ابھی عشق کے امتحاں اور بھی ہیں
04 نومبر 2018 2018-11-04

شہر یرغمال کے باسیوں پر ایک اور دھرنا آیا اور گزر گیا۔لیکن اس مرتبہ شدت ذرا کم محسوس ہوئی۔ اس لیے کہ بڑا دھرنا لاہور کی مال روڈ پر تھا۔ مرکزی قائدین تو لاہور تھے۔البتہ حکو متی فیصلہ ساز یرغمال دارلحکومت میں۔لہٰذا وہی کیفیت تھی کہ چوٹ لاہور میں پڑتی تو درد محسوس ادھر پوٹھوہار کے قلب مارگلہ کے دامن میں بچھے بد نصیب دارلحکومت کے شہریوں کو محسوس ہوتی۔ اب تو ان دھرنوں کی عادت سی ہو چلی ہے۔ جس طرح حالات کے مارے ہوئے قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کر لیتے ہیں ۔ اسی طرح اب ہم اہل اسلام آباد جو اڑھائی عشرے سے پہلے خاردار صحافت کی آبلہ شناسائی کیلئے آ ئے تھے، نے حالات سے سمجھوتہ کر لیا ہے۔ مظاہرین کے ہاتھوں گالیاں، ہتک، توہین آمیز رویہ، تھپڑ بازی، گریباں دریدگی آئے روز کا معمول ہے۔ قسطوں پر لی موٹر سائیکل کو جلتی آگ میں شعلہ بنتے دیکھنا ہمت کا کام ہے۔ لیکن لیز پر لی گئی گاڑی پر پڑے ڈینٹ تو نکل جاتے ہیں لیکن جیب میں پڑتے ہوئے سوراخ رفو نہیں ہو پاتے۔ راستے میں کوئی اہل ایمان دھرنے کو جہاد سمجھ کر دوسروں کو مٹا ڈالنے پر آمادہ سر فروش چاہے تو دو چار ڈنڈے رسید کر دے۔ مرضی میں آئے تو معافی دیدے۔ گلی گلی،قریہ قریہ،عدالتیں لگ جائیں تو فیصلہ سازی ایسی ہی ہوتی ہے۔ چینی کہاوت ہے کہ مچھلی ہمیشہ اوپر سے گلنا سڑنا شروع کرتی ہے۔ ہمارا موسم چین سے بہت مختلف ہے۔ چھلی تو ساری کی ساری گل سڑھ چکی بینائی ہماری کمزور ہو چکی۔ دانائی سے ہمارا کوئی واسطہ ہی نہیں۔ جس کے متعلق فرمان ہے کہ علم،حکمت مومن کی میراث ہے۔ ہم اہل دارالحکومت پر یہ چار روز بھی عذاب آزار بن کر گزرے۔دھرنا کہہ لیں، احتجاج کا نام دے ڈالیں۔ کہنے کو تو فیض آباد چوک ہی بند تھا۔ کچھ دیگر پوائنٹس جو کسی بھی ہنگامی صورتحال میں متبادل روٹ کے طور پر استعمال ہو سکتے ہیں ۔ وہ بھی مظاہرین کے نرغے میں تھے۔ فیض آباد ایسا سٹریٹجک پوائنٹ ہے جو اس کو فتح کر لے اسکو کنٹرول حاصل ہو جاتا ہے۔ آدھے سے زیادہ شہر بند اور باقیماندہ عضومعطل۔چلتا بھی ہے تو گھسٹ گھسٹ کر۔ فیض آبادفلائی اوور پر قبضہ ایسے ہی ہے جیسے کسی کی شہ رگ پر گھٹنے رکھ کر باقی جسم آزادچھوڑ دیا جائے۔ حادثات،سانحات کی پیشگوئی تو ممکن نہیں ہوتی البتہ پیش بندی کی جا سکتی ہے۔ ہنگامی حالات کی تیاری دور جدید کی شہری حکومتوں کا فرض اولین ہے۔ ہمارے ادارے، محکمے ہنگامی حالات سے نمٹنے کی صلاحیت سے عاری ہونے کے ساتھ قبل از وقت سوچنے کی بھی زحمت نہیں کرتے۔ آسیہ بی بی کیس کے فیصلہ کے متعلق ایک روز پہلے ہی آگاہ کر دیا گیا تھا کہ اگلے روز صبح 
نو بجے سنایا گیا۔ اگر توہین عدالت کا نا دانستا ارتکاب ہو جائے تو دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی۔ صبح نو بجے فیصلہ سنانے میں نہ جانے کیا حکمت تھے۔ میری غلط فہمی بھی ہو سکتی تھی۔ لہٰذا پھر معافی۔ ہو سکتا ہے کوئی حکمت وغیرہ سرے سے نہ ہو۔ چلو کوئی انتظامی افسر ہی 12 گھنٹے پہلے سوچ لیتا۔ لیکن کیوں؟ جب سارا ملک وقت دیکھنے کیلئے ایک ہی گھنٹہ گھر کی جانب دیکھتا ہے تو پھر ایسا ہی ہوتا ہے۔ نہ کوئی تیاری نہ کو ئی ہنگامی پلان۔ نہ کوئی ایڈوائزری۔ ادھر فیصلہ آیا اْدھر دیکھتے ہی دیکھتے پہلے سے تیار جتھے مقام مطلوبہ تک جا پہنچے۔ مقام مفتوحہ کی جانب۔ جو سومنات کے مندر کے بر عکس سپر انداز ہو تا ہے۔ جڑواں شہروں میں ہزاروں سرکاری، پرائیوٹ تعلیمی ادارے ہیں ۔ شہر بند ہو گیا سڑکیں بند،ٹریفک جام۔6 سال کے بچوں سے لیکر ہزاروں بچے بچیاں، خواتین بری طرح پھنس کر رہ گئیں۔ ایسے مواقع پر سکولوں کالجوں کے منتظمین کمال چالاکی سے کام لیتے ہیں ۔ والدین کو ایس ایم ایس کیا ایک گھنٹے کے اندر بچوں کو پک کر لیں۔ کوئی اونچ نیچ ہو گئی تو ہماری ذمہ داری ختم۔ ان بھلے مانسوں سے کوئی پوچھے والدین کیا اڑن طشتریاں لیکر پہنچیں۔ بھوکے پیا سے طلباء طالبات نہ جانے کیسے کیسے میلوں کا سفرکر کے گھروں تک پہنچے۔ یہ ہر گز معلوم نہیں کہ کتنے گھروں کو نہیں پہنچے۔ کس نے کیا قیمت ادا کی۔ کون جانتا ہے۔ چند سو افراد نے جڑواں شہروں کو محبوس کر کے رکھ دیا۔ کوئی بات کر کے تو دیکھے فوراًموقع پر ہی کفر کا فتوی لگا کر واجب القتل قرار دیدیا جائے گا۔ سیاسی، مذہبی فرقہ وارانہ گروہوں نے بمقدار کثرت بلینک سرٹیفکیٹ اپنے پیروکاروں کے ہاتھوں میں پکڑا دیئے ہیں ۔ جہاں جس کا دل چاہے ذراسی گستاخی، بے ادبی اختلاف رائے پر غدار، شرک کا سرٹیفکیٹ تیار ہوتا ہے۔ نام ہی تو لکھنا ہوتا ہے۔ اس مرتبہ بھی ایسا ہی ہوا۔ چند سو مظاہرین نے شہر اقتدار کا نظام ہاتھوں میں لے لیا۔ مارکیٹیں بند، ٹرانسپورٹ بند، سبزی پھل غائب۔ میٹرک سے لیکر یونیورسٹی تک امتحانی پیپر منسوخ۔ ماضی سے البتہ ایک فرق ضرور تھا۔ تب حکم تھا کہ دھرنا زیادہ سے زیادہ دکھاناہے۔ تا کہ جمہوری حکومت کی بے بسی کا تماشہ 20 کروڑ عوام تک پہنچایا جائے۔ لہٰذا اہتمام مکمل تھا۔ سمجھ گئے ناں۔ وہی سیون ٹونٹی فور۔رسد اور کمک کا مکمل انتظام، پکی پکائی دیگیں، متبادل راستے۔ انٹرنیٹ کی سہولت۔ محاصرے کی کیفیت میں مقابلے کا سامان۔ اس مرتبہ الٹ تھا۔ جو ہو رہا ہے وہ نہیں دکھانا۔سو ذر ا سکون تھا۔ لیکن سوشل میڈیا موجود تھا۔ کافر بس، موٹر سائیکلیں، برستے ڈنڈے،ٹوٹتی دکانیں لٹی ہوئی کیلوں کی ریڑھی اور ہاں عشاق کی جانب سے ننگی گالیوں کے برستے کوڑے۔ دبنگ حکومت کا وزیر اعظم ٹی وی سکرین پر نمودار ہوا۔ دھانسو تقریر کی۔ ماضی کی طرح ایک مرتبہ اس تقریر پر اعتبار کر بیٹھا۔ سو چا اس مرتبہ کوئی کسی قسم کا یو ٹرن نہیں ہو گا۔ ایسا مطالبہ بھی نہ تھا کہ کوئی خونی آپریشن کیا جائے گا۔ لیکن قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کوئی تو کاروائی ہو۔ قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے۔ سو انتظار کی گھڑیاں گننا شروع کر دیں۔ انتظار لا حاصل رہا۔ آخر کار کچھ پس پردہ، کچھ آن ریکارڈ شخصیات نے مذاکرات کاڈول ڈالا۔ آخر کار وہی ہو ا۔ مظاہرین جیت گئے۔ حکومت ہار گئی۔ کاروباری سرگرمیاں معطل رہنے کی وجہ سے ڈیڑھ سو ارب کا معاشی خسارہ ہوا۔ 126 دن کے دھرنے میں 527 ارب کا دھچکا لگا تھا۔ ایسا ہی ایک دھرنا گزشتہ سال نومبر میں بھی ہوا تھا۔اکیس دن تک حکومت وقت نے بندھے ہاتھوں کے ساتھ صبرسے مقابلہ کیا۔ اس مرتبہ حکومت جو انوکھی بھی ہے اور لاڈلی بھی ہے اس نے تین دن ہی میں بہ ذریعہ مذاکرات اس کی بساط لپیٹ دی۔ سوشل میڈیا پر طوفان بر پا ہے۔ تنقید کا بھی تعریف کا بھی ۔ ابھی عشق کے امتحان اور بھی ہیں ۔


ای پیپر