صحافیوں پر ظلم کا ذمہ دار کون؟
04 نومبر 2018 2018-11-04

یہ ان دونوں کا آخری انٹرویو تھا۔Claude Verlon اور Ghislaine Dupontفرنچ صحافی تھے۔ یہ دونوں مالی میں کڈال کے شمالی ٹاون میں ایک مقامی سیاسی لیڈر کے گھر سے انٹرویو کر کے نکلے۔ انھیں راستے سے اغواہ کیا گیا۔اور ان کی لاشیں کڈال سے دس کلو میٹر دور صحرا کے راستے سے ملیں۔یہ دو نومبر کا دن تھا۔ صحافیوں کے قتل کا یہ واقع عین اس وقت پیش آیا۔جب فرانس نائجر سے چار مغوی لوگوں کی رہائی کی خوشی منا رہا تھا۔ صحافیوں کے قتل کی خبر فرانس میں جنگل میں آگ کی طرح پھیلی اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے پوری دنیا کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔پوری دنیا میں صحافی برادری نے اس پر احتجاج کیا۔معاملہ اقوام متحدہ پہنچا۔ اور تمام ممبرز ممالک نے صحافیوں کے حقوق کے لیے ''International Day to End Impunity for Crimes against Journalists'' کے نام سے ایک دن منصوب کیا اور صحافیوں کے حقوق کو اہمیت دینے کے حوالے سے قانون سازی پر بھی زور دیا۔
اظہار رائے کی آزادی انسان کا بنیادی حق ہے اور تاریخ نے ثابت کیا ہے کہ جب جب اظہار رائے کی آزادی پر قدغن لگی ہے تب تب باقی بنیادی انسانی حقوق بھی تیزی سے پامال ہوئے ہیں۔ جن معاشروں نے اظہار رائے جیسے بنیادی انسانی حقوق کو اہمیت دی ہے وہاں سربراہ مملکت بھی ایک عام آدمی کوجواب دہ ہوتا ہے اور جن معاشروں نے اظہار رائے جیسے بنیادی اصولوں کو صلب کیا ہے ان معاشروں کی عوام نہ صرف مظطرب ہے بلکہ احساس کمتری کا شکار بھی ہے۔ آج کی دنیا میں اظہار رائے کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز صحافی ہیں۔لیکن آج کا المیہ یہ ہے کہ جن ملکوں میں اظہار رائے پر کوئی پابندی نہیں ہے وہاں ان بنیادی حقوق کے سب سے بڑے سٹیک ہولڈرز کی حفاظت کے لیے مناسب اقدامات نہیں کیے جارہے۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ پچھلے گیارہ سالوں میں پوری دنیا میں 900 سے زیادہ صحافی حضرات کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے دوران قتل کیا جا چکا ہے۔ یہ اعدادوشمار حیران کن ہیں۔ کیونکہ قتل کیے جانے والے صحافیوں میں سے پچانوے فیصد صحافی کسی جنگ یا طوفان کے دوران رپورٹنگ نہیں کر رہے تھے بلکہ ان کی موت لوکل خبروں کی رپورٹنگ کے دوران ہوئی ہے۔ پچھلے گیارہ سالوں میں ان صحافیوں کے قتل کے دس میں سے صرف ایک کیس حل ہو سکا ہے جو کہ آزادی رائے کے دشمنوں کوپیغام دے رہے ہیں کہ آپ صحافیوں کے ساتھ کوئی بھی سلوک کر لیں آپ کے خلاف کوئی بھی ایکشن نہیں لیاجا سکے گا۔یہ پیغام آزادی رائے کی علم بردار عالمی قوتوں کے لیے ایک سوالیہ نشان ہے۔ 
آئیے اب ایک نظر پاکستان میں صحافیوں کو درپیش مشکلات پر ڈالتے ہیں۔ پاکستان میں 2001 سے لے کر 2016 تک ایک سو سے زیادہ صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے۔ جبکہ زخمی، کڈنیپ، گرفتار، تشدد کا نشانہ بنائے گئے صحافیوں کی تعداد دو ہزار سے زیادہ ہے۔ ملک پاکستان کے لیے یہ اعدادوشمار انتہائی تشویشناک ہیں۔ کیونکہ تقریباً بیس کروڑ کی آبادی میں صحافیوں کی تعداد اٹھارہ سے بیس ہزار ہے۔ پاکستان جیسے ملک میں جہاں لوگ ذاتوں، مسا لک اور مذاہب کی بنیاد پر تقسیم ہیں وہاں ہر ذات کے لوگوں کی آزادانہ اظہار رائے معتدل معاشرے کے قیام کے لیے ضروری ہے جو کہ صحافیوں کی حفاظت کو یقینی بنائے بغیر ممکن نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کے plan of action on impunity against journalists کیلئے پاکستان کو پانچ پائلٹ ملکوں میں شامل کیا گیا ہے۔ کیونکہ پاکستان کو صحافیوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ملکوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔ 2009 سے 2014 تک تقریباً 70 صحافیوں کو قتل کیا جا چکا ہے جو کہ اوسطا ایک مہینے میں ایک قتل بنتا ہے۔ یہ تعداد پوری دنیا کے کسی بھی ملک کے اس پیریڈ میں ہونے والے صحافی قتلوں میں سب سے زیادہ ہے اور اس کی سب سے بڑی وجہ قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے مناسب قانون سازی کا نہ ہونا اور صحافیوں کے حقوق کے لیے آواز اٹھانے والی ایسوسی ایشنز کا غیر فعال ہونا ہے۔ 
صحافیوں کے قتل کے علاوہ پاکستان میں گزشتہ دس سالوں میں میڈیا ہاوسز، ان کی گاڑیوں اور ورکرز پر کیے گئے حملے بھی قابل مذمت ہیں۔2014ء میں ایکسپریس نیوز کی DSNG وین پر حملہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں تین لوگ مارے گئے اور میڈیا ہاوس کی گاڑی کو بھی نقصان پہنچا۔ 2015ء میں کراچی کے علاقے لیاقت آباد نمبر 10میں سما ٹی وی کی DSNGوین پر حملہ کیا گیا۔اس کے علاوہ جیو نیوز کی DSNGوین پر بھی حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا۔ 2014ء میں مشتعل ہجوم نے پی ٹی وی کی بلڈنگ پر حملہ کیا۔سامان توڑا اور نشریات بند کر دیں۔اس کے علاوہ دن میڈیا گروپ کے لاہور آفس پر نا معلوم افراد نے کریکر بم سے حملہ کیا۔2013 میں ایکسپریس نیوز کی بلڈنگ پر دو مرتبہ حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں سات لوگ زخمی ہوئے۔2015ء میں کراچی کے علاقے عیسی نگری میں ڈان نیوز کیDSNG وین پر حملہ کیا گیا۔ جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوا۔2014 کے اسلام آباد دھرنے کے دوران متعدد مرتبہ جیو نیوز کی بلڈنگ پر حملہ کیا گیا۔
ان حقائق کے پیش نظر پوری دنیا بلخصوص پاکستان کو صحافیوں کی حفاظت کے لیے مثبت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔ میری ملک پاکستان کے میڈیا ہا وسز اور وزیر اعظم پاکستان سے گزارش ہے کہ وہ سب سے پہلے صحافیوں کی حفاظت کا بیڑہ اٹھائیں اور پوری دنیا کو ایک ایسا لائحہ عمل تیار کر کے دیں جو صحافیوں کی زندگی بہتر بنانے کے لیے مثال بن جائے۔ اس حوالے سے اگر تجاویز درکار ہوں تو بندہ نا چیز اس خدمت کے لیے حاضر ہے۔


ای پیپر