کیا۔اسفندیار ولی ،محمود خان اچکزئی اور آفتاب شیرپائو نے کھل کر ساتھ دینے کا وعدہ کیا ،جبکہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی آخری وقت تک بہانے بناتی رہی۔مولانا فضل الرحمان کا ’’آزادی مارچ ‘‘ اسلام آباد میں موجود ہے۔بڑی تعداد میں جے یو آئی کے کارکن کھلے میدان میں اپنے قائد کے اشارے کا انتظار کر رہے ہیں۔آزادی مارچ میں شرکا کی تعداد کو دیکھ کر مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے سربراہوں اور دیگر رہنمائوں نے بھی اب کھل کر مو لانا فضل الرحمان کا ساتھ دینے کا عہد کر لیا ہے۔ لیکن یاد رہے کہ اس مارچ میں ان دونوں جماعتوں کی کارکنوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے ۔جبکہ اے این پی اور پختون خوا میپ کے کارکنوں کی بڑی تعداد پنڈال میں مو جود ہے۔اس کے برعکس ابھی تک (ن) لیگ اور پیپلز پارٹی کے رہنمائوں کو مفت میں ایک بڑے جلسے سے روزانہ کی بنیاد پرتقریر کرنے کی سہولت میسر ہے۔

آزادی مارچ کے شرکاء اسلام آباد میں ڈیرے ڈال چکے ہیں۔ملک اس وقت سیاسی انتشار کا شکار ہے۔ہر کوئی سوچ اورپوچھ رہا ہے کہ اب کیا ہوگا؟وزیر اعظم عمران خان استعفیٰ دے دیں گے؟ اگر وہ استعفیٰ نہیںدیتے تو مولانا فضل الرحمان کا آئندہ کا لائحہ عمل کیا ہوسکتا ہے؟اگر وزیر اعظم عمران خان استعفیٰ نہیں دیتے تو کیا مو لانا اسلام آبادمیں کنٹینر میں پڑے رہیں گے یا وہ آگے بڑھیں گے؟اگر آگے بڑھیں گے تو حکومت کا ردعمل کیا ہوگا؟اگر مولانا فضل الرحمان کو گرفتار کیا جاتا ہے تو پھر صورت حال کیا ہوگی؟یہ اور اسی طرح کے دوسرے کئی سوالات کا مو جودہ حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جائزہ لیتے ہیں کہ مستقبل قریب میں ملک کا سیاسی منظر نامہ کیا رخ اختیار کرسکتا ہے۔

ابھی تک تو یہ بات واضح ہے کہ راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد کی فضا بر قرار ہے۔لیکن سوال یہ ہے کہ اگر دارالحکومت کو بند کردیا جاتا ہے تو کیا پھر بھی اعتماد کی یہ فضا برقرار رہے گی؟میرا نہیں خیال کہ حالات زیادہ خراب ہونے کی صورت میں راولپنڈی اور اسلام آباد کے درمیان اعتماد کی یہ فضا بہت دیر تک برقرار رہے۔اگر بالفرض اعتماد کی یہ فضا بر قرار بھی رہتی ہے تو پھر بھی حالات خراب ہونے کی صورت میں حل یہی ہوگا کہ راولپنڈی ،وزیر اعظم ہائوس کے مکین کو مڈٹرم انتخابات پر راضی کر ہی لیں گے۔اس لئے کہ وزیر اعظم عمران خان خود بھی وسط مدتی انتخابات کے لئے تیار ہیں۔ اگر مڈم ٹرم انتخابات ہو جاتے ہیں تو اس کی کیا ضمانت ہے کہ ناکام سیاسی جماعتیں نتائج کو تسلیم کر لیں گی اور اکثریتی جماعت کو پانچ سال حکومت کرنے دیں گی۔اگر مڈٹرم انتخابات میں مسلم لیگ (ن) یا پیپلز پارٹی کو اکثریت مل جاتی ہے تو پھر امکان موجود ہے کہ دونوں ایک دوسرے کو برداشت کر سکیں ۔لیکن کیا یہ ممکن ہے کہ مڈ ٹرم انتخابات میں شکست کے بعد تحریک انصاف حکومت کو چلنے دے گی ۔ اس کے برعکس اگر تحریک انصاف دوبارہ اکثریت حا صل کرتی ہے تو کیا مو جودہ حزب اختلاف نتائج تسلیم کر لے گی؟اگر حکومت مڈٹرم انتخابات پر راضی ہو جاتی ہے تو اس بات کی ضمانت کون دیگا کہ انتخابی نتائج کو تسلیم کیا جائے گا؟اگر یہ ضمانت کو ئی دینے پر تیار نہیںاور وزیر اعظم عمران خان بھی استعفیٰ دینے کے لئے رضامند نہیں ہوتے تو پھر کیا ہوگا؟کیا فوج اقتدار پر قبضہ کر یگی؟ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو کیا سیاسی جماعتیں زیادہ دیر تک ان کی حکومت کو تسلیم کرنے پر رضامند ہوگی؟لگ ایسے رہا ہے کہ فوج اقتدار پر قبضہ کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی۔اگر صورت حال اس طرح پیچیدہ رہی تو پھر ہوگا کیا؟ پاکستان میں کسی انہونی کا ہونا کوئی ناممکن نہیں۔لیکن اب بھی حالات کا تمام تردارومدار اس بات پر ہے کہ جب تک راولپنڈی ،اسلام آباد کے سنگ ہیں حکومت کا پلڑا بھاری رہے گا۔اسی طرح اگر حزب اختلاف کی دونوں بڑی سیاسی جماعتوں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی نے مو لانا فضل الرحمان کا ساتھ نہیں چھو ڑا تو پھر نتا ئج ان کے حق میں ہوسکتے ہیں۔مگر افسوس کہ جوڑ توڑ اور ساز بازکے حوالے سے ان دونوں جماعتوں کا ماضی شاندار نہیں۔جبکہ اکیلے مو لانا فضل الرحمان کے لئے مرضی کے نتائج حاصل کرنا ممکن نہیں۔ابھی تک کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہا جاسکتا ہے کہ دونوں طرف سے ڈھیل اور ڈیل ہو سکتی ہے۔لیکن یہ بھی کوئی حتمی رائے نہیںجب تک کہ واقعہ ہونے والا واقعہ ہو نہیں جاتا۔


ای پیپر