تبد یلی حکو مت کے 75دن 
04 نومبر 2018 2018-11-04

تبدیلی حکومت کے ملک میں انقلاب لانے کے دیئے گئے سو دنوں میں سے اب 75 دن سے زیادہ مکمل ہوچکے ہیں۔ اب یہ بات نوشتۂ دیوار کی طرح ثابت ہے کہ ان 75 دنوں میں ملک میں مثبت تبدیلی کے آثار تک نظر نہیں آرہے۔ یہ جائزہ لینے کی غرض سے سب سے پہلے پشاور میٹرو سروس منصوبے کو ہی دیکھ لیجئے۔ منصوبہ کے آغاز میں اس وقت وہاں کے وزیر اعلیٰ نے اسے چھ ماہ میں مکمل کرنے کا ببانگ دہل چیلنج بھرے انداز میں اعلان کیا تھا اور اب ایک سال سے زیادہ عرصہ بیت چکا ہے کہ اس کے مکمل ہونے کے دور دور تک کوئی آثار نظر نہیں آرہے۔ گو صو بہ خیبر پختو نخو ا ہ کے حکا م اب اس منصو بے کو 23ما ر چ 1919 تک مکمل ہو نے کا عند یہ دے ر ہے ہیں۔سو چنے کی بات یہ ہے کہ کیا پشاور کے عوام اس تاخیر کا کوئی اثر نہیں لے رہے؟ اب بھی اگر پی ٹی آئی حکومت یہ کہے کہ اس دھو ل اڑاتے منصوبے کی وجہ سے ان کی مقبولیت پر کوئی اثر نہیں پڑ رہا، تو وہ ذرا اپنے وہاں ہونے والے ضمنی انتخابات کے نتائج کو ہی ملاحظہ فرمالے۔ اس غیر سنجیدہ انداز میں جوں کی چال آگے بڑھنے والے منصوبے نے خوبصورت شہر پشاور کو ایک بیمار شہر میں تبدیل کردیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ وہاں اس منصوبے کی بدحالی کی بنا پر تجارتی سرگرمیاں اسّی فیصد تک کم ہوچکی ہیں۔ گردو غبار سے آلودہ فضا کی بناء پر نت نئی اقسام کی بیماریاں جڑ پکڑ رہی ہیں۔ تباہ حال رستوں کی بناء پر دفتری ملازمین اور سکول کے طلباء کا دیر سے منزلِ مقصود پہ پہنچنا روزانہ کا معمول بن چکا ہے۔ یہی نہیں بلکہ ایک مسلسل آگے بڑھتی تاخیر کی بنا پر اب تک منصوبے پہ آنے والی لاگت میں اربوں روپے کا اضافہ ہوچکا ہے۔ پشاور میں اگر بارش نہ ہو تو فضا گرد و غبار سے اٹتی چلی جاتی ہے۔ تنگ آکر وہاں کے عوام بارش کی دعا مانگتے ہیں۔ مگر بارش ہونے کی بناء پر انہیں کیچڑ اور غلاظت کے اٹھتے بھبکوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ بات صرف اتنی نہیں ہے کہ اس منصوبے کی تکمیل میں اتنا لمبا عرصہ کیوں لگ رہا ہے ، بلکہ بات یہ ہے کہ کم عرصے میں تکمیل کا وعدہ کرتے وقت حقیقت پسندی سے کام لینا چاہیے تھا۔ مگر حقیت پسندی تو پی ٹی آئی کی سرشت میں سرے سے مقصود ہے۔ پارٹی کے چیئرمین عمران خان کا کہنا ہوا کرتا تھا کہ انہیں اقربا پروری سے نفرت ہے۔ وہ اپنی پارٹی اور حکومت میں اقربا پروری کبھی برداشت نہیں کریں گے۔ مگر اب دیکھ لیجئے کہ انہوں نے کرپشن کی بنا پر نااہل قرار دیئے جانے والے جہانگیر ترین کی ہمشیرہ سیمی ایزدی کو سینٹ کا ٹکٹ دے دیا ہے۔ ایک دل دکھانے والا سوال یہ ہے کہ ملک کی اپوزیشن جماعتیں اس پہ احتجاج کیوں نہیں کر رہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس حمام میں سب ننگے ہیں۔ مسلم لیگ ہو، پیپلزپارٹی ہو یا جمعیت علمائے اسلام ہو، اقربا پروری آپ کو ہر پارٹی میں نظر آئے گی۔ البتہ جماعت اسلامی ایک ایسی پارٹی ہے جہاں آپ کو اقربا پروری نظر نہیں آئے گی۔ یہاں یہ تحریر کرنے کی وجہ یہ ہے کہ بے شک محاورتاً گیہوں کے ساتھ گھن بھی پس جاتا ہے، لیکن جانتے بوجھتے گیہوں کے ساتھ گھن کو پیس دینا ظلم کے زمرے میں آتا ہے۔ لہٰذا ایک مسلمان اور محب وطن پاکستانی ہونے کے ناطے بطور لکھاری میرا یہ فرض بنتا ہے کہ اگر کسی جماعت کی ایسی اچھائی جو اسے دیگر جماعتوں سے ممتا زکرتی ہے، اسے ضرور بیان کیا جانا چاہیے۔ 
اگر اقربا پروری سے ہٹ کر بھی پی ٹی آئی کے چنے گئے اعلیٰ ممبران کی بات کی جائے تو اس کے وفاقی وزیر برائے سائنس اور ٹیکنالوجی اعظم سواتی کا کردار یہ واضح کرتا ہے کہ اسمبلی کا ٹکٹ دیتے وقت اعلیٰ اوصاف کے حامل افراد کی بجائے اپنے حلقے میں اثر و رسوخ والے افراد کو اہمیت دی گئی۔ اب یہ انہی دنوں کی بات ہے کہ اعظم سواتی نے اپنے بیٹے کے ساتھ مل کر علاقہ کے ایک غریب خاندان کے مکان پر قبضہ کرنے کی غرض سے اس کے اہل خانہ پہ جھوٹا مقدمہ بنوا کر انہیں اڈیالہ جیل میں بند کروادیا۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی کیونکہ جب وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کے آئی جی جان محمد نے مظلوم خاندان کا ساتھ دینے کی کوشش کی تو ان کی معطلی کے احکامات صادر کروادیئے۔ اس پہ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ جناب ثاقب نثار صاحب نے معطلی کے احکامات واپس لینے کا فیصلہ سنایا۔ مگر اب اسے آئی جی جان محمد کی شرافت کہیے یہ جائز دلبرداشتگی کے انہوں نے دوبارہ عہدہ سنبھالنے سے معذرت کرلی۔ عدالت عظمیٰ تو اعظم سواتی کے ناجائز اثاثوں کا سراغ لگانے کے احکامات جاری کرچکی ہے مگرکیا یہ وہ مقام نہیں کہ انصاف سب کے لیے ایک جیسا کا نعرہ لگانے والی جماعت کے مرکزی رہنما وزیر اعظم عمران خان اعظم سواتی کی پارٹی رکنیت منسوخ کرکے انہیں وزارت کے منصب سے فارغ کردیں؟
تبدیلی کا نعرہ لگانے والی تبدیلی حکومت نے برسر اقتدار آنے سے پہلے جن اہداف کے حصول کا وعدہ کیا تھا وہ اسے سو دن میں مکمل کرنا تھے۔ اس کا دعویٰ تھا کہ ہر صوبے اور شہر میں حاصل کیے گئے اہداف کا عکس واضح طور پر نظر آئے گا۔ مگر اب سو دن کا تین چوتھائی یعنی پچھتر روز کا عرصہ پورا ہوچکا ہے تو ہم دیکھتے ہیں کہ عثمان بزدار نے ملک کے اہم صوبے پنجاب کے وزیر اعلیٰ ہونے کا حلف 21 اگست کو اٹھایا تھا، اس حساب سے ان کی حکومت کو قائم ہوئے پچھتر روز بیت چکے ہیں اور ابھی مزید تین یا چار روز میں انہوں نے اپنے سو دن کے پروگرام کو وزیر اعظم کے سامنے پیش کرنا ہے۔ قابل غور امر یہ ہے کہ آیا یہ پروگام سو روز سے بچے ایک ماہ میں مکمل ہوسکے گا؟ پھر اس کے بعد یعنی دوسرا پروگرام وفاقِ پاکستان میں استحکام لانا تھا۔ اس پروگرام کی تعریف کیا ہونی چاہیے یا اس کی شکل و صورت کیا ہوگی؟ یہ ہرگز واضح نہیں کیا گیا۔ اس صورت میں یہ کہنا انتہائی دشوار ہوگا کہ اس کی کامیابی کو جانچنے کا پیمانہ کیا ہوگا۔ تیسرا کام معیشت کی درستگی تھا۔ اس کے لیے تاثر جو دیا جارہا ہے اس کے مطابق ڈالر کی قیمت سور روپے سے کم ہونی چاہیے تھی۔ مگر اب تو ہم دیکھ رہے ہیں کہ ڈالر ایک مرتبہ 137 روپے کی منزل سے آگے بڑھ کر 140 روپے پہ پہنچنے کو ہے۔ منی لانڈرنگ کے ذریعے ملک سے لوٹی ہوئی دولت کو بیرونِ ملک پہنچانے والوں کے بارے میں وزیراعظم عمران خان نے بارہا کہا کہ ان میں سے ایک کو نہیں چھوڑیں گے۔ مگر اب مہنگائی کی چکی میں پستے عوام کی سنئے تو وہ برملا کہہ رہے ہیں کہ ہمیں اس سے کوئی غرض نہیں کہ آپ انہیں پکڑتے ہیں یا چھوڑتے ہیں۔ ہمیں تو اس سے غرض ہے کہ آپ ہمارا لوٹا ہوا پیسہ کب واپس لائیں گے؟ کب ہمیں مہنگائی کے عذاب سے رہائی نصیب ہوگی؟ تبدیلی حکومت کے 75روز پورے ہوچکے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کہ وہ باقی کے بچے 25روز میں کیا عظیم کارنامہ سرانجام دیتی ہے۔


ای پیپر