مشکلات کا حل اتحاد میں !
04 نومبر 2018 2018-11-04

ایک بات طے ہے کہ ملک کو ہر نوع کے بحرانوں سے نجات دلانے کے لیے تنہا حکومت کے بس کی بات نہیں لہٰذا اسے حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والی جماعتوں کو اعتماد میں لینا ہو گا۔۔۔ کیونکہ برس ہا برس سے چلے آنے والے مسائل، جو اب گھمبیر شکل اختیار کر چکے ہیں انہیں حل کرنا بے حد مشکل ہو گیا ہے۔۔۔ اب صورت حال یہ ہے کہ ان سے مزید مسائل جنم لینے لگے ہیں۔۔۔ جنہیں قابو کرنا آسان نہیں۔۔۔!
سوال مگر یہی ہے کہ کیا حزب اختلاف کا فرض نہیں کہ وہ عوام کو سہولتیں بہم پہنچانے کے لیے حکومت سے تعاون کرے۔۔۔ بالکل اس کی ذمہ داری ہے مگر مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کی سیاست ابھی نا پختہ ہے اس نے جمہوری قدروں سے آشنائی کے علاوہ عوامی حقوق و فرائض سے بھی آگاہی حاصل کرنا ہے سب سے اہم پہلو دھرتی دُکھ کو محسوس کرنا ہے لہٰذا ابھی وہ مکمل طور سے اپنا کردار ادا کرنے سے قاصر ہے مگر اس کا مطلب یہ ہر گز نہیں کہ وہ ہاتھ پر ہاتھ دھرے لوگوں کی سسکیاں سنتی رہے۔۔۔ اسے جہاں تک معلوم ہے فہم و ادراک ہے اس کے مطابق عوامی خدمت کرے۔۔۔ اور اسے یہ علم ہونا چاہیے کہ وطن عزیز اس وقت تاریخ کے نازک ترین دور سے گزر رہا ہے، سماجی الجھنیں اس قدر بڑھ گئی ہیں کہ انہیں سلجھانا نا ممکن ہوتا جا رہا ہے۔۔۔ بھوک ، جہالت، غربت، بیماری اور نا انصافی نے ذہنوں میں اندیشے و سوسے اور خدشات گویا انڈیل دیے ہیں جس سے اضطراب کی لہریں کبھی بلند ہوتی ہیں تو کبھی نیچے جاتی ہیں۔ ایسی حالت پہلے کبھی نہیں دیکھی تھی۔۔۔ مگر ابھی بھی سیاست کاری ہو رہی ہے اور ایک دوسرے کو گرانے جھکانے کی حکمت عملی اپنائی جا رہی ہے۔ شاید آگے چل کر فریقین ہوش کے ناخن لے لیں۔۔۔ اس کا تاثر بھی ابھر رہا ہے اور یکجہتی کی ایک ہلکی سی جھلک چند روز پہلے ایوان زیریں میں دیکھنے کو ملی۔۔۔ کہ حالات کی مشکل گھڑی کے پیش نظر آصف علی زرداری نے حکومت کو واضح الفاظ میں کہہ دیا کہ وہ اس کے ساتھ چلنے کو تیار ہیں اسے پانچ برس تک کام کرنے دینے کے حق میں ہیں مگر انہوں نے ایک ٹی وی چینل سے انٹرویو کے دوران یہ بھی کہا کہ چھ ماہ تک حکومت پر کوئی دباؤ نہیں ڈالنا چاہیے اس کے بعد دیکھیں گے۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری نے بھی صاف کہا کہ عمران خان قدم بڑھاؤ ہم تمہارے ساتھ ہیں کیونکہ وہ جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے ساتھ ہیں۔۔۔ مگر یہ کیا ہوا کہ خورشید شاہ نے مختلف تقریر کر ڈالی کہ وہ عمران خان کی تقریر کی مذمت کرتے ہیں اس میں وہ ایک حد تک درست بھی ہیں وزیر اعظم کو مفاہمتی اور مصالحتی ہونا چاہیے نہ کہ غصیلا انداز اختیار کرنا چاہیے۔۔۔
پی پی پی کی طرح مسلم لیگ کے رہنماؤں نے بھی تعاون کا یقین دلایا اور مل کر چلنے کا واضح اشارہ دیا۔۔۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے شہباز شریف سے ایک خصوصی ملاقات بھی کی ہے جس میں انہوں نے نیک مشوروں سے نوازا۔۔۔ یوں ایک قومی منظر کے اُبھرنے کے آثار دکھائی دے رہے ہیں۔۔۔ عوام کی بھی شدید خواہش ہے کہ ہمارے سیاستدان جو اقتدار میں ہیں یا اس سے باہر مل بیٹھیں کیونکہ وہ طویل عرصے سے کسمپرسی، بے چارگی اور آزردگی کی زندگی بسر کرتے آ رہے ہیں۔انہیں اگرچہ موہوم سی امید اس حکومت سے بندھ چلی ہے مگر اسے دوسروں کے سہارے کی ضرورت ہے عوامی حلقوں سمیت عوامی سیاسی جماعتوں کا ساتھ و قرب درکار ہو گا ۔۔۔ لہٰذا تمام سیاسی جماعتیں اپنے ذاتی مقاصد اور مفادات کو نظر انداز کرتے ہوئے ایک ہو جائیں اور ۔۔۔ خلوص نیت سے عوام کے رِستے زخموں پر مرہم رکھیں۔۔۔ آپس کی لڑائیاں لڑنے کا یہ وقت نہیں۔۔۔ ان کی سیاست اور بقا اس ملک سے جُڑی ہے عوام کے دم قدم سے ہے لہٰذا وہ خود کو توانا بنانے کے ساتھ عوام و ملک کو بھی مضبوط بنائیں۔۔۔ کبھی بھی اجتماعی مفاد کے لیے کسی ملک کی سیاسی جماعتیں الگ تھلگ نہیں نظر آئیں مگر ادھر بہت کم ایسا ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ آج ملکی معیشت ، معاشرت اور سیاست کی حالت قابل رشک نہیں۔۔۔!
خیر اب اگر حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں اپنے اندر نرمی پیدا کر رہی ہیں تو اس پر انہیں شاباش دینی چاہیے۔۔۔ یہاں اس بحث میں نہیں پڑنا چاہیے کہ کچھ روز پہلے جو جماعتیں حکومت کو گرانے کے لیے سر جوڑ کر بیٹھ چکی تھیں انہیں یکا یک کیا ہوا۔۔۔بالخصوص آصف علی زرداری کو کہ وہ بخوشی حکومت سے یہ کہتے پائے گئے کہ آئیں ان کے ساتھ چلیں۔۔۔!
سیاست میں اتار چڑھاؤ اور وقت کو بڑی اہمیت حاصل ہوتی ہے جسے نظر انداز کرنا کسی بھی سیاستدان کے لیے مشکل ہوتا ہے۔۔۔ کیونکہ سیاست کاری لمحوں کی اسیر ہوتی ہے جنہیں ضائع کر دیا جائے تو سیاستدان خواب و خیال ہو جاتا ہے۔ لہٰذا حالات پکار پکار کر کہہ رہے ہیں کہ اگر جماعتیں ایک دوسرے سے فاصلے پر کھڑی ہوں گی تو ان کے راستے کانٹوں سے اٹ جائیں گے۔۔۔ عوام انہیں بُھلا دیں گے کہ اب جب انہیں مشکلات نے چاروں طرف سے گھیر لیا ہے مہنگائی ، بے روز گاری اور مفلسی نے ان کی سانسوں کو بے ترتیب کر دیا ہے تو وہ تب بھی اپنی آنکھیں بند رکھنا چاہتے ہیں اور اقتدار کے حصول کو ترجیح دینا چاہ رہے ہیں؟ بہر کیف ملک کی ترقی جمہوریت ( اصلی) اور قانون کی حکمرانی ہی میں ممکن ہو سکتی ہے۔ اس ایک نکتے پر اگر تمام سیاستدان متحد ہو کر آگے بڑھتے ہیں تو ان سب کے مفاد میں ہو گا ۔۔۔ کیونکہ انہیں عوام اور طاقتور بنائیں گے ۔۔۔ باوجود کہ وہ اپنی اپنی جماعتوں کے ساتھ ہی منسلک رہیں گے۔۔۔ اس سے جمہوریت میں ایک خوبصورتی اور ندرت آئے گی جو ایک فلاحی و دفاہی معاشرے کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔۔۔ لہٰذا مزید وقت ضائع کیے بغیر پارلیمانی جماعتیں ایک نشست کا اہتمام کریں اور کسی نتیجے پر پہنچیں کہ ملک کو آگے لے جانے کے لیے کون سے شعبوں میں تبدیلیاں لانا ہیں۔ مسائل کو حل کرنے سے متعلق جہاں قرضوں کی ضرورت ہے تو وہاں اور کون سے لوازمات درکار ہیں۔۔۔ اداروں کی کارکردگی کو کیسے بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ ان میں سیاسی مداخلت کو کہاں تک ختم کیا جا سکتا ہے اس بارے میں غور و فکر کیا جائے۔۔۔ کیونکہ ایوانوں کے اندر شگفتہ شگفتہ جُملے ادا کرنے سے ان کا ماحول تو خوشگوار ہو سکتا ہے عوام کی خدمت ہر گز نہیں اس کے لیے ان کے باہر ( ایوانوں ) نرم و شیریں لہجوں میں گفتگو کرنے کی ضرورت ہے۔۔۔ اور اگر یہ کہا جائے کہ اس کا آغاز ہوا چاہتا ہے تو غلط نہ ہو گا۔۔۔ بلاول بھٹو زرداری سے یہ توقع کی جا سکتی ہے کہ وہ نئے تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے قدم بڑھاتے چلے جائیں گے۔۔۔ کیونکہ بائیس کروڑ عوام کو امن ، محبت ، ترقی ، خوشحالی اور انصاف چاہیے۔ جو ان سے کوسوں دور ہیں۔۔۔ وزیر اعظم عمران خان کو بھی اپنا انداز بیان بدلنا ہو گا حزب اختلاف اگر اس حوالے سے انہیں یہ مشورہ دیتی ہے تو وہ درست ہے کہ حکومت کا طرز عمل جارحانہ نہیں مصالحانہ ہوا کرتا ہے۔۔۔!


ای پیپر