کوئی صورت نظر نہیں آتی
04 نومبر 2018 2018-11-04

ا
بھی ابھی میں اپنی گاڑی ورکشاپ سے لے کر بمشکل گھرتک پہنچا ہوں۔ کسی نہ کسی چوک میں پانچ سات نوعمر اور نوجوان لڑکے، ہاتھوں میں ڈنڈے اٹھائے آنے جانے والے موٹرسائیکلوں، گاڑیوں اور ٹرکوں کو روکے ہوئے تھے۔ یہاں ”تحریک لبیک “ کا کوئی کارکن نہ تھا یہ سب ”لڑکے بالے“ شغلاً بھی ہرگاڑی پر ”سوٹیاں“ برساتے بعض ٹرکوں کو سڑک کے عین درمیان میں کھڑا کرنے پر مجبور کرکے سڑک یا راستے بلاک کرنے کی کوشش کرتے، ٹرک اور گاڑی والے حضرات (عوام ) منت ترلے کرتے مگر ان پر جن میں سبھی 9یا دس برس کے بچے شامل تھے، پر کچھ اثر نہ ہوتا۔
ہماری سوسائٹی کا یوٹرن بھی بلاک کرنے کی کوشش کی گئی میں نے ایک دو نوجوانوں کو کہا کہ ہاﺅسنگ سوسائٹی میں آنے جانے کا راستہ مت روکیں۔ ہم آپ کے ہمنوا ہیں لیکن لوگوں کی مشکلات میں اضافہ نہ کریں۔ پرامن احتجاج عوام کا حق ہے مگر ڈنڈے برسا کر راستوں کو بند کرکے یا آنے جانے والے لوگوں کی گاڑیاں اور موٹرسائیکل حضرات کو مارنا پیٹنا یا ان کی گاڑیوں کو توڑنا جلانا، کہاں کا انصاف ہے۔
نبی آخرالزمان حضرت محمد ﷺ پر ہماری جان بھی قربان ہے۔ ہمارا سب کچھ ان پر نثار لیکن اس طرح عام اور غریب لوگوں کو سخت مشکلات میں ڈالنااور ان کی گاڑیاں نذرآتش کرنا، قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے مترادف ہے۔ اور اسلام میں اس کی کوئی اجازت نہیں ہے۔
ہم تو عدلیہ پر حیران ہیں کہ ایک محفوظ فیصلہ سنانے کے لیے بھی انہوں نے ”کمال دن “ کا انتخاب کیا۔ لوگ غازی علم الدین شہید کا یوم منارہے تھے کہ گستاخی رسول کے الزام میں گزشتہ آٹھ نو برسوں سے قید خاتون کو بری کرنے کا فیصلہ سنا دیا گیا۔ ججوں نے اردو میں فیصلہ لکھ کر اپنے ”قانونی دلائل“ بھی نمایاں کیے کہ مقدمہ میں جھول ہونے کے سبب ملزمہ کو بری کیا گیا۔ لیکن یہاں پڑھے لکھے لوگ کہتے ہیں جو آپ کے دلائل پڑھ کر مطمئن ہوں گے۔ اور اگر ہائی کورٹ نے سزائے موت دی تھی تو انہوں نے بھی مقدمے کا مکمل جائزہ لیا ہوگا۔ ؟
اس وقت ملک جس نازک صورت حال سے دوچار ہے کیا عوام کو سڑکوں پر لاکر اس طرح بد نظمی پھیلا کر ہم اپنا ہی نقصان نہیں کررہے ؟؟ان پڑھ ، نوعمر نوجوانوں کو بعض سیاسی طاقتیں بھی استعمال کریں گی۔ اور تو اور مولانا فضل الرحمن جو اپوزیشن جماعتوں کو حکومت گرانے کے لیے اکٹھا کررہے تھے اور اے پی سی بلانا چاہتے تھے اور کسی حدتک ناکام ہوچکے تھے، آج تو انہوں نے بھی احتجاج کرنے والوں کی حمایت کا اعلان کردیا ہے ۔ محب وطن عدلیہ قانون کے مطابق فیصلے کرتی ہے مگر ایسے حالات میں یہ فیصلہ سن کر کوئی بھی مسلمان خاموش نہیں رہ سکتا۔
ہم عاشقان رسول کے ساتھ ہیں اور حضور ﷺکی نعوذ باللہ توہین کرنے والوں کو کبھی معاف نہیں کرسکتے لیکن جس طرح کا احتجاج اور پر تشدد کارروائیاں ہورہی ہیں ان کی حمایت بھی نہیں کرسکتے۔ عام ریڑھی بان جو پھل فروخت کرکے بچوں کی روٹی روزی کمانے نکلا ہے ، ایک نوجوان موٹرسائیکل پر والدہ کی دوا لینے چلا ہے یا کوئی بھی شخص کسی ضروری کام کے لیے سڑکوں پر نکلتا ہے اس کی موٹرسائیکل، گاڑی کو نقصان پہنچتا ہے پھل فروش کی ریڑھی لوٹ لی جاتی ہے، کسی دکان کو توڑ کر سامان لوٹ لیا جائے یہ تو ملک کے لیے کوئی نیک شگون نہیں۔ پرامن احتجاج ہرشہر میں کیا جائے اس کے لیے مخصوص مقامات متعین کرلیے جائیں مگر ٹریفک جام کرنے کی کسی کو بھی اجازت نہ دی جائے۔ اور یہ جو قائدین ہیں تحریک لبیک، انہیں بھی سیاسی جماعتوں کے ہاتھوں میں استعمال نہیں ہونا چاہیے یہ ملک ان کا بھی ہے یہاں بدامنی انارکی پھیلے گی تو بیرونی طاقتوں کو بھی موقع ملے گا۔ پہلے ہی یہ خطہ جنگ کے لیے تیار کیا جارہا ہے۔ افغانستان میں امریکی فوج موجود ہے یہی نہیں بھارت اور اسرائیلی ایجنسیاں بھی اپنے کام میں لگی ہوئی ہیں، کیا تحریک لبیک کے رہنماﺅں کو جاری کئے گئے فتوے دینے چاہئیں تھے؟۔ ہمارا ذاتی خیال ہے کہ اس طرح کھلم کھلا سینئر ججوں اور پاک آرمی کی قیادت کے خلاف فتوے جاری کرنا، مستحسن بات نہیں۔ اگر فیصلہ ہوا ہے تو اس کے خلاف مل جل کر آواز اٹھانی چاہیے اور نظرثانی کی اپیل ہونی چاہیے۔ ثبوت اور گواہوں کو پیش کیا جانا چاہیے اور عدالت کو مطمئن کرنا چاہیے نہ کہ سڑکوں پر عام لوگوں کی درگت بناکر ان کی گاڑیوں کو نقصان پہنچایا جائے۔ فتح مکہ کے موقع پر سرکار دوعالم حضرت محمد ﷺ نے اپنے لشکر سے واضح کہا تھا کہ بچوں عورتوں پر ہاتھ نہ اٹھایا جائے، درختوں املاک کو نقصان نہ پہنچایا جائے۔ پناہ مانگنے والوں کو پناہ دی جائے، اسلام میں تو کسی بھی ذی روح کو تکلیف نہ دینے کی تلقین کی گئی ہے۔ یہاں لوگ بلوہ کرنے والوں کے منت سماجت کررہے ہیں کہ انہیں جانے دیا جائے مگر ان کی گاڑیوں کو توڑا جارہا ہے۔
ہم اس طرح کے احتجاج کی حمایت نہیں کرتے جہاں عام لوگوں کو تکلیف پہنچائی جائے۔ خدا را دوسروں کی تکالیف کا احساس کریں۔ سرکاری غیر سرکاری املاک اور عوام الناس کی دکانوں، گاڑیوں کو نشانہ مت بنائیں۔ پچھلی حکومت نے توہین رسالتﷺ کے قوانین کو تبدیل کرنے کی کوشش کی تھی سواس وقت حکومت وقت کے خلاف احتجاج بنتا تھا۔ اس بارتو حکومت نے ایسا کوئی کام نہیں کیا۔ فیصلہ عدالت نے سنایا ہے تو حکومت کو مورد الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔ فوج نے تو تحریک لبیک کے اسلام آبادکے دھرنے میں حکومت کو آپریشن سے روکا تھا۔ وجہ یہ تھی کہ اسلام آباد میں وہ دھرنا توہین رسالت قوانین میں تبدیلی کے خلاف تھا۔ اور نبی کریمﷺسے عشق کرنے والے اس قانون میں کوئی تبدیلی کرنے کی اجازت نہیں دیتے۔ لیکن اس بار تحریک لبیک کے رہنما نے چیف آرمی کے خلاف فتویٰ دیا جس پر حیرت ہوئی ہے۔
اب یہ بھی سوشل میڈیا پر چل رہا ہے کہ تحریک لبیک انتخابات میں دھاندلی کا حساب بھی لے گی۔ ادھر حکومت موبائل سروس کو فوراً بند کردیتی ہے۔ مسائل کے حل کے لیے ضروری اقدامات نہیں کیے جاتے ، ہم احتجاج کے حق میں ہیں۔ مگر صرف اتنی گزارش ہے کہ ہر شہر میں ایک مخصوص علاقہ احتجاج کے لیے مختص کیا جائے اور باقی سڑکوں کو بالکل بلاک نہ کیا جائے۔ پرامن احتجاج کریں کہ یہ احتجاج درود وسلام کی محافل میں بدل جائے۔ ڈنڈے سوٹے لے کر نہتے شہریوں کو آنے جانے میں تکلیف نہ دیں بلکہ ان کے راستوں کی روانی ہر حال میں برقرار رکھیں۔ اس کی خلاف ورزی کرنے والوں کو اپنی صفوں میں نکال کر پولیس کے حوالے کریں۔
اسلام امن ومحبت سکھاتا ہے کسی کو بے وجہ تنگ کرنا منع ہے۔ خاص طورعوام الناس جس عمل سے اذیت سے دوچار ہوں ایسے کاموں سے دور رہنا ضروری ہے۔ اور دین سے گہرا تعلق اور دینی معاملات میں زیادہ سوجھ بوجھ رکھنے والوں کو تو ان باتوں کا زیادہ علم ہے انہیں نوجوانوں کی تربیت کرتے ہوئے بتانا چاہیے کہ پرامن احتجاج کا کیا مطلب ہوتا ہے؟۔
اب سڑکیں بند ہونے سے سبزیاں پھل مارکیٹ تک نہیں پہنچ پائے دکانیں بھی بند ہیں پیٹرول کی سپلائی معطل ہے کہ سڑکیں بند ہیں۔ سو سارا نظام حیات معطل ہوکر رہ گیا ہے۔ خدا کرے مذاکرات کامیاب ہوں اور زندگی پھر سے رواں دواں ہو جائے فی الوقت یہ حال ہے کہ بقول شاعر
کوئی صورت نظر نہیں آتی


ای پیپر