بلی کے لیے دروازے بند نہ کریں
04 نومبر 2019 2019-11-04

مولانا کا لانگ مارچ ٹی وی سکرین پر ایسی کوریج کے ساتھ نہیں آ رہا جیسی کوریج عمران خان کے جلوسوں ، جلسوں اور دھرنے کو ملی۔ اس کی وجہ نئی نسل کو تو علم نہیں لیکن ہم یہ رویے نوٹنکیاں، نا انصافیاں، شعبدہ بازیاں اور سراب کے پیچھے دوڑ 1977ء سے دیکھ رہے ہیں۔ 126 دن عمران خان ایمپائر کا ذکر کرتے رہے انگلی کا انتظار اور ذکر کرتے رہے کہیں سے سوال نہ کیا گیا کہ ایمپائر کون ہے۔ مولانا کی تقریر کے چند الفاظ پر وضاحت آ گئی ’’ہم کسی پارٹی کی نہیں جمہوری طور پر منتخب حکومت کی حمایت کر رہے ہیں‘‘۔

میاں نواز شریف ، آصف علی زرداری کیا منتخب نہ تھے جو عمران خان کے لیے آئین ، قوانین خاموش کر دیئے گئے۔ مولانا نے حکومت اور اداروں کو جب د ودن کی مہلت دی۔ دوسری طرف ’’وزیراعظم‘‘ نے اپوزیشن کو سیاسی بے روزگار قرار دیا گویا حمید گل سے لے کر اب تک کے 22 سالہ سفر کے بعد وزیراعظم کو سیاسی روزگار مل گیا۔ فرماتے ہیں مولانا بھارتی میڈیا پر زیادہ دکھائے جاتے ہیں۔ ایک تقریب میں حافظ سعید صاحب کے ساتھ سٹیج پر میں بھی تھا۔ حافظ صاحب کی بدولت مجھے بھی بھارت کے تمام چینلز پر دکھایا گیا۔ یہ پروگرام ایک کالمسٹ کلب کے سٹیج پر تھا۔ گویا حافظ صاحب دکھائے جائیں تو وہ بھارت مخالف اور مولانا فضل الرحمن ہوں وہ اس کے برعکس ہیں۔

اسحق ڈار کے والد کی سائیکلوں کی دکان تھی۔ حکومتی سواریوں میں بھی دیکھ لیں کس کا والد کیا تھا۔ ایسی باتیں وزیراعظم کے عہدے پر کی جائیں تو پھر جواب ضرور آتا ہے ایک دفعہ بلاول نے کہا تھا۔ نیازی تم میرے باپ کی بات کرتے رہتے ہو کبھی اپنے والد کی بات بھی کرو۔ میں نے بیوروکریسی اور سیاست میں ردی فروشوں، پھل فروشوں حتیٰ کہ ریلوے کے حوالداروں، پنجاب پولیس کے سپاہیوں کی اولادوں بلکہ کوڑا کرکٹ سے رزق تلاش کرنے والوں کی اولادوں کو اربوں پتی دیکھا۔ وزیراعظم جب تک اپوزیشن کی زبان میں بات کریں گے عوام کے مسائل حل نہ ہو پائیں گے۔ اب سابقہ حکومتوں، ورثہ میں ملنے والے حالات اور NRO نہ دینے کا چورن بکنے والا نہیں۔ ایک اینکر نے کہا کہ مجھے مولانا کے سٹیج پر پی این اے یاد آ گیا یہ تو نظر نظر کی بات ہے جبکہ مجھے ایم آر ڈی یاد آ گئی جو ضیاء آمریت کے خلاف تھی۔ جب وطن عزیز کی مقبول ترین قیادت پابند سلاسل، جلا وطن، جیلوں اور مقدمات میں تھی۔ مختلف الخیال جماعتیں اور رہنما ایم آر ڈی کی صورت اختیار کر گئیں۔ آج سے صرف ایک سال پہلے عمران خان اور پی ٹی آئی کے متعلق کوئی بات نہیں کر سکتا تھا۔ آج کیا وجہ ہے کہ مولانا جن کی تذلیل سر فہرست تھی غیر منتخب آدمی ہیں حکومتی ٹیم جوق در جوق حاضری دے رہی اور متعلقہ اداروں سے رجوع کی بات کی جا رہی ہے۔ کہاں مولانا اور کہاں آج کا آج مارچ ۔ دراصل یہ حکومت کے خلاف عوام کے غیظ و غضب کا اظہار ہے۔ جس طرح پرویز مشرف کے دور میں حقیقی قیادت جلا وطن تھی جسٹس افتخار یا عدلیہ کے لیے وکلاء کی تحریک، پرویز مشرف کی حکومت کو بہا لے گئی آج ملکی قیادت پابند سلال یا ٹارگٹ ہے تو عوام کی زبوں حالی اور ملکی موجودہ صورت حال نے عوام کی نظریں مولانا کی طرف کر دیں۔ یہ مکافات عمل وطن عزیز میں 1977ء کے مارشل لاء کے نتیجے سے جاری ہے۔

دائرے کا سفر، سیراب کا دھوکہ، حکمران طبقوں کے مسلسل جھوٹوں اور بے حسی نے عوام کا نظام سے اعتماد ختم کر دیا ۔ خوف میں مبتلا قوم کبھی ترقی نہیں کر پاتی۔ حکومت اور اداروں کی اولین ذمہ داری ہے کہ لوگوں کا نظام پر اعتماد بحال کریں ۔ خوف سے نجات دلا دیں۔ ورنہ ظلمتوں، ذلتوں، بے بسی کے مارے لوگ زندگی کی نسبت موت کو ترجیح دیں گے اور اب کی بار خود کشی نہیں لڑ مرنے میں اپنی بقاء پائیں گے۔ بازار رب کی نعمتوں سے بھرے پڑے ہیں مگر کسی کی پہنچ میں نہیں۔ بازار سُونے، ہسپتال لوگوں سے اٹے ہوئے سوائے کرپشن کے کوئی کاروبار نہیں یا پھر حکومت کا گلشن کا کاروبار ہے۔ خدارا وطن عزیز کی عوام کا خیال کیا جائے۔ بلی کے لیے تمام دروازے اور کھڑکیاں بند نہ کی جائیں ورنہ آنکھیں خطرے میں ہوں گی جیسے آج کل مودی کی مقبوضہ کشمیر کے حوالے سے ہیں۔

کسی اینکر نے ٹی وی پر کہا تھا یہ اجارتوں کا دور ہے میں کہتا ہوں نہیں گنبد کی آوازوں کے لوٹ آنے کا دور ہے۔ عمران خان دنیا میں واحد سیاست دان ہے جس نے اپنی زبان انداز ، الفاظ سے اپنی قوم میں نفرت، بدتمیزی ، کہہ مکرنی کو سیاست کا اصول بنایا۔ آج آپ کسی بھی موضوع پر کسی بھی موقع پر عمران خان کی پرانی تقریر سن لیں اور دیکھیں کہ قدرت نے وہی موضوع ، وہی موقع وہی منظر اس کے سامنے کاکر دیا اور اس کا مؤقف پرانے مؤقف کے بالکل برعکس آیا۔ سب سے زیادہ تذلیل مولانا کی کی گئی۔ سب سے زیادہ سماجتوں کا سلسلہ بھی مولانا سے ہی شروع کیا۔ انہوں نے پھر بھی جلسہ میں گو شیطان گو کے نعرے منع کروا دیئے۔ مجھے محترمہ شہید کا چھوٹا سابیان یاد ہے کہ ہمیں اقتدار چاہیے مگر ہر قیمت پر نہیں مگر عمران خان نے اقتدار ہر قیمت پر لیا۔ شیخ رشید مورت جس کو چپڑاسی رکھنا گوارا نہ تھا، پنجاب کا سب سے بڑا ڈاکو چوہدری پرویز الٰہی ایجنسیوں کا سیاست میں کردار، فواد چوہدری اور فردوس عمران کو کیا کہتے تھے حتیٰ کہ اگلے روز عمران خان ٹی وی سکرین پر عمران کی امریکہ کی سیتا وائٹ سے بیٹی ٹیرن کی parentage کا سوال کرنے والا بابر اعوان کا بینہ میں بیٹھا پایا گیا۔ نواز شریف سے استعفیٰ مانگا تھا مولانا نے بھی استعفیٰ ہی مانگا تھا۔ عمران نے قوم اور نئی نسل کو نئی سیاست سیکھائی الزام لگا اور آگے نکلو بات پر قائم نہ رہو۔ بدتمیزی کرو اور جی بھر کر کرو حتیٰ کہ عامر لیاقت ، فردوس عاشق اعوان ، صوبائی وزیر جن کا شہرہ کرکٹ میچوں کے حوالے سے ہے، پی ٹی آئی میں آتے ہی بد تمیزی بد زبانی الزام تراشی وتیرہ ثابت کرنے پر مصر ہیں۔ آج کا طرز حکمرانی ڈرامہ ہے جیسے کامیڈی تھیٹر کی کوئی اگلی بات اور سچوایشن سنجیدہ اور کسی دوسری سے ملتی نہیں۔ پہلے دن شدنی چھوڑی کہ وزیراعظم ہاؤس کی گاڑیاں بھینسیں، گورنر ہاؤس کی دیوار کو ہتھوڑا ، مسافر خانے پولیس وردی کی تبدیلی کی طرح اب پٹواری کا نام… ویلج آفیسر ایسے ہی ہے جیسے لائلپور کو فیصل آباد کہہ دیا گیا۔ عجیب ڈرامے سے آئے اور رنگ بازی سے پالیسیوں کی شروعات کی۔ اسد عمر ایسے گیا جیسے کبھی آیا ہی نہ تھا۔سیاسی جلسوں میں ساری معاشی پہلوانی اس کے کندھوں پر کی جاتی ۔ عمران خان اور ان کے ساتھیوں کی شروعات سیاست، پارٹی میں لوگوں اور چہروں کی شمولیت سیاسی کنسرٹ کا کوئی ایک پہلو ایسا نہ تھا جس کو دیکھ کر کوئی مثبت امید لگائی جائے نہ جانے وہ کون سے لوگ ہیں جو اس کو لیڈر مانتے تھے۔ جس نے اپنی پالیسیوں سے اپوزیشن حکومتی وزراء، اسٹیبلشمنٹ، عدلیہ، عوام، بیورو کریسی گویا کہ ریاست کے تمام طبقات کو کمرے میں بند بلیوں کیفیت میں مبتلا کر دیا جو آنکھیں نوچنے پر اتر آئے لہٰذا بلیوں کے لیے تمام دروازے بند نہ کیے جائیں۔ مریم نواز کی عدالت نے درخواست ضمانت ٹی وی سکرین پر کچھ لوگ پوچھتے ہیں کہ مقدمہ کا اثر ہو گا ان کو علم نہیں کہ مقدمہ میں سقم ہو تو ضمانت ہوا کرتی ہے۔


ای پیپر