درندہ صفت مودی کے اوچھے حربے!
04 نومبر 2019 2019-11-04

بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اپنی بھیڑیا صفت درندگی مسلسل جاری رکھے ہوئے ہے۔ بھارتی دستور کی دفعہ 370کو ختم کر کے کشمیر میں ظلم و ستم میں بے پناہ اضافہ کرنے کا یہ مجرم مزید گھنائونے جرائم کا ارتکاب کر رہا ہے۔یورپ کے مختلف ممالک اور یورپی یونین کی اسمبلیوں سے ان ممبران پارلیمان کو جو خود کو نازی شمار کرتے ہیں اور انتہا پسندی کے ساتھ مسلم دشمنی ان کا منشور ہے، بھارت میں مدعو کیا گیا ہے۔ انھیں جموں و کشمیر کا دورہ کروایا جا رہا ہے تاکہ ان کی آنکھیں مسلم کشی کو دیکھ کر ٹھنڈی ہو جائیں اور وہ اپنے ملکوں میں بھارت نواز پروپیگنڈا کر کے مسئلہ کشمیر کو مشتبہ بنا دیں۔ یہ جتنے بھی لوگ آئے ہیں ان سب کا ریکارڈ یہ ہے کہ وہ اپنے اپنے ملکوں میں اسلامو فوبیا کا اعلان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ یورپ کی سرزمین سے ہر مسلمان کو دیس نکالا دیا جائے۔ ان میں سے بعض ایسے شرانگیز ہیں کہ وہ مسلمانوں کا خون گرانے کی دہشت گردانہ باتیں بھی کرتے ہیں مگر ان کو کوئی دہشت گرد قرار نہیں دیتا کیوںکہ یہ سفید چمڑی کے لوگ ہیں۔ بحیثیت مجموعی یہ مسلمانوں کے علاوہ دیگر غیریورپی آبادیوں کو بھی یورپ سے دیس نکالا دینے کے مدعی ہیں۔

خبر پڑھیں:خاموشی کا فن

نازی ذہن کے حامل ان ارکان پارلیمان کی آمد پر بھارتی لوک سبھا کے حیدر آباد دکن سے ممبر پارلیمنٹ اور آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کھل کر کشمیریوں کی حمایت اور بھارتی حکومت کی مذمت کی ہے۔ انھوں نے ’’انڈیا ٹو ڈے‘‘ ٹی وی کو جرأت مندانہ انٹرویو دیتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتی حکومت نے وادی کشمیر میں ایسے لوگوں کو بھیج کر اپنے جرائم پر پردہ ڈالنے کی ناکام کوشش کی ہے۔ یہ 23 افراد یورپ کے مختلف ممالک اور یورپی یونین کی اسمبلی کے ارکان ہیں۔ سب کی شہرت اپنے خیالات و نظریات کی وجہ سے پورے یورپ میں انتہاپسند اور نازی ازم کے پرچار ک کی ہے۔ اویسی صاحب نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی حکومت کی دوغلی پالیسی قابل مذمت ہے۔ ایک جانب اپنے ملک کے ارکان پارلیمان کو کشمیر جانے کی اجازت نہیں دے رہی اور دوسری طرف اپنی من پسند کے ارکان کو یورپ سے بلا کر اپنے سیاہ کرتوتوں پر پردہ ڈالنا چاہتی ہے۔

غیر جانبدار ملکی اور غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندگان اور مبصرین نے جب بھی کوشش کی کہ وہ مقبوضہ کشمیر میں جا کر لوگوں سے حالات معلوم کریں تو بھارتی حکومت نے ان کا راستہ روک دیا۔ برطانیہ سے یورپین یونین کے ایک رکن کرس ڈیویز (Chris Davies) جس کا تعلق برطانیہ کی لبرل ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے نے دعوت ملنے پر مطالبہ کیا کہ اسے عام لوگوں سے بغیر حکومتی کارندوں کے آزادانہ ملاقات کی اجازت دی جائے، جس پر بھارتی حکومت نے ایسا کرنے سے معذرت کر دی۔ اس نے دعوت کو ٹھکراتے ہوئے کہا کہ جس حلقے سے میں یورپی یونین کی پارلیمان میں منتخب ہوا ہوں اس میں کشمیر سے تعلق رکھنے والے ووٹرز کی بڑی تعداد آباد ہے۔ میں ان کو کیا جواب دوں گا۔ ایسی دعوت کو میں ایک دھوکا اور منافقت سمجھتا ہوں چناںچہ اس نے بھارت جانے اور مقبوضہ کشمیر میں کنٹرولڈ وزٹ کو مسترد کر دیا۔ یہ بھی اطلاع ہے کہ اس کے بارے میں دعوت دینے والوں کے اندازے درست نہ تھے۔ وہ اس طرح کا نازی ذہن نہیں رکھتا جس طرح کے دیگر مدعوّین ہیں۔

اسد الدین اویسی کے علاوہ اس سے قبل بہت سے اپوزیشن رہنمائوں اور ارکان پارلیمان نے بھی اس وفد کی تشکیل اور اس کے دورے کی تفصیلات کو ملمع کاری قرار دیا۔ کانگریس کے رہنمائوں راہول گاندھی اور غلام نبی آزاد نے سخت الفاظ میں احتجاج کیا کہ مودی دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی ناکام کوشش کر رہا ہے۔ پوری دنیا اس بات پر حیران ہے کہ ڈھائی مہینوں سے زائد مدت بیت گئی، کشمیری عوام کے روابط وادی کے اندر بھی اور عالمی سطح پر بھی مکمل طور پر منقطع کیے گئے ہیں۔ اس کی مثال دنیا کی تاریخ میں شائد ہی کہیں ملتی ہو۔ اویسی صاحب نے یہ بھی کہا کہ مودی حکومت واضح طور پر یہ بھی نہیں بتا رہی کہ ان لوگوں کو مدعو کس نے کیا ہے؟ صرف اتنا بتاتے ہیں کہ ایک این جی او نے یہ اہتمام کیا ہے۔ گویا مودی حکومت کی خارجہ پالیسی این جی اوز چلا رہی ہیں۔ کیا مضحکہ خیز موقف ہے۔

کشمیر میں دستور کی دفعہ 370ختم کرنے کے بعد 31اکتوبر کو مودی نے کشمیر کی ہئیت مکمل طور پر تبدیل کر دی ہے۔کشمیر اور لداخ میں عوام متعصب اور ظالم ہندو گورنرمقرر کر دیے گئے ہیں۔ عوام کے دستوری حقوق مکمل طور پر ختم کر کے انھیں یونین کا حصہ بنا دیا گیا ہے۔ یو این او کی قراردادوں اور پاک بھارت حکومتوں کے تمام معاہدوں کو پس پشت ڈالتے ہوئے فیصلہ کر دیا گیا ہے کہ کشمیر کی کوئی خصوصی حیثیت نہیں ہے، اب نئے انتظام کے تحت نظام تعلیم مکمل طور پر ہندو توا کی عکاسی کرے گا۔ اردو کی بجائے تعلیم ہندی یا انگریزی میں دی جائے گی۔ تمام تعلیمی اداروں میں مسلمان طلبہ و طالبات کو ’’بندے ماترم‘‘ گانا پڑے گا۔ غرض کشمیر کو مکمل طور پر اپاہج بنانے کی پالیسی کا آغاز ہو گیا ہے۔ پہلے کشمیر میں غیر کشمیری لوگ جائداد نہیں خرید سکتے تھے، اب بھارت کا کوئی بھی آدمی جہاں چاہے جائدادیں خریدے۔

یہ ظلم کی انتہا ہے جسے کشمیریوں نے مسترد کر دیا ہے۔ وہ ہر قربانی دینے کے لیے تیار ہیں مگر غلامی کا جوا اپنے گلے سے نکالنے کا عزم کیے ہوئے ہیں۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ جو کشمیری ہمیشہ پاکستان کے نعرے لگاتے تھے ان کے درمیان بھی اب یہ آوازیں سننے میں آ رہی ہیں کہ پاکستان اور اس کا حکمران ٹولہ ہمارا تماشا دیکھتا رہا۔ اب ہمیں اپنے موقف پر نئے سرے سے غور کرنا ہو گا۔ یہ بات ٹھیک ہے کہ کشمیریوں کی بہت بھاری اکثریت اب بھی پاکستان سے وفاداری اور محبت سے سرشار ہے اور وہ یہ کہتے ہوئے سنے گئے ہیں کہ ہم حکومتوں سے محبت کا اظہار کرنے کی بجائے پاک سرزمین سے عشق کرتے ہیں اور پاکستان کے عوام ہمارے ہمدود و غمگسار ہیں۔ ہمارا اور ان کا رشتہ لا الہ الا اللہ ہے جو کبھی ٹوٹ نہیں سکتا۔

بھارت عالمی مارکیٹ میں جھوٹ فروخت کر رہا ہے کیوںکہ اس کے سفارتی نمائندے بہت فعال ہیں۔ ہم سچ کو پروموٹ کرنے میں بھی ناکام ہیں۔ اس کی وجہ سب کو معلوم ہے۔ بھارتی آرمی چیف جنرل بپن راوت بھی آئے روز گیڈر بھبکیاں دیتا رہتا ہے۔پچھلے دنوں اس نے یہ بکواس بھی کی تھی کہ ہم نے پاکستانی کشمیر میں دہشت گردوں کے اڈے تباہ کر دیے ہیں۔ اس پر ڈی جی آئی ایس پی آر جنرل عبدالغفور غواص نے فوری طور پر اسلام آباد میں تمام غیر ملکی سفارت کاروں کو دعوت دی کہ وہ اپنی آنکھوں سے جا کر دیکھ لیں کہ جہاں بھارتی چوکیوں سے بمباری ہوئی ہے وہاں عام لوگوں کے گھر اور دیہات تباہ ہوئے ہیں۔ اس کے مقابلے میں بھارت میں پاکستان نے جہاں جارحیت کا جواب دیا ہے وہاں بھارتی مورچے نشانہ بنائے گئے ہیں۔ بھارتی سفیر کو بھی دعوت دی گئی، مگر شرم کے مارے اس نے دعوت قبول نہ کی۔ دیگر سفارتی نمائندوں نے خود اپنی آنکھوں سے موقع پر جا کر منظر دیکھا اور میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ بھارتی آرمی چیف کا بیان بالکل خلاف واقعہ اور جھوٹ کاپلندہ ہے۔

اسی طرح اگر ہمارے تمام سفارتی نمائندے اور وزارت خارجہ کے کارندے فعال ہو جائیں تو ہم کیوں نہ اپنا کیس دنیا کے غیرجانبدار اور باضمیر لوگوں سے منوا سکیں۔ مظلوم کشمیریوں کا کیس اتنا مضبوط ہے کہ دنیا بھر میں ان کے حق میں آواز اٹھانے والے پوری مستعدی سے یہ فریضہ ادا کر رہے ہیں۔ کشمیریوں کے حوصلے بلند ہیں۔ ان شاء اللہ وہ کامیابی سے ہمکنار ہوں گے۔ اللہ کے ہاں دیر ہے اندھیر نہیں۔ مودی کا مقدر رسوائی اور ذلت کے سوا کچھ نہیں ہو گا۔


ای پیپر