مقبوضہ کشمیر:مودی کی ایک اور گھناﺅنی سازش بے نقاب
04 نومبر 2019 (17:04) 2019-11-04

سری نگر: مقبوضہ جموں کشمیر میں دفاتر میں ہندی اور انگریزی کو لازمی زبان قرار دے دیا گیاہے۔ عوام اور سیاسی و سماجی رہنما ﺅ ں نے کہا کہ اس سے مقبوضہ جموں کشمیر کے کلچر اور اردو زبان کو ختم کرنے کی سازش کی جارہی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق بھارت کا تاج کہلانے والی ریاست جموں وکشمیر اب فی الحال ریاست نہیں رہی بلکہ اس کو دوحصوں میں تقسیم کرکے مرکز کے زیر انتظام کردیا گیاہے-

یکم نومبر سے باضابطہ اس کا اطلاق ہوچکاہے اور دونوں حصوں یعنی جموں کشمیراور لداخ میں دوالگ الگ لفٹیننٹ گورنر بھی مقرر کردیے گئے ہیں-اس سلسلہ میں مختلف سیاسی سماجی رہنماوں نے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ جموں کشمیر کو یونین ٹریٹری بنانا کتنا فائدہ مند ثابت ہوتا ہے یہ وقت ہی بتائے گا۔

کلچر اور زبان و اداب سے متعلقہ کام کرنے والے ایک ادیب اور شاعر ڈاکٹر عارف فرہاد نے کہا کہ کہ ارباب اقتدار ریاست جموں وکشمیر کی 170 برس قدیم تاریخ کو ختم کرنے اور اردو زبان کو ختم کرنے کی بات کررہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اردو کو ختم کرنے کے لیے دفاتر میں ہندی اور انگریزی کو لازمی زبان قرار دینا اردو دشمنی کی ایک مثال ہے-انھوں نے کہا کہ جموں کشمیر کے خصوصی موقف کے ہٹنے،ریاست کی تقسیم، اور اردو کو ختم کرنے کی سازش کے بعد جموں کشمیر کی شناخت پورے طور پر ختم ہوگئی ہے۔


ای پیپر