حساس موڑ پر یہ فلسفہ زرداری! 
04 نومبر 2018 2018-11-04

جب فساد زمین کی زرخیزی کے اندر برپا ہو ، تو بیرونی قرض کی کھاد بھی کوڑھ کی کاشت کے سوا کچھ نہیں دیتی!
دیکھو گے تو ہر موڑ پہ مل جائیں گی لاشیں 
ڈھونڈو گے تو اس شہر میں قاتل نہ ملے گا
زمینی حقائق کے مطابق، جب تک اندرونی حالات میں بناؤ کے عناصر ملک و ملت کا مقدر نہیں بنتے تب تک کسی بیرونی مدد کا دائمی فائدہ ممکن نہیں۔ حکومت جب تک ملک کا ازخود نارمل نروس سسٹم (اعصابی نظام) نہیں بنتی تب تک ملک میں کنٹرول، یک جہتی، نظم اور ربط کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ عمرانی کاوشوں پر شک نہیں لیکن ان وزراء اور مشیروں کا کیا کریں جو اس وقت زرداری قبیلے اور نواز دوستی کا حصہ تھے، جب عمران خان افغانستان میں اتحادی افواج کی مدد اور رسد روکنے کیلئے ڈٹے تھے یا جب عمران خان نواز حکومت کے خاتمے کیلئے پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے دھرنا اور بھاری بلوں کو جلانے میں سرگرم عمل تھا۔ مشیروں اور وزیروں کو وہ مائنڈ سیٹ، جو جنوبی پنجاب میں جعفر لغاری اور خسرو بختیار، وسطی پنجاب میں صمصام بخاری و فواد چوہدری، کے پی کے میں پرویز خٹک و نور عالم، بلوچستان میں رند و زبیدہ جلال اور سندھ میں ڈاکٹر فہمیدہ مرزا و میاں محمد سومرو کی شکل میں جلوہ افروز ہے، یہ سب اگر عمرانی ویژن کا حصہ بن جائیں تو ممکن ہے تبدیلی کے آثار نظر آجائیں ورنہ الٹی گنگا بہتی کس نے دیکھی ہے؟؟
درد اس وقت تک لادوا رہے گا جب تک وزیراعظم اور وزراء مسند اقتدار کے حصول کی آسمانی پرواز سے زمین پر نہیں آتے۔ زمین پر رہ کر ہی زمینی حقائق اور اس کی زرخیزی کے پتہ چلتا ہے۔ سرزمینِ وطن یقیناً سونا اگلنے والی ہے بشرطیکہ اسے موسموں کی مطابقت اور بروقت آبیاری کی طاقت مہیا کی جائے۔ واضح رہے کہ، وزیراعظم کے دورہ سعودی عرب کی ’’کامیابی‘‘ اور دورہ چین کی کامرانی سے قبل چند اہم واقعات اور کچھ اہم باتیں ہوئیں جنہیں فراموش نہیں کیا جاسکتا۔ 
1۔ سابق صدر پاکستان آصف علی زرداری نے پارلیمنٹ میں کھڑے ہوکر مفاہمت کی اذان دی۔ 2۔ مولانا فضل الرحمن کی حکومت کے خلاف اے پی سی کی تمنا سادگی کی نذر ہوگئی اور عشق کی انتہا پانے سے قاصر رہی۔ 3۔ "اپوزیشن آل پارٹیز کانفرنس کا شوق پورا کرے، کنٹینر اور بریانی ہم دیں گے" ۔۔۔ اس حکومتی بیان میں بہرحال تکبر تھا تدبر نہیں! 4۔ سپریم کورٹ کے آسیہ بی بی کے حوالے سے ناموس رسالت کیس کے فیصلے کی پاداش میں سماجی تلخی کے تناظر اور دیگر معاملات کی بدولت، حزب اقتدار نے جو حزب اختلاف سے رابطہ کیا اور بالخصوص قائد حزب اختلاف میاں شہباز شریف اور بلاول بھٹو زرداری سے ملاقات کی وہ ایک احسن اقدام تھا۔ 5۔ سیاسی و حکومتی حلقوں میں 18ویں ترمیم میں تغیر کا بھی کر خیر ہوا۔6۔ عدالت عظمیٰ کے فیصلے اور آرمی کے موقف اور منصب کو سمجھے بغیر سڑکوں پر احتجاج ، املاک کے نقصان اور اداروں پر بیجا تنقید سے بہت زیادہ سماجی و سیاسی اور اقتصادی و جمہوری نقصانات کے دریچے کھلے۔ علاوہ بریں قومی و عالمی سطح پر جگ ہنسائی ہوئی ۔ یہ سب نہ ہوتا تو اچھا ہوتا۔ چونکہ نظریہ پاکستان ہے ہی نظریہ اسلام ، پس محسن انسانیت محمد مصطفےٰ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی حرمت و عظمت پر ہم سب کے جان و مال قربان!7۔ وزیراعظم کے دورہ چین کی ابتدا ہی میں ایک سانحہ نے داخلی سطح پر ہلا کر رکھ دیا جس کے تانے بانے خارجی راستوں سے جا ملتے ہیں، یعنی جمعیت علمائے اسلام (س) گروپ کے سربراہ ، ہزاروں کے استاد محترم اور ممتاز سیاسی رہنما مولانا سمیع الحق کو ان کی قیام گاہ پر شہید کرکے سفاکی نے قومی و سیاسی و جمہوری بگاڑ کی راہ ہموار کی جو انتہائی قابل مذمت ہے!
سیانے درست کہتے ہیں کہ، کسی بھی معاشرے، ریاست یا سلطنت میں قومی مفاد سے بڑھ کر کوئی چیز نہیں ہوتی۔ جمہوریت تبھی حسن ہے ۔ سیاسی و صحافتی حلقوں میں یہ بھی بات ہوئی کہ چونکہ زرداری صاحب ریفرنسز کی زد میں ہیں چنانچہ مفاہمت کا درس دے رہے ہیں۔ ہو بھی سکتا ہے کہ ناقدین زرداری درست فرما رہے ہوں لیکن زرداری کا بہرحال ایک ویژن بھی ہے ۔ زرداری کی گوادر شناسی، سی پیک کے ابتدائی بیج بونے اور آبیاری کے علاوہ این ایف سی ایوارڈ کے حوالے سے بھی زرداری کا ایک قومی مقام ناقابل فراموش ہے۔ بغیر مانگے قومی اسمبلی کو اپنا اختیار سونپ دینا یعنی 58 / 2۔ بی کا خاتمہ جمہور پسندی کے زمرے میں آتا ہے۔ وہ بیتے دن بھی چشم فلک کو یاد ہوں گے جب دھرنے کی کامیابی کے سبب حصہ بٹورا جاسکتا تھا لیکن زرداری صاحب نے جمہوریت کی بقا کی سلامتی چاہی، آگے بڑھ کر لالچ کی مینا نہ اٹھائی۔ جہاں تک عدالتوں کا معاملہ ہے، عدالتیں خودمختار ہیں اور عادل بھی، ان کا انہی پر چھوڑیں۔ رہی بات ریفرنسز کی تو وہ کس پر نہیں، اور کس پر نہیں ہوتے یا کس پر نہیں ہوں گے؟ کون کب کس کے ساتھ تھا ؟ کس کو کب حرص و ہوس کو بیماری نے سرنگوں کردیا اور چڑھتے سورج کی پرستش کا ہوگیا۔ 
ضرورت اس امر اور فکر کی ہے کہ اس پر غور کیا جائے کہ ملک و ملت ضروری ہے۔ حکومتیں تو آتی جاتی ہیں۔ کل میاں صاحبان تھے اور آج خان صاحبان۔ کل کون ہوگا کس کو خبر؟ لہٰذا اس وقت اندرونی خلفشار کا خاتمہ لازم ہے۔ داخلی سکون ہوگا تو خارجی و اقتصادی فتوحات قدم چومیں گی۔ شہباز شریف و نواز شریف اے زرداری و فضل الرحمن تک جو حکومت ساتھ لے کر چلے گی تو گلشن کا کاروبار چلے گا۔ داخلی چیلنجوں کے سنگ سنگ راہ، موساد و امریکن سی آئی اے جیسے ٹرائیکا سے بھی مقابلہ ہے۔ مقتدرہ قوتوں کو بھی اپوزیشن کو ساتھ لیکر چلنا ہوگا ۔۔۔ ورنہ زمینی زرخیزی اور قرض کی کھادیں بھی بند گلی سے نہ بچا پائیں گی ۔۔۔ نواز شریف ہوں کہ آصف علی زرداری سیاسی و جمہوری گلی میں انہیں یکسر نظر انداز کرنا دانشمندی نہ ہوگا۔ جاگتے رہئے، جمہوری صفحہ پر رہئے غیروں اور غیر جمہوری تکئے پر نہ رہئے۔ اس حساس موڑ پر فلسفہ زرداری برا نہیں !!!


ای پیپر