جیسی کرنی ویسی بھرنی
04 نومبر 2018 2018-11-04

پانچ سال تک نعروں، دھمکیوں اور بڑھکوں کے بعد برسر اقتدار آنے والے حکمرانوں کو آتے ہی دھرنوں کا سامنا، سر منڈاتے ہی اولے پڑے ،کسی نے کہا ’’ جیسی کرنی ویسی بھرنی ‘‘ آسیہ مسیح جسے توہین رسالت کے مقدمہ میں بری کردیا گیا کے خلاف ’’عاشقان رسولؐ‘‘ ملک بھر میں جگہ جگہ دھرنوں پر بیٹھ گئے، تین چار روز تک نظام زندگی معطل، معیشت کا پہیہ رکا رہا، ٹرینیں جہاں تھیں وہیں ساکت ہوگئیں، مارکیٹیں بند، بازاروں اور سڑکوں پر ہو کا عالم قبرستان کا سا سناٹا، معیشت کو 170 ارب کا نقصان، دھرنوں میں بیٹھے لوگ جیسے چرنوں میں بیٹھ گئے، بیٹھے ہیں رہگزر پہ ہم کوئی ہمیں اٹھائے کیوں کے قائل، وزیر مشیر کہاکرتے تھے ’’جس نے دھرنا دینا ہے شوق سے دے ہم کنٹینر فراہم کریں گے۔‘‘ یہاں مظاہرین کو پانی تک نہ پوچھا‘‘۔ نئے اورپرانے سیاست دانوں میں یہی فرق ہے اقتدار میں آکر دھمکیاں دینے والے بھول گئے کہ چار پانچ سال قبل انہوں نے ہی دھرنے کی ریت ڈالی تھی اور 126 دن کا دھرنا دے کر ورلڈ ریکارڈ قائم کیا گنیز بک میں ان کا نام درج ہوا ؟ اس وقت کے حکمران موجودہ حکومت سے زیادہ ووٹ لے کر اقتدار میں آئے تھے، جائز جمہوری حکومت تھی دھاندلی کے الزام پر اتنا شور کہ سچ کی کوئی آواز سنائی نہ دی، پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے آکر بیٹھ گئے ،کنٹینر سجا کے لائے تھے روزانہ خطاب چار ماہ تک براجمان رہے ، سارے چینل رات دن خدمت پر مامور، لائیو ٹرانسمیشن، پوری دنیا حیران کہ یہ کیسی ریاست ہے کہ چار ماہ سے یر غمال بنی ہوئی ہے کھانے پینے پر 10 کروڑ خرچ ہوگئے انگلی نہ اٹھ سکی، پارلیمنٹ کا اجلاس بلایا گیا لیکن پارلیمنٹ ہاؤس کے راستے بند اسی دوران پارلیمنٹ ہاؤس اور پی ٹی وی پر حملے، نشریات دس منٹ تک بند، حکمران صابر و شاکر وزیر داخلہ حال مست کھال مست، 126 دن کے ’گرینڈ فیسٹیول‘ کے بعد بھی چھوٹے موٹے دھرنے، جلسے، جلوس، ریلیاں، حکمرانوں کا ناک میں دم، نواز شریف پانچ سال ہی میں 90 سال کے لگنے لگے دھرنوں نے سارے کس بل 
نکال دیے، رہی سہی کسر 126 پیشیوں نے پوری کردی، نا اہل ہوئے حکومت گئی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں تلوار اب بھی لٹک رہی ہے، سب کچھ ہوا، 22 کروڑ میں کسی نے نہ پوچھا کہ حکومت اور ریاست کے خلاف بغاوت کیوں کی گئی؟ 126 دن کا دھرنا دھاندلی کے خلاف تھا سپریم کورٹ نے دھاندلی کا الزام غلط قرار دے دیا کہا دھاندلی نہیں بے ضابطگیاں ہوئیں بعد میں کرپشن پر آسمان سر پر اٹھائے رکھا سزائیں ہوگئیں کرپشن آج تک ثابت نہیں ہوئی، الیکشن 2018ء میں عوام اتنے مست بلکہ بدمست تھے کہ یہ سوچ کر ووٹ دے آئے کہ
ہوگی ہر اک دعا قبول قبلہ بدل کے دیکھ لو
کعبہ شہر یار میں سجدہ ادا بہت ہوا
لیکن 5 سال کے نعروں اور بڑھکوں کے بعد اقتدار میں آنے والوں کا دو ماہ میں بھرم کھل گیا دھرنے میں بیٹھے عاشقان رسولؐ حکمرانوں کی حمایت پر نادم اپنے خوابوں کی کرچیاں سمیٹتے اور نعرے لگاتے رہے کہ’’ ایسے کہ سنو تو ہنس پڑو تم، ایسے دیکھے تھے خواب ہم نے ‘‘عوام کے خواب کرچی کرچی ہوگئے بجلی، گیس، اشیائے صرف، مہنگائی کے بموں کی بارش، پٹرول 98 روپے پر پہنچ گیا، یادش بخیر 126 دنوں کے دھرنے میں ان ہی وزیروں مشیروں نے بآواز بلند کہا تھا کہ پٹرول40 روپے لیٹر ملنا چاہیے حساب لگا کر بتایا کرتے تھے ،وہ حسابی کتابی کہاں چلے گئے؟ ڈالر 65 روپے کا تھا تو اعتراض کیا جاتا تھا اب 135 کا ہے تو 150 تک پہنچنے کی نوید سنائی جاتی ہے، عاشقان رسولؐ نے کہا خدا کے واسطے ریاست مدینہ کے نام پر دھوکہ دینا چھوڑ دیں، وہاں قول و فعل کا تضاد نہیں تھا جھوٹ سے پرہیز کرنے کی تلقین کی جاتی تھی، اعظم سواتی کہیں اور سے آئے پارٹی میں شامل ہوئے وزیر بنے اور کس شان کے وزیر کہ ایک غریب خاندان کا جینا دوبھر کردیا اس پر آئی جی اسلام آباد معطل، سپریم کورٹ نے بحال کیا تو وہ دہائی دیتے پہنچ گئے کہ مائی لارڈ میرا کہیں اور ٹرانسفر کردیں ان حالات میں اسلام آباد میں فرائض انجام نہیں دے سکتا،سلام اس پر کہ جس نے خوں کے پیاسوں کو دعائیں دیں الحب للہ والبغض للہ کا اصول اپنایا، ذاتی دشمنی نہیں، ذاتی دشمنی پر کسی کو نا اہل قرار نہیں دلایا، دین کی مخالفت پر جنگیں لڑیں دندان مبارک شہید ہوئے یہاں سیاست کی بنیاد ہی ذاتی دشمنی، ذاتی مفادات، قبائلی مناقشت پر رکھی گئی جھوٹ، یوٹرن، الزامات، حیلہ سازیاں بنیادی اصول ٹھہرے، راستے سے بھٹکے تو مشکلات کا شکار، مشکلات کا سارا ملبہ بھی سیاسی دشمنوں پر ڈال دیا ایک دھرنے سے خوفزدہ حالانکہ ابتدائے عشق ہے اور بھی کٹھن مراحل طے کرنے ہوں گے پانچ سال کا سفر کیسے طے ہوگا؟ دھرنوں کی ریت ڈالی ہے تو یہ بہت دن چلے گی ابھی ایک دریا پار کیا ہے بقول منیر نیازی ’’ایک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو‘ میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا‘‘ دیکھتے جائیے اور پار اترتے جائیے دھرنے ریاست کے خلاف بغاوت ہیںیا نہیں آپ جانیں۔


ای پیپر