Iran,Israel,Joe Biden,Biden administration, US President, drone strikes, war-torn areas, Iraq, Afghanistan
04 May 2021 (16:21) 2021-05-04

واشنگٹن:حالیہ دنوں میں کئی سفارتی رابطوں کے بعد امریکہ اور ایران کے درمیان بلاواسطہ بات چیت میں پیش رفت کی اطلاعات ہیں جن سے دونوں ملکوں کے درمیان کسی معاہدے کے قریب پہنچ جانے کی قیاس آرائیاں بڑھ گئی ہیں۔

میڈیا رپورٹس میں اس بات کی قیاس آرئیاں کیں جا رہی ہیں کہ بائیڈن انتظامیہ 2015 کے ایران کیساتھ کیے گئے جوہری معاہدے بدلے کون کونسی مراعات دے گا ۔

ممکنہ طور پر  ان میں ایران کے خلاف عائد اقتصادی پابندیوں کا سلسلہ وار خاتمہ شامل ہے۔  قیدیوں کے تبادلے کے حوالے سے ایک معاہدے کی خبریں بھی سامنے آئیں۔

امریکی اہلکاروں نے ان خبروں کی فوری طور پر تردید کرتے ہوئے انہیں قبل از وقت اور غلط قرار دیا۔ بائیڈن انتظامیہ نے البتہ تسلیم کیا ہے کہ ویانا میں جاری مذاکرات میں محدود پیش رفت ہوئی ہے۔

واضح رہے چند روز قبل امریکی حکام نے ویانا میں ہونے والے اجلاس میں ایرانی حکام کے ساتھ ممکنہ طور پر اٹھائی جانے والی پابندیوں کی تفصیلات شیئر کی تھیں ،امریکہ اور ایران نے جوہری معاہدے کی ازسر نو بحالی کےلیے بالواسطہ مذاکرات کا دوسرا مرحلہ مکمل کرلیا ہے۔ 

سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے معاہدے کو 2018 میں واپس لے لیا تھا۔ اس معاہدے کے نتیجے میں تہران اپنے جوہری پروگرام میں تھوڑی تخفیف کرکے کچھ پابندیوں میں نرمی کا خواہش مند ہے۔


ای پیپر