پس چہ باید کرد یا مولانا
04 نومبر 2019 2019-11-04

تحریک انصاف کی حکومت کے اقتدار کو ابھی صرف تیرہ ماہ ہی ہوئے ہیں کہ اس کو ایک انتہائی سخت سیاسی مخالفت کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ اپوزیشن کی تمام سیاسی جماعتیں جمعیت علماء اسلام کے آزادی مارچ میں شریک ہیں۔ ادھر جمعیت کا آزادی مارچ اسلام آباد پہنچا توحکومت نے افہام و تفہیم کی فضا پیدا کرنے کی بجائے جارحانہ رویہ اختیار کیا ۔ اس کی وجہ بھی یہی ہے کہ دلیل اور کارکردگی کے باب میں بانجھ حکومت اور سیاسی جماعت کر بھی کیا سکتی ہے۔وزیر اعظم عمران خان نے گلگت بلتستان کے دورے کے دوران جہاںانہوں نے آزادی پریڈ میں شرکت کی اور گلگت بلتستان کے ان شہید اسکائوٹس کی یادگار پر پھول چڑھائے جنہوں نے یکم نومبر انیس سو سنتالیس میں اپنے زور بازو سے خطے کو ڈوگرہ سامراج سے آزاد کروایا تھا۔وزیراعظم نے اس کے علاوہ ایک جلسے سے خطاب بھی کیا۔ جلسے سے خطاب کرتے ہوئے مولانا فضل الرحمٰن پر انتہائی رکیک جملے کسے ۔ انہوں نے مولانا فضل الرحمٰن کو یہودی سازش کا آلہ کار قرار دیتے ہوئے کشمیر کمیٹی کی چیئر مین شپ اور ڈیزل کے پرمٹ کے حوالے سے بھی انھیں تنقید کا نشانہ بنایا ۔ لیکن شاید وزیر اعظم یہ بھول گئے کہ ان کے دو فرزند تو رہتے ہی یہودیوں کے گھر میں ہیں۔ وہ یہ بھی بھول گئے کہ انہوں نے لندن کے مئیر کے انتخاب میں اپنے سابقہ یہودی سالے کی انتخابی مہم بھی چلائی لیکن ان کی اپیل بے فائدہ رہی اور صادق خان لندن کے مئیر منتخب ہوئے۔ اردو زبان کا محاورہ ہے کہ چھاج بولے سو بولے چھلنی کیوں بولے، مگر یہاں پنجاب کے وزیر طلاعات و ثقافت میاں اسلم اقبال بھی پیچھے نہ رہے اور انہوں نے مولانا مفتی محمودکے حوالے سے کہا کہ وہ کہا کرتے تھے کہ ’’ شکر ہے کہ ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شریک نہیں تھے‘‘۔ ولی خان پر الزام دھر دیا کہ ان والد باچا خان نے پاکستان میں دفن ہونا پسند نہیں کیاتھا ۔ لیکن ان کی گفتگو سن کر صاف محسوس ہو رہا تھا کہ ان کی معلومات ناقص، نامکمل اور پس منظر سے ناواقفیت پر مبنی ہیں۔ اسی لیے نہ تو ان کی بات میں وزن تھا نہ ہی ان کی زبان ان کے الفاظ کا ساتھ دے پا رہی تھی۔ تاریخ آزادی سے نابلد میاں اسلم اقبال نے دیو بند اور باچا خان کی انگریز کے خلاف جدوجہد کو سرے ہی سے نظر انداز کردیا۔ انہوں نے مفتی محمود مرحوم پرتنقید تو کردی لیکن تحریک انصاف میں کہیں کی اینٹ ، کہیں کا روڑا بھان متی نے کنبہ جوڑا کے مصداق جو جاگیر دار اور وڈیرے آج تحریک انصاف کا حصہ ہیں جن کی انگریز کی تابعداری کی داستانیں تاریخ کا حصہ ہیں ان کے بارے میں موصوف کیا فرمائیں گے؟ باچا خان نے اگر پاکستان میںدفن ہونا پسند نہیں کیا تو وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے آبائو اجداد کے بارے میں موصوف کی کیا رائے ہے ؟ جن کا خاندان آج بھی اپنے ماضی پر شرمندگی کی بجائے فخر محسوس کرتا ہے۔

مولانا فضل الرحمٰن نے بھی اپنے پہلے خطاب میں وزیر اعظم کو استعفیٰ کے لیے دو دن کی مہلت دے دی اور یہاں تک کہ دیا کہ اگر انہوں نے ایسا نہ کیا تو یہ مجمع وزیراعظم ہاوس میں داخل ہو کر ان سے استعفیٰ لینے کی قدرت رکھتا ہے۔ مولانا کے اس جملے کی بنیادپر حکومت مولانا پر بغاوت کے مقدمے کے لیے عدالت سے رجوع کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ تحریک انصاف کو بہت جلد سیاسی مکافات عمل کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اقتدار کے حصول کی بے چینی اور ضد میں تحریک انصاف نے جو فصل کاشت کی تھی آج وہی فصل اسے کاٹنی پڑرہی ہے۔ آج حکومت ریڈ زون کی حساسیت پر فکر مند ہے تو کل یہی ریڈ زون تھا جہاں رکھے کنٹینروں کو ہٹانے کے لئے عمران خان کرین ساتھ لیے لیے پھر رہے تھے۔ اسلام آباد کے آئی جی اور پولیس کے اہلکاروں کو کس نے اپنے ہاتھ سے پھانسی دینے کا اعلان کیا تھا؟۔ موجودہ صورتحال میں حالات کو مثبت رخ پر لے جانے کی سب سے زیادہ ذمہ داری حکومت پر ہی عائد ہوتی ہے، لیکن لگتا یہی ہے کابینہ میں شامل افراد خود انارکی پھیلانا چاہتے ہیں کیونکہ ہر وزیر اور مشیر کی بدن بولی ان ہاوس تبدیلی کی صورت میں وزیراعظم بننے کے لیے بے تابی ظاہر کررہی ہے ۔ ایسے میں عمران خان تنہا ہیں اور ہونا بھی چاہیئے کہ ایسے وزیروں اور مشیروں کا تقرر خود ان کا اپنا حُسنِ انتخاب ہے۔

لیکن جہاں انارکی اور افراتفری کو روکنے کی ذمہ داری حکومت پر ہے اتنی ہی آزادی مارچ میں شامل سیاسی جماعتوں اور خاص کر مولانا فضل الرحمٰن کی بھی ہے۔ یہ درست ہے کہ خاص کر دو ہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد جمعیت علماء اسلام کی افرادی قوت کے حوالے سے حکومت اور دیگر سیاسی جماعتوں کی جانب سے وہ مقام نہیں دیا گیا اور جمعیت کو ہمیشہ ایک اتحادی اور تیسرے درجے کی جماعت کے طور پر ساتھ رکھا جاتا رہا ہے۔ لیکن آزادی مارچ کے شو سے مولانا نے اپنی افرادی قوت کو ثابت کردیا ہے، اور پاکستان پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ن کے شہباز شریف دھرنے کی مخالف کی باوجود طوعاً کرہاً شرکت پر مجبور ہوئے۔ اسّی کی ہی دہائی میں جب پیپلز پارٹی کی حکومت کے خلاف آئی جے آئی کی تشکیل ہوئی تو فیصلہ سازی کی قوت مسلم لیگ کے پاس تھی۔ مشرف کے دور میں جب ایم ایم اے قائم ہوئی تو فیصلہ سازی مذہبی جماعتوں کے پاس تھی کہ مسلم لیگ ن اس وقت مشرف کے زیر عتاب تھی اور بے نظیر بھٹو ملک سے باہر تھیں۔ لیکن آج آزادی مارچ کے کامیابی کے بعدمتحدہ اپوزیشن میں جمعیت کو فیصلہ سازی میں اہم کردار حاصل ہوگا۔تازہ صورتحال کے مطابق آزادی مارچ کا بنیادی مقصد وزیراعظم کا استعفیٰ اور فوج کی نگرانی کے بغیر نئے صاف اور شفاف انتخابات ہیں۔ جس کے لیے اسمبلیوں سے استعفے، لاک ڈائون اور قومی شاہراہوں کو بند کرنے کی تجاویز بھی اپوزیشن کے زیر غور ہیں۔ لیکن کیا یہ اقدامات مناسب ہیں ؟ اسّی کی دہائی میں یقینا یہ ہماری سیاسی تاریخ ایسے ہی اقدامات سے عبار ت رہی ہے۔ لیکن آج ربع صدی کے بعد بھی ہڑتال اور جلائو گھیرائو کے رویوں کو فروغ دینا مناسب نہیں ہے۔ مولانا فضل الرحمٰن اپنی سیاسی قوت کا مظاہرہ کرکے حکومت پر کاری ضرب لگانے میں کامیاب ہوچکے ہیں۔ مناسب ہوگا کہ تحریک انصاف کی حکومت سے نجات کے لیے آئینی اور سیاسی اقدامات ہی اٹھائے جانے چاہیں۔ جس کے لیے اسمبلیوں سے استعفے ایک اہم اور بنیادی ہتھیار ہیں اور جس کی تائید مسلم لیگ کے قائد نواز شریف بھی یہ کہہ کر کرچکے ہیں کہ دوہزار اٹھارہ کے انتخابات کے بعد استعفوں سے متعلق مولانا کا مشورہ نہ ماننا مناسب نہیں تھا۔ ملک میں معیشت کا جمود ، بے روزگاری اور مہنگائی اپنی انتہا پر ہے۔ ایسے میں سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے پورے ملک کو بند کرنا عوام کے لیے مزید مشکلات پیدا کرنے کے مترادف ہوگا۔


ای پیپر