’’دیارِ شمس‘‘
04 نومبر 2019 2019-11-04

میں گزشتہ کئی دنو ں سے ان کتابوں کے مطالعے میں مصروف ہوں جوخاص اہمیت کی حامل ہیں‘ان میں کچھ وہ کتب بھی تھیں جو ترجمہ ہوئیں اور کچھ وہ بھی جو اردو میں لکھی گئیں۔اس سیریز میں رو سو کی’’معاہدہَ عمرانی‘‘ اورافلاطون کی ’’ مکالمات افلاطون‘‘ سمیت کئی اہم کتب پہ قسط وار کالم لکھے جو قارئین نے بے حد پسند بھی کیے۔آج کا کالم ایک ایسی کتاب پہ ہے جو رواں ماہ مارکیٹ میں آئی اور اس کی دھوم سرحد پار بھی جا پہنچی۔یہ کتاب بنیادی طور پر ترکی کا سفر نامہ ہے جس کے خالق معروف محقق و دانشور اور اقبال شناس پروفیسر ڈاکٹر زاہد منیر عامر ہیں۔ڈاکٹر صاحب کی یہ خوبی تو ہم سب جانتے ہیں کہ انہیں گفتگو کا خدا نے ایسا ملکہ عطا کیا ہے کہ جو بھی ان کے پاس بیٹھا‘ان کی علمی و ادبی گفتگو اور ان کی سیاحت کے واقعات سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا۔ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا شمار بلاشبہ اردو کے ان محققین میں ہوتا ہے جن کی قابلیت و لیاقت کا ایک زمانہ معترف ہے۔پاکستان ہی نہیں بلکہ سرحد پار بھی ان کی شاعری اور نثری کتب کو نہ صرف مختلف زبانوں میں ترجمہ کیا گیا بلکہ ان کے کام پر پاکستان‘ترکی‘مصر‘یونان اور جرمنی سمیت مختلف جامعات میں تحقیقی مقالات بھی لکھوائے گئے۔میں خود کو خوش قسمت انسان سمجھتا ہوں کہ مجھے اوری اینٹل کالج‘جامعہ پنجاب میں ان کی شاگردی کا اعزاز بھی نصیب ہوا اورزمانہ طالب علمی سے بننے والا تعلقات آج تک قائم ہے اور ان کی کتب اور گفتگو نے ہمیشہ مجھے نہ صرف متاثر کیا بلکہ میرے لیے علم کی نئی راہیں متعین کیں۔

’’دیارِ شمس ‘‘ان کا ترکی کا تازہ سفرنامہ ہے جس میں انھوں نے نہ صرف ترکی کی سیر سے اپنے قارئین کو لطف اندوز کیا بلکہ ترکی کی مختلف جامعات اور سیمینارز میں دیے جانے والے خطبات کو بھی یکجا کر دیا۔اس سے قاری کو یہ سہولت ہو گئی کہ وہ ڈاکٹر زاہد منیر عامر کے وہاں دیے گئے لیکچرز بھی پڑھ سکتا ہے۔اگرچہ اردو کی تمام اصناف کا اپنی ایک خوبصورتی ہے مگر سفرنامہ اس حوالے سے خاص اہمیت کا حامل ہے کیونکہ کسی بھی ملک کا سفر نامہ محض سفری کہانی ہی نہیں ہوتی بلکہ اس ملک کی تہذیب اور کلچر کی عکاسی ہوتا ہے۔ہم دوسرے ملکوں کی روایات‘رسم و رواج اور ثقافتی رویوں کے مطالعہ کے لیے اس ملک کے لیے لکھے گئے سفرناموں ہی کا انتخاب کرتے ہیں۔ سفرنامے کے بارے میں عمومی رائے یہی ہے کہ یہ ایک مشکل صنف ہے کیونکہ لکھاری نے جہاں اپنے تجربات اور مشاہدات کو تفصیل سے بیان کرنا ہوتا ہے وہاں اس نے قاری کو اس ملک اور اس کلچر سے شناسائی بھی کروانی ہوتی ہے جس کے بارے میں وہ سفرنامہ ہوتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ ہمارے ہاں زیادہ تر سفرنامہ نگاروں پر یہ اعتراض کیا جاتا ہے کہ وہ سفری روداد میں اتنے مگن ہو جاتے ہیں کہ وہ سفرنامے کے اصل معانی بھول جاتے ہیں۔ سفرنامہ لکھنے والے پر یہ لازم ہوتا ہے کہ وہ اس ملک کی سیاحت میں اس ملک کے تعلیمی اسٹرکچر‘اس کے رسم و رواج‘اس کی تہذیب اور اس کے معاشرتی رویے بھی زیرِ بحث لائے۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر کا یہ کمال ہے کہ انھوں نے جس بھی موضوع پہ قلم اٹھایا اس کا حق ادا کیا۔یہی وجہ ہے کہ میں ’’دیارِ شمس ‘‘پڑھتا ہوا کئی دفعہ ترکی ان گلیوں میں جا نکلا جہاں ڈاکٹر زاہد منیر عامر پہنچے۔مجھے اس سفرنامے کے مطالعے کے دوران بالکل بھی نہیں لگا کہ یہ کوئی کتاب یا سفری روداد ہے بلکہ مجھے یہی محسوس ہوا کہ میں خود وہاں سفر کر رہاہوں ۔کتاب کے مطالعے کے دوران کبھی مولانا رومؒ کے مزار پہ حاضری دے رہا ہوں تو کبھی اقبال لاہوری کے مزار پر فاتحہ خوانی کر رہا ہوں۔ کبھی مولانا شمس تبریزؒ کے مزار پر کھڑا ہوں تو کبھی حضرت ابو ایوب انصاریؓ کے مزار پر دعا کر رہا ہوں تو کبھی نوجوان یوشع بن نونؑ کے مزار ِاقدس پہ خود کو محسوس کر رہا ہوں۔کبھی قونیہ میں ملاصدرالدین قونوی کی آخری آرام گاہ کی زیارت کر رہا ہوں تو کبھی مولانا رومؒ کی آرام گاہ پر رکھے ہوئے ’’مثنوی معنوی‘‘کے ایک معاصر نسخے کو دیکھ رہا ہوں۔کیا کمال کی سیاحت تھی کہ ہم گھر بیٹھے اس سے لطف اندوز ہوتے رہے اور دل میں دبی خواہش کو مزید پختہ کر لیا کہ پہلی فرصت میں ترکی جانا چاہیے اور وہاں کی سیاحت سے لطف اندوز ہونا چاہیے۔کیونکہ ترکی اسلامی تہذیب اور اسلامی تاریخ کے حوالے سے بھی اپنی ایک الگ اہمیت رکھتا ہے۔

ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے وہاں کے کھانوں اور ملبوسات سمیت وہاں موجود دوستوں کی طرف سے ملنے والے تحائف کو بھی بڑی تفصیل سے بیان کیا۔ترکی کے دوستوں کی طرف سے ملنے والے تحائف اس بات کی دلیل تھے کہ وہ لوگ مہمان نوازی میں کتنے ماہر ہیں کہ تحفے تحائف کو بھی میزبانی کا بنیادی جزو سمجھتے ہیں۔اس کتاب کا ایک اہم ترین حصہ مولانا ظفر علی خان کے حوالے سے ہے ۔اس تحریر میں کچھ ایسی دستاویزات بھی شامل ہیں جو پہلی بار سامنے آ رہی ہیں۔اس تحریر میں ترکوں اور ترکوں کے حوالے سے ظفر علی خان کے جذبات اور ان کی خدمات کے کچھ نقوش پیش کیے جا رہے ہیں۔مولانا ظفر علی خان نے ۳۱۹۱ء میں ترکی کا سفر کیا تھا جس دوران انہوں نے اپنے تاثرات نظم و نثر میں قلم بند کیے تھے۔وہ اس سفر میں طلعت پاشا‘غازی جمال پاشا‘سعید حلیم پاشا سمیت ترکی کے کئی اکابر کو ملے جن کی عکاسی مولانا کی نظموں میں واضح دیکھی جا سکتی ہے۔ڈاکٹر زاہد منیر عامر نے اس کتاب کے آخر میں ایک انتہائی اہم خط کا عکس بھی شامل کیا ہے ۔معاملہ کچھ یوں تھا کہ مولانا ظفر علی خان نے ترکی ریلیف فنڈ قائم کر کے برادرانِ ترکی کے لیے رقم اکٹھی کی تھی اور یہ رقم پیش کرتے ہوئے ان کے ادارے کے رکن اور زمیندار ترکش ریلیف فنڈ کے اعزازی سیکرٹری چودھری غلام حیدر خان نے قسطنطنیہ کے وزیر اعظم کو جو خط لکھا تھا وہ خط آج بھی دولتِ عثمانیہ کی شاہی دستاویزات میں محفوظ ہے جس کا عکس کتاب میں لگایا گیا۔۳۲؍دسمبر ۳۱۹۱ء کو لکھے گئے اس خط میں دو رقوم کے بھیجے جانے کا ذکر ہے مزید اس میں زمیندار کی طرف سے بھیجے گئے ٹیلی گرام کا عکس بھی بطور یاداشت لگا دیا گیا۔قارئین المختصر یہ کہ ’’دیارِ شمس ‘‘ایک ایسا سفرنامہ ہے جس نے واقعی کئی دن مجھے اپنی گرفت میں لیے رکھا‘کتنے ہی اہم واقعات اور اہم یاداشتیں جو پڑھ کر میں انتہائی مسرت محسوس کر رہا تھا۔زبان و بیان کا کمال تو اس سفر نامے میں موجود ہی ہے ساتھ تاریخ کو جس انداز میں قلم بند کیا گیا اس کی مثال بھی بہت کم دیکھنے اور پڑھنے کو ملتی ہے۔بک کارنر جہلم سے شائع ہونے والا یہ سفر نامہ اسلامی تاریخ اور ادب کے ہر باذوق قاری کو پڑھنا چاہیے تاکہ وہ گھر بیٹھے ترکی کی سیاحت سے لطف انداز ہو سکے بالکل ایسے جیسے میرے سمیت کئی دوست اس سیاحت سے لطف اندوز ہو سکے ہیں۔مولانا ظفر علی خان کا ایک شعر ملاحظہ فرمائیں جس میں انھوں نے ترکی اور ہندوستان کے مسلمانوں کی آزادی کو یوں باہم دگر اکٹھا کیا گیا:

ہو جائیں گے ترکی و عرب خود بخود آزاد

جس روز کہ ہم ہند کو آزاد کریں گے


ای پیپر